کوڈین

اہم قسم

کوڈین ایک مسکن دوا ہے جو پوست سے حاصل کی جاتی ہے۔ طبی طور پر اس کے بنیادی استعمال میں درد سے نجات ہے، تاہم اس کو دیگر تکالیف مثلاً اسہال، کھانسی اور ہلکی سوجن کے علاج کے لئے بھی استعمال کروایا جاتا ہے۔ زیادہ مقدار میں استعمال سے یہ مسحورکن احساس کو پیدا کرتی ہے، اور اگر اس کو درد میں آرام دینے والی خوبیوں کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ ایک ایسی دوا ہے جس کے غلط استعمال ہونے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں اور کوڈین کی علت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے لمبے عرصے تک استعمال کرنے سے عادی فرد ہ پر خراب اثرات پڑتے ہیں۔

پیپروین اور مارفین کے ساتھ کوڈین بھی پوست میں پایا جانے والا ایک فعال جز ہے اور جس کو پہلی مرتبہ انیسویں صدی میں فرانس میں الگ کیا گیا۔ یہ فارفین کی طرح طاقتور تو نہیں ہے، تاہم پھر بھی یہ پوری دنیا میں بہت عام مُسکن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کو ایک جُز کے طور پر کھانسی کے شربتوں اور گولیوں میں استعمال کیاجاتاہے۔ بہت سے ممالک میں یہ صرف ڈاکٹری نسخے پر ہی دستیاب ہے، حالانکہ کچھ ممالک میں کوڈین کی بنائی گئی مصنوعات کو براہ راست دوکان سے بھی خریدا جا سکتا ہے۔ اپنی آسان دستیابی کے باعث اس کا غلط استعمال قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صحت کے پیشہ سے وابسطہ افراد کے لئے یہ پوری دنیا میں ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

کوڈین کے ضمنی اثرات بہت خطرناک ہوتے ہیں، اور یہ اس صورت میں اور بھی خطرناک ہو جاتے ہیں اگر اس کو بڑی مقدار میں یا کسی دوسرے مواد مثلاً الکوحل وغیرہ سے ملا کر استعمال کیا جائے۔ ان میں کھجلی، ذہنی دباؤ، متلی، سردرد، اور غنودگی شامل ہیں۔ کچھ معاملات مٰیں شدید قسم کی الرجی کا ردِ عمل بھی ہو سکتا ہے جس میں سوجن، سانس کی تکلیف اور شدید معاملات میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ اندرونی اعضا یعنی جگر اور گردوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

چاہے اس کو طبی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے یا تفریحی مقاصد کے لئے، اگر اس دوا کی علت ہو جائے تو کوڈین کو بند کرنے کی صورت میں چھوڑنے کی علامات میں چڑچڑاپن، متلی، طلب، پسینہ آنا اور نیند کے مسائل ہو سکتے ہیں۔

دیگر اقسام

Types

دیگر اقسام

طبی طور پر اس کے فوائد کے باعث، کوڈین کے غلط استعمال پر قانونی پابندی بہت مشکل ہوتی ہے۔ دوکانوں پر دستیابی کے باعث اس کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ اس کو بلیک مارکیٹ میں بیچا جائے یا غیرقانی طور پر اسمگلنگ کی جائے۔ اس کے عادی افراد کوڈین کو عموماً دھوکے سے حاصل کرتے ہیں، یعنی بیماری کی علامات کا بہانہ بنا کر نسخہ حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ان لوگوں سے چرا بھی سکتے ہیں جن کے پاس کوڈین کی رسد کی قانونی وجہ ہوتی ہے۔

کوڈین عام طور پر دواساز کمپنیوں کی جانب سے بنائی جاتی ہے، اور عام طورپر اس کو ایک جُز کے طور پر ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس کے لئے کوئی عام بازاری نام نہیں ہیں، اور اس کو ان برانڈ ناموں سے پکارا جاتا ہے جس میں اس کا استعمال ہوتا ہے یا اس کو محض “کوڈین” کہا جاتا ہے۔ ان برانڈز ناموں میں چند کے نام یہ ہیں Tylenol, Paracod اور Empiri، اس کے علاوہ کوڈین کئی اقسام کی دیگر طبی ادویات میں بھی پائی جاتی ہے۔

جو لوگ اس دوا کا غلط استعمال کرتے ہیں وہ اس کو غیررسمی طور سے “کوڈی”، “کیپٹن کوڈی” یا “سکول بوائے” کے ناموں سے بھی جانتے ہیں۔ کیوں کہ اس دوا کو بڑے پیمانے پر گلی کوچوں میں فروخت نہیں کیا جاتا اس لئے یہ اصطلاحات زیادہ عام نہیں ہیں۔

کوڈین پوری دنیا میں دستیاب ہے، پوست میں قدرتی طور پ بھی پائی جاتی ہے تاہم عام طور پر دواساز ادارے اس کو مصنوعی طریقے سے بھی بناتے ہیں۔

اہم اثرات

Effects

اہم اثرات

کوڈین کو عام طور پر طبی قانونی مقاصد کے لئے درد سے آرام دینے والی ادویات اور کھانسی کی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت قلیل مقدار میں ڈاکٹر اس کو درد کی تکلیف کو کم کرنے کے لئے براہِ راست بھی استعمال کرواتے ہیں۔ تاہم ایک مسکن ہونے کے باعث، کوڈین کو بڑی مقدار میں استعمال کرنے سے مسحور کن احساس بھی جنم لے سکتاہے۔ یہ اثرات کم ہونے میں چند گھنٹے لیتے ہیں۔

کوڈین کے ساتھ منفی اثرات بھی پائے جاتے ہیں جن میں منہ کی خشکی، متلی، پیٹ کا درد، قبضی، کھجلی، غنودگی، پیشاب میں دقت اور جنسی خواہش میں کمی شامل ہیں۔ بعض استعمال کنندوں میں کوڈین کے باعث الرجی بھی ہو سکتی ہے،جس کی علامات میں سوجن، بے ہوشی اور جھٹکے شامل ہیں۔ کوڈین کو زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے پھیپھڑے اپنا کام پوری طرح نہیں کر پاتے اور سانس لینے میں دقت ہونے لگتی ہے، جو شدید حالت میں موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ کوڈین کے خراب اثرات اس وقت اور بھی بدتر ہوجاتی ہیں جب اس کو کسی دوسرے مواد، خاص طور سے الکوحل سے ملایا جاتا ہے۔

کوڈین نفسیاتی اور جسمانی دونوں طرح سے عادی بناتی ہے اور لمبے عرصے تک استعمال کرنے سے استعمال کنندہ اسکے اثرات کی اپنے اندر قوتِ برداشت پیدا کر لیتا ہے اور نتجتاً وہ دوا پر انحصار کرنے لگتا ہے۔جب کوئی استعمال کنندہ اس کو لینا بند کر دیتا ہے تو چھوڑنے کی علامات میں طلب، پسینہ آنا، نیند میں مشکلات، متلی، اسہال، پٹھوں کا اکڑاؤ اور چڑچڑا پن شامل ہیں۔ شدید علت کی صورت میں استعمال کنندہ کی جانب سے دوا بند کردینے کے کئی ماہ تک چھوڑنے کی علامات جاری رہ سکتی ہیں۔ شدید بیماریوں میں کوڈین کی درد میں آرام دینے والی خوبیاں بھی کسی کو اس پر انحصار کی طرف لے کر جا سکتی ہیں۔

لمبے عرصے تک کوڈین کا استعمال اندرونی اعضا یعنی جگر اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور یہ خطرات اس سے اور بھی بڑھ جاتے ہیں جب اس کو دیگر ادویات مثلاً پیراسیٹامول سے ملایا جاتا ہے۔ کوڈین ماؤں اور حاملہ خواتین کے لئے بھی نقصان دہ ہے کیوں کے یہ ماں کے دودھ میں شامل ہو کر نومولود بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

پیداواری مُمالک

Effects

اہم اثرات

کوڈین کو عام طور پر طبی قانونی مقاصد کے لئے درد سے آرام دینے والی ادویات اور کھانسی کی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت قلیل مقدار میں ڈاکٹر اس کو درد کی تکلیف کو کم کرنے کے لئے براہِ راست بھی استعمال کرواتے ہیں۔ تاہم ایک مسکن ہونے کے باعث، کوڈین کو بڑی مقدار میں استعمال کرنے سے مسحور کن احساس بھی جنم لے سکتاہے۔ یہ اثرات کم ہونے میں چند گھنٹے لیتے ہیں۔

کوڈین کے ساتھ منفی اثرات بھی پائے جاتے ہیں جن میں منہ کی خشکی، متلی، پیٹ کا درد، قبضی، کھجلی، غنودگی، پیشاب میں دقت اور جنسی خواہش میں کمی شامل ہیں۔ بعض استعمال کنندوں میں کوڈین کے باعث الرجی بھی ہو سکتی ہے،جس کی علامات میں سوجن، بے ہوشی اور جھٹکے شامل ہیں۔ کوڈین کو زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے پھیپھڑے اپنا کام پوری طرح نہیں کر پاتے اور سانس لینے میں دقت ہونے لگتی ہے، جو شدید حالت میں موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ کوڈین کے خراب اثرات اس وقت اور بھی بدتر ہوجاتی ہیں جب اس کو کسی دوسرے مواد، خاص طور سے الکوحل سے ملایا جاتا ہے۔

کوڈین نفسیاتی اور جسمانی دونوں طرح سے عادی بناتی ہے اور لمبے عرصے تک استعمال کرنے سے استعمال کنندہ اسکے اثرات کی اپنے اندر قوتِ برداشت پیدا کر لیتا ہے اور نتجتاً وہ دوا پر انحصار کرنے لگتا ہے۔جب کوئی استعمال کنندہ اس کو لینا بند کر دیتا ہے تو چھوڑنے کی علامات میں طلب، پسینہ آنا، نیند میں مشکلات، متلی، اسہال، پٹھوں کا اکڑاؤ اور چڑچڑا پن شامل ہیں۔ شدید علت کی صورت میں استعمال کنندہ کی جانب سے دوا بند کردینے کے کئی ماہ تک چھوڑنے کی علامات جاری رہ سکتی ہیں۔ شدید بیماریوں میں کوڈین کی درد میں آرام دینے والی خوبیاں بھی کسی کو اس پر انحصار کی طرف لے کر جا سکتی ہیں۔

لمبے عرصے تک کوڈین کا استعمال اندرونی اعضا یعنی جگر اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور یہ خطرات اس سے اور بھی بڑھ جاتے ہیں جب اس کو دیگر ادویات مثلاً پیراسیٹامول سے ملایا جاتا ہے۔ کوڈین ماؤں اور حاملہ خواتین کے لئے بھی نقصان دہ ہے کیوں کے یہ ماں کے دودھ میں شامل ہو کر نومولود بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

حقائق اور اعدادوشمار

Facts

حقائق

  • کوڈین پوری دنیا میں سب سے زیادہ مُسکن دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اس کو عام طور پر طبی اسباب کے لیے ہلکے اور درمیانے درد اور کھانسی کی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو اسہال اور پیٹ کی خرابی کے لئے بھی استعمال کیا جاتاہے۔
  • کچھ ممالک میں یہ مکمل طور پر قانونی ہے اور بعض میں محض نسخے کے ساتھ دستیاب ہے۔ اسطرح اس کا حصول نسبتاً سہل ہے اور یہی سبب ہے کہ دوا کے عادی افراد کے لئے یہ ایک آسان ہدف ہوتی ہے اور عادی لوگ کوڈین کو دھوکہ دہی یا کسی دوسرے سے چرا کر حاصل کر لیتے ہیں۔
  • درد میں سکون دینے کی خوبیوں کے باعث، زیادہ مقدار میں کوڈین کا استعمال مسحورکن احساس پیدا کر سکتا ہے۔
  • تاہم اس کے کئی خراب ضمنی اثرات بھی ہو سکتے ہیں جن میں متلی، غنودگی، کجھلی اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔
  • یہ جسمانی اور نفسیاتی دونوں طرح سے عادی بناتی ہے۔ اور مسلسل غلط استعمال سے استعمال کنندہ اس کے اثرات کو برداشت کرنے کی قوت پیدا کر لیتا ہے، جس کے باعث استعمال کنندہ کو پہلے جیسے اثرات کے حصول کے لئے اس کے زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے۔
  • کوڈین قدرتی طور سے افیون کی پوست میں پائی جاتی ہے اور اس کو پہلی مرتبہ فرانسیسی کیمادان نے 1832 میں علہدہ کیا تھا۔ افیون میں پائی جانے والی ایک اور چیز مورفین سے کوڈین بہت کم طاقتور ہے۔
  • مصنوعی طریقے سے کوڈین بنانے کی تینکینک کو پہلی مرتبہ 1970 میں امریکہ میں دریافت کیا گیا، اور اب اس عمل سے آج کل بڑی مقدار میں کوڈین پیدا کی جاتی ہے۔
  • اپنی آسان دستیابی کے باعث، اس کا غیرقانونی کاروبار بہت کم ہوتا ہے۔ تاہم یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ممالک جہاں قوانین اتنے سخت نہیں ہیں وہاں سے بڑی مقدار میں کوڈین کو دوسرے ممالک میں اسمگل کی جاتی ہے۔

Stats

اعدادوشمار

  • کوڈین کو کھانے کے بعد اسکے اثرات 15-30 منٹوں کے دوران ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور دوا کی خورا ک کے مطابق یہ 6 گھنٹوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔
  • ایک اندازے کے مطابق کوڈین اور نسخوں کے غلط استعمال کی مد میں امریکی شہر یوں کو سالانہ 484 ارب ڈالروں کی لاگت برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اس میں صحت عامہ کی لاگت، کام پر نہ جا سکنے کی لاگت، گاڑیوں کے حادثات کی لاگت اور پولیس اور اس دوا کو محدود کرنے کی لاگت شامل ہے۔
  • ہانگ کاک میں کوڈین کا غیرقانونی کاروبار کرنے یا بغیر لائسنس کے اس کو بنانے کی سزا 5,000,000 ہانگ کانگ ڈالر کا جرمانہ اور عمر قید ہے۔ غیرقانونی طور قبضے میں رکھنے کی سزا 1،000،000 ہانگ کانگ ڈالر کا جرمانہ اور 7 برس تک قید کی سزا ہے۔
  • اس کا انحصار اس پر ہی ہے کہ اس کو کس چیز کے ساتھ ملایا جاتا ہے،لیکن سِنگل کنوینشن آن نارکوٹک ڈرگز کے مطابق کوڈین کا شمار پوری دنیا میں شیڈیولII یا شیڈیول IV میں ہوتا ہے۔
  • ڈینمارک میں 9.6mg کی مقدار کی کوڈین کو بغیر نسخے کے فروخت کیا جاسکتاہے، لیکن یہ بھی صرف دوسر ی ادویات کے مرکب کے ساتھ، طاقتور مقدار کے لئے نسخہ درکار ہوتا ہے۔
  • کوڈین کی طاقت کے بارے موٹے طور سے اندازہ لگا یا جاتا ہے کے یہ مورفین کی طاقت کے 8-12% تک ہے، لیکن یہ بھی ہر شخص کے لئے الگ الگ ہے اور اس کا انحصار بھی لوگوں کی قوت برداشت پر ہے۔
  • منہ کے ذریعے لی جانے والی کوڈین کی 200mg کی خوراک درد میں آرام دینے کا اتنا اثر دکھائے گی جتنا مورفین کی 30mg۔ تاہم، عام طور سے اس کو 60mg سے زیادہ مقدار کی خوراک میں استعمال نہیں کروایا جاتا اور 24 گھنٹوں کے دوران 240mgسے زیادہ استعمال نہیں کروائی جاتی۔
  • سال 2010 میں ایک اندازے کے مطابق 16 ملین امریکیوں بتایا کہ انہوں نے نسخے میں ملنے والی ادویات کو تفریح کے لئے استعمال کیا۔ جس میں سے ایک مہنیے میں 7 ملین تک بھی تھا۔

علت کی علامات

Addiction Sings

علت کی علامات

کوڈین کا ادویات میں استعمال قانونی ہے، اور اس کو عام طور پر درد سے آرام دینے کے لئے تجویز کیا جاتا ہے۔ اس لئے اس بات کا تعین بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ کب اس کا استعمال درست طریقے سے ہو رہا ہے اور کب اس کو غلط طریقے سے استعمال کیا جا رہاہے، لیکن دوا پر انحصار وہ شخص کرتا ہے جو اس کو عام طور سے استعمال کر رہا ہے۔ کوڈین کے غلط استعمال کا بنیادی سبب اس سے پیدا کردہ مسحور کن احساس کا حصول ہوتا ہے ۔ تاہم اس کی دیگر اور بھی علامات ہیں جن کو پرکھا جا سکتا ہے۔ ان میں متلی، سردرد، کھجلی، جنسی عمل می عدم دلچسپی اور منہ میں خشکی وغیرہ۔ یہ علامات اس صورت میں اور بھی خراب ہو سکتی ہیں جب اس کو الکوحل کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

کوڈین کا شدید غلط استعمال جسمانی اور نفسیاتی انحصاری دونوں کی صور ت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جیسے جیسے جسم دوا کے اثرات کو برداشت کرنے کی قوت پیدا کرلیتاہے تو پہلے جیسے اثرات کے حصول کے لئے زیادہ مقدار میں دوا کی خوراک کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر دوا استعمال نہیں کی جا رہی تو چھوڑنے کی علامات بھی پائی جا سکتی ہیں۔ جو کہ ان ادویات کے مقابلے میں قدرے کم ہونگی جو زیادہ طاقتور مُسکن ہوتی ہیں، ان علامات میں ناک سے پانی بہنا، نیند کی خرابی، پسینہ آنا، متلی اور چڑچڑاپن شامل ہیں۔

کوڈین کو کئی اقسام کی تکالیف کے لئے دوکانوں سے خریدا جا سکتا ہے، لیکن زیادہ طاقتور صرف ڈاکٹر کے نسخے پر ہی دی جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں کے پاس زیادہ جانا یا دوائوں کے دوکان پر زیادہ جانا ممکنہ طور پر علت کی علامت ہو سکتی ہے۔ ہر بار دوائوں کی مختلف دوکان پر جانا بھی پریشان کن ہونا چاہئے۔ کیوں کہ عادی افراد کی شک سے بچنے کی یہ ایک عام حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ دیگر لوگوں کے لئے طبی اسباب سے موجود کوڈین کی رسد میں بغیر کسی سبب کے کمی واقع ہو جانا بھی دواکے غلط طور استعمال ہونے کی ایک علامت ہے۔

علاج

Treatment

علاج

کسی حد تک کوڈین کی علت سے اپنے اندر برداشت پیدا کرکے بھی نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔تاہم سنجیدہ علت سے بحالی بہت مشکل ہو سکتی ہے اور اس کے لئے پیشہ ورانہ طبی ماہرین کی امداد حاصل کرنے سے بحالی کے زیادہ امکانات ہیں۔ دوا بند کرنے کے بعد بھی چھوڑے جانے کی علامات کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہیں، اور بعض اوقات یہ کئی سالوں تک بھی جاری رہ سکتی ہیں۔ اور اس کی آسان دستیابی کے باعث عادی افراد اس کی لت میں دوبارہ گرفتار ہو سکتے ہیں۔

یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ کوڈین کی علت سے بحالی کے لئے کوشش کرنے سے پہلے کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرلیا جائے۔ چھوڑے جانے کے اثرات جیسا کہ متلی، نیند کے مسائل کا علاج کیا جا سکتاہے اور امداد فراہم کرکے مکمل صحتیابی کے امکانات کو بڑھایا جا سکتاہے۔ اندورنی اعضا یعنی جگر اور گردوں کو بھی نقصان پہنچ سکتاہے، ضروری نہیں ہے کہ اعضا کو نقصان کوڈین سے پہنچے بلکے ان کو ان موادوں سے نقصان کا اندیشہ ہے جن میں کوڈین کو ملایا جاتا ہے جیسکہ پیراسیٹامول وغیرہ۔ یہی سبب ہے کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ نقصان کا اندازہ لگایا جائے اور انکے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔

خیال کیا جاتا ہےکہ کوڈین کی علت سے نجات کی بہتر صورت یہ ہے کہ اچانک بند کر کے چھوڑائے جانے کی علامات کے خطرے کو مول لینے کے بجائے اس کا استعمال بتدریج کم کیا جائے۔ تاہم اس کے بھی اپنے مسائل ہیں۔ لمبے عرصے تک استعمال سے جسم اس کے برداشت کرنے کی اپنے اندر قوت پیدا کر لیتا ہے، اور اگر دوا کو دردکم کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہاتھا تو عادی شخص دوبارہ علت کی طرف واپس جا سکتاہے یا وہ اپنی تکلیف میں کمی کے لئے زیادہ نقصان دہ مواد کی جانب بھی جا سکتا ہے۔ اس لئے یہ بہتر ہوتا ہے کہ نفسیاتی علاج کے ذریعے اندازہ لگایا جائے کہ یہ علت کسطرح پیدا ہوئی اور اس کو ختم کرنے کا بہتر طریقہ کیا ہو سکتاہے۔

Treatment

علاج

اس اصل وجہ کو ٹھیک کرنا جس کے باعث کوئی شخص کوڈین پر انحصاری کرنے لگا ہے موّثر ہو سکتاہے تاہم ایک عادی شخص نفسیاتی طور سے بھی کوڈین کو غلط طور سے استعمال کرنے کا عادی ہو سکتا ہے، چاہے اس کو درد ہو یانہ ہو۔ اس بات کو یقینی بنانا کہ عادی فرد کوڈین حاصل نہ کر سکے اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ کیوں کہ جس طرح آسانی سے کوڈین کو دھوکے بازی کے نسخوں یا بیماریوں کے بہانے بنا کر حاصل کیا جا سکتاہے، علت کے علاج کے لئے مشکل ثابت ہوسکتاہے۔ اس بات کے امکان کو کم کرنے کے لئے کہ کوئی عادی شخص کوڈین کی اس رسد کو چوری نہ کرے جو کسی دوسرے کے استعمال کے لئے ہیں تو ایسی صورت میں ان کو عادی شخص کی پہنچ سے دور رکھا جائے۔

بحالی کے رہاےئشی مراکزمیں رہ کر علت کا علاج کروانا تمام تر مریضوں کے لئے تو ضروری نہیں ہوتا لیکن کوڈین کی علت میں مبتلا شدید نوعیت کے معاملات میں، بحالی کے مراکز جسمانی اور نفسیاتی دونوں طرح کی علتوں میں امداد فراہم کر سکتے ہیں۔ ہو سکتاہے کہ کسی علت میں مبتلا شخص کے کوئی ذاتی مسائل ہوں جن کے باعث وہ علت میں مبتلا ہوا ہو مثلاً روزگار کے ، یا عام خوشگوار زندگی کے تو اصل میں ان مسائل سے نبٹا چاہیئےتاکہ یہ دوبار علت میں مبتلا نہ ہوں۔

کوڈین دیگر مُسکن ادویات مثلاً مارفین وغیرہ جتنی شدید علت پیدا کرنے والی دوا نہیں ہے، تاہم پھر بھی اس کی علت سے نجات حاصل کرنا بہت مشکل ہو سکتاہے۔اس لئے مشورہ دیا جاتاہے کہ علت سے بحالی سے پہلے کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرلیا جائے کیوں کہ وہ اس میں مدد فراہم کر سکتاہے، چھڑوائے جانے کی علامات کو ٹھیک کرسکتاہے یا وہ عادی شخص کو کسی بحالی کے مرکز بھی بھجواسکتاہے۔