ڈی ایم ٹی

اہم قسم

ڈی ایم ٹی، جس کو ڈائم تھِل ٹرایپٹامائین کے طور پر بھی جانا جاتاہے ایک ہالو سینوجینک یا مُخَدِّر دوا ہے جو قدرتی طور پر پودوں اور چند جانوروں بشمول انسانوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کو مصنوعی طور پر بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔منشیات استعمال کرنے والے اس کو شعور ربائی اثرات کے لئے استعمال کرتے ہیں، جو دوسری منشیات جیساکہ ایل ایس ڈی اور میجک مشروم سے مشابہ ہیں۔ اس سے استعمال کرنے والا فریبِ نظر یا حقیقت کو بگڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس کا انحصار تو دوا کی مقدار پر ہوتا ہے تاہم اس کے اثرات دو سے تین گھنٹے تک جاری رہ سکتے ہیں اور ان میں مزہ بھی آتا ہے۔ ”بیڈٹِرپ“ کسی استعمال کرنے والے کے لئے ایک انتہائے صدمے کی کیفیت ہو سکتی ہے۔’’ٹرِپنگ‘‘سے مراد وہ دیکھے جانے والے اور سنے جانے والے تجربات ہیں جو استعمال کنندہ کے لاشعور سے آتے ہیں اس میں استعمال کنندوں کو وہ چیزیں دکھائی دیں گی اور آواز سنائی دیں گے جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوگا۔

اس کودھواں اندر کھینچ کر’ دم کش طریقے سے، منہ کے ذریعے یا سوئی کے ذریعے جسم میں داخل کرکے بھی استعمال کیا جا سکتاہے۔ تاریخی طور پر یہ جنوبی امریکہ کے کلچر میں بہت زیادہ عرصے سے استعمال کی جارہی ہے۔ اور آج بھی بعض مقامات پر اس کو مذہبی یا روایتی طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔ قدرتی طور پر پودوں سے نکلنے کے باعث بعض لوگ اس کے استعمال کو محفوظ تصور کرتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر دیگر کئی منشیات سے موازنہ کیا جائے تو ڈی ایم ٹی کو تفریحی مقاصد کے لئے شاذ و ناذر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو کیمیائی طور پر علت میں مبتلا کرنے والی منشیات نہیں سمجھا جاتا، تاہم مسلسل استعمال سے استعمال کنندہ اس کے لئے اپنے اندر قوتِ برداشت پیدا کر لیتا ہے اور یوں آگے چل کر ان کو زیادہ مقدار کی ضرورت پڑتی ہے۔

ڈی ایم ٹی دستیاب منشیات میں سب سے زیادہ پابندیوں کا شکار ہےاور بعض ممالک میں سخت طور پر غیرقانونی ہے اور اس کو صرف طبی مقاصد کے لئے یا سائنسی تحقیقات کے لئے محدود کردیا گیا ہے۔ بین الاقوامی طورپر اس کی درجہ بندی شیڈولI میں کی جاتی ہے اور یہ درجہ بندی کا سب سے اونچا درجہ ہے۔ بہت سے لوگ ڈی ایم ٹی کے بارے میں آگاہی نہیں رکھتے اور سائنسی اور طبی حلقوں سے باہر بہت کم لوگ اس کے بارے میں جانتے ہیں، یہی سبب ہے کہ اس کی پیداور یا غیرقانونی تجارت بھی حیران کن حد تک کم ہے۔

اس کے اثرات ہر شخص پر الگ الگ ہوتے ہیں اور شعور ربائی کے اثرات کا تجربہ فرد واحد کے ذہن اور لاشعور پر ہوتاہے۔ اس لحاظ سے ڈی ایم ٹی ان افراد کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جن کو ماضی میں ذہنی مسائل رہے ہیں۔ یہ بھی عام طور سے سننے میں آتا ہے کہ بیڈ ٹرِپ کی کیفیت میں دہشت ذدہ حالت میں استعمال کنندہ اپنے آپ کو بہت شدید نقصان پہنچا لیتا ہے۔

دیگر اقسام

ڈی ایم ٹی ڈائم تھِل ٹرایپٹامائین کا مخفف ہے اور حیران کُن حد تک اس کے بہت ہی کم بازاری نام ہیں۔ اس کا سب سے اہم سبب شاید اس کی کمیابی ہے، اور یہ بھی کہ اس منشیات کے بہت سے ممکنہ طور استعمال کرنے والوں کو یہ علم ہی نہیں کہ اس طر ح کی کوئی منشیات وجود بھی رکھتی ہے۔ جس طرح کی عوامی پزیرائی دیگر شعوررُبا موادوں جیسا کہ ایل ایس ڈی اور میجک مشروم کو ملی ہے اس طرح کی اس کے حصے میں نہیں آئی ہے اور یہ بھی کہ اس کو بنانا اور حاصل کرنا بھی بہت مشکل ہے۔

برطانیہ میں غیر رسمی طور سے اس کو ”دمتری“ کہا جاتا ہے۔ ڈی ایم ٹی سے وابسطہ کئی اصطلاحات کا تعلق خود منشیات سے زیادہ، ان اثرات سے ہے جو یہ منشیات پیدا کرتی ہے۔ اگر دوسری شعوررُبا منشیات سے مقابلہ کیا جائے تو ڈی ایم ٹی بہت مختصر دورانیہ کا دورہ پیدا کرتی ہے اور بعض مرتبہ اس کو ”بزنس مینز ٹرپ“ بھی کہا جاتا ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ یہ محض اتنی دیر قائم رہتا ہے جتنی دیر میں کوئی کاروباری کھانے کا وقفہ ہوتا ہے۔

اہم اثرات

ڈی ایم ٹی کے اثرات ہر شخص کے لئے الگ الگ ہوتے ہیں۔ تمام تر شعوررُبا ادویات کے تجربات ہر شخص کے اپنے لاشعور کی پیدوار ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ٹرِپنگ کے دوران وہ جو بھی تجربہ کرتے ہیں تقریباً یقینی طور پران کا اپنا ذاتی تجربہ ہوتاہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم ڈی ایم ٹی کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں وہ محض قصے کہانیاں ہی ہیں۔

استعمال کنندہ جو دکھائی دینے والے اور سنے جانے والے فریبِ نظر محسوس کرتا ہے ان کے ساتھ ممکنہ طور پر مسحورکُن احساس بھی ہوتا ہے۔ یہ استعمال کنندہ کے وقت گزرنے کے احساس کو بھی بدل دیتا ہے جس سے وقت یا تو تیزی سے گزرتا ہوا معلوم ہوتا ہے یا بہت آہستہ۔ یہ ان کے رنگ اور آواز کے ادراک کو بھی تبدیل کر دیتا ہے۔ ڈی ایم ٹی فشارِ خون اور دل کی رفتار کو بھی کچھ تیز کردیتاہے اور اس سے آنکھوں کی پتلیاں پھیل جاتی ہیں۔ بظاہر دیکھ کر اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ ڈی ایم ٹی کتنی طاقتور ہے، تاوقتیکہ اسے استعمال نہ کرلیا جائے۔

ڈی ایم ٹی ان لوگوں کے لئے انتہائے خطرناک ہو سکتی ہے جن کو پہلے سے کوئی ذہنی بیماری ہو یا وہ لوگ جو ٹرپ میں متفکر یا مضطرب حالت میں چلے جائیں ۔ بعض استعمال کنندوں میں یہ پہلے سے نامعلوم یا پوشیدہ ذہنی مسائل کو مہمیز دے کر ان کی یلغار بڑھا بھی سکتی ہے۔ پریشانی اور بے چینی کے اس احساس میں ٹرِپ کے دوران مزید اضافہ ہو سکتا ہے، نتیجتاً یہ ایک حقیقتاً خوفناک اور ڈراؤنا تجربہ ہو سکتا ہے جس کے ساتھ متلی اور الٹی بھی ہو سکتی ہے۔ ڈی ایم ٹی کے زیرِ اثر اگر استعمال کنندہ بیڈٹرپ کا تجربہ کرے تو وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو نقصان پہنچا سکتا ہےاور ایسی صورت میں ممکنہ خودکُشی کا بھی خطرہ ہو سکتاہے۔ ایک مرتبہ اگر ٹرِپ شروع ہو جائے تو اس کو بند کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے تاوقتیکہ منشیات کے اثرات زائل نہ ہو جائیں۔

ڈی ایم ٹی کے مضر ضمنی اثرات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے اثر زائل ہو جانے کے بعد بھی بعض استعمال کنندوں نے ٹرِپ کی کیفیت کے عود آنے کی شکایت کی ہے۔ یہ ان صورتوں میں نہایت ناگوار ہو سکتا ہے اگر کسی نے بیڈٹرِپ کا تجربہ کیا ہو۔

پیداواری مُمالک

ڈی ایم ٹی ایک انتہائی نایاب نشہ ہے اور اس کی تقسیم سخت حکومتی کنٹرول میں کی جاتی ہے۔ عام طور پر اس تک رسائی تحقیقاتی مقاصد لئے سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کو ہوتی ہے یا پھر طبی مقاصد کے لئے، لیکن ایسی صورتوں میں بھی اس کا حصول انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ جس کا سبب یہ ہے کہ اس کو دنیا میں کہیں بھی بڑے پیمانے پر تیار نہیں کیا جاتا ، یہی سبب ہے کہ انتہائی قلیل مقدار کا بھی منشیات فروشوں کے ہاتھو ں میں پہنچ پانا انتہائی مشکل ہوتاہے۔ اس لئے اسطرح کی بہت کم مثالیں پائی جاتی ہیں کہ جس میں اس کی قابلِ ذکر مقدار کو کو کسی ایک ملک یا برّاعظم سے دوسرے میں غیرقانونی طور سے لایا گیا ہو۔

روایتی طور پر اس کو جنوبی امریکہ کے مقامی قبائل میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ بعض کلیسا اس کو مذہبی اسباب سے استعمال کر تے رہے ہیں، حالانکہ اب ایسے مواقعے مُستقل چلنے والی لمبی قانونی جنگوں کا موضوع بن گئے ہیں اور اس کے استعمال پر سخت پابندیاں ہیں۔

انتہائی نایاب موقعوں پر جب ڈی ایم ٹی گلی کوچوں میں فروخت بھی ہوتی ہے تو اس کو قلیل مقدار میں سفید بلوریں پاؤڈر کے کی شکل سے ملتی جلتی صورت میں بند کر کے بیچا جاتا ہے۔ ایسے مواقعوں پر بھی اس کو ناخالص صورت میں ہی فروخت کیا جاتا ہے، جو زرد، نارنجی یا گلابی رنگ میں ہو سکتی ہے۔

ڈی ایم ٹی عام طور سے ملنے والے بہت سے پودوں میں پائی جاتی ہے اور اس کو نکال کر تفریحی مقاصد کی منشیات کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کو نکالنے کے لئے درکار سازوسامان اور طریقہ کار کے بارے میں معلومات با آسانی انٹرنیٹ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اب آہستہ آہستہ لوگوں کو جیسے ڈی ایم ٹی کے بارے میں علم ہوتا جا رہا ہے ساتھ ہی مستقبل پر ڈی ایم ٹی کے پڑنے والے اثرات کے بارے میں خدشات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تیاری کے کچھ مراحل میں بخارات بن کر اڑ جانے والے خطرناک کیمیائی مادے بھی ہیں جس سےخطرات میں مزید اضافہ ہو جاتاہے۔

ڈی ایم ٹی کی پیداور، تقسیم اور اس کو قبضے میں رکھنا ظاہر ہے انتہائی غیرقانونی ہیں، تاہم پھر بھی یہ کچھ غیرپیشہ ور کیمیادان اپنے آپ کو اس کے نکالنے اور فروخت کرنے سے نہیں روک پاتے۔ تاہم اس طرح کا کام انتہائی چھوٹے پیمانے پر ہو رہا ہے اور وہ بھی دیگر منشیات کی پیداواری عمل کے ساتھ ہو رہاہے۔ ڈی ایم ٹی نکالنے کی کوشش صرف ان لوگوں کو کرنی چاہیئے جو درکار کیمیائی عمل سے واقف ہوں اور جن کے پاس تمام ضروری سامان بھی موجود ہو۔

حقائق اور اعدادوشمار

حقائق

  • حالانکہ یہ نسبتاً کم مشہور ہے اور اس کا حصول بھی انتہائی مشکل ہے،تاہم ڈی ایم ٹی دستیاب تمام شعور رُبا منشیات میں سب سے زیادہ طاقتور ہے، خاص طور پر اگر اس کا موازنہ اس سے ملتی جلتی دیگر منشیات مثلاً ایل ایس ڈی اور میجک مشروم سے کیا جائے۔
  • اس کو پہلی مرتبہ مصنوعی طور پر کینیڈا کے ایک سائنسدان نے 1931 تیارتھا۔
  • جنوبی امریکہ کے قبائل میں یہ کئی نسلوں سے استعمال کی جار ہی ہے، لیکن پودوں میں اس کی موجودگی کا پتہ پہلی مرتبہ برازیل کے ایک کیمیادان نے 1946میں لگایا۔
  • یہ انتہائی طاقتور ٹرِپ پیدا کرتی ہے، جس سے فریبِ نظر اور بگڑی ہوئی حقیقت نظر آتی ہے۔
  • ڈی ایم ٹی کے اثرات اس کے استعمال کرنے کے سیکنڈوں کے اندر ہی ظاہر ہو جاتے ہیں اور ایک ٹرپ عام طور پر ایک گھنٹے تک جاری رہتاہے۔
  • اس کا شمار سب سے زیادہ پابندی والی نشہ آور شے میں ہوتا ہے اور اس کا سائنسی اور طبی استعمال بھی سخت قواعد میں ہوتاہے۔ بعض اوقات اس کو مذہبی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ، تاہم اس کے لئے بھی عام طور پر متعلقہ حکام سے خصوصی اجازت نامہ درکارہوتاہے۔
  • ڈی ایم ٹی عام طور سے ملنے والے کئی پودوں میں پایا جاتا ہے۔
  • یہ انسانوں سمیت تمام ممالیا جانوروں کے دماغ کے اندر بھی پایا جاتاہے۔ کہا جاتا ہے کہ نیند میں خواب بینی کے دوران اور موت کے وقت ڈی ایم ٹی فعال ہو جاتا ہے۔ ایک متنازعہ نظریہ کے مطابق وہ مواقع جب کوئی شخص موت کی قربت کا تجربہ کرتا ہے اور اپنی پچھلی ’’زندگی کو اپنے سامنے‘‘دیکھتا ہے تو اس کو بھی ڈی ایم ٹی کی دماغ میں موجود سطح سے منسوب کیا جا سکتاہے۔ تاہم اس کے حق میں تاحال کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔
  • ڈی ایم ٹی کے زیرِ اثر جہاں تک فریبِ نظر کے اچھے تجربات کیئے جا سکتے ہیں، وہیں یہ صدمے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
  • ان سے دماغ کے اندر سوئی ہوئی ذہنی بیماریوں کو مہمیز مل سکتی ہے اور موجودہ بیماریاں زیادہ خراب صورتحال اختیار کر سکتی ہیں۔
  • ڈی ایم ٹی کے فریبِ نظر کے اثرات شاذ ہی ایک گھنٹے سے زیادہ رہتے ہیں، جنہی عام بول چال کی زبان میں “بزنس مینز ٹرپ” کہا جاتا ہے۔
  • اس کی کیمیائی بناوٹ ایل ایس ڈی سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے، لیکن اس کے اثرات کو بہت زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے۔
  • خیال کیا جاتا ہے کہ ڈی ایم ٹی میں منفی مضر اثرات بہت کم ہوتے ہیں۔

اعدادوشمار

  • بازار میں فروخت کی جانے والی ڈی ایم ٹی عموماً ساڑھے آٹھ گرام کی صورت میں دی جاتی ہے۔ اس کی قیمت برطانیہ میں 25 پاؤنڈ جبکہ امریکہ میں40 ڈالروں تک ہے۔
  • ریاستہائے متحدہ امریکہ میں اس کا شمار شیڈولI کی منشیات میں ہوتا ہے، اس لئے ڈی ایم ٹی کے غیرقانونی کاروبار کی سزا عمرقید کی صورت میں دی جا سکتے، چاہے کسی نے یہ کام پہلی مرتبہ کیا ہو یا اس کا رویہ پر تشدد بھی نہ ہو۔
  • برطانیہ میں ڈی ایم ٹی کی سزا 7 سال جیل اور غیرمعینہ جرمانہ ہو سکتی ہے۔ کسی کو اپنے گھر یا حدود میں ڈی ایم ٹی استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرنا بھی غیرقانونی ہے۔
  • ڈی ایم ٹی کے کرسٹلز کے پگھلنے کا نقطہ 44.6-44.8 ڈگری سیلسیئس ہے اور اُبال کا نقطہ 60-80 ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔
  • اگر اس کو دھواں اندرکھینچ کر استعمال کیا جا رہا ہے تو ڈی ایم ٹی کی 60mg کی مقدار اثرات پیدا کرنے کے لئے کافی ہو تی ہے۔
  • ڈی ایم ٹی کے ٹرپ کی ابتدا استعمال کے چند سیکنڈوں کے اندر شروع ہوجاتی ہے اور تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہتی ہے، تاہم دورانیہ کا انحصار لی جانے والی مقدار پر بھی ہوتا ہے۔
  • ڈی ایم ٹی کے استعمال کے 1-2.5 منٹوں کے اندر ہی استعمال کنندہ ایک ماورائی کیفیت اور مسحورکن احساس محسوس کرنے لگتا ہے۔ استعمال کنندوں نے اس کیفیت کو اس طر ح بیان کیا ہے “دوسری جہتوں کا دروازہ”۔
  • اگر مناسب مونامائین آکسائیڈز انہیبیٹور (MAOI) کے ساتھ ڈی ایم ٹی کو استعمال کیا جائے تو اس کے اثرات 3 گھنٹے تک بھی جاری رہتے ہیں۔ تاہم، MAOI کو خطرناک سمجھا جاتا خاص طور سے اگر اس کو دوسرے موادوں کے ساتھ ملایا جائے۔
  • ڈی ایم ٹی کو پودوں کے 10 مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 50 مختلف اقسام کے پودو میں پایا گیا ہے۔
  • اس کو انسانوں سمیت جانوروں کی 4 مختلف اقسام میں پا گیا ہے۔

علت کی علامات

خیال کیا جاتا ہے کہ ڈی ایم ٹی کے ساتھ علت کے امکانات بہت پائے جاتے ہیں تو اگر کوئی ہیں بھی تو اس کا سبب یقیناً جسمانی کے بجائے منشیات کی نفسیاتی طلب ہے۔ اس صورت میں ڈی ایم ٹی سے بحالی کے لئے پورا انحصار قوتِ ارادی اور اس خیال پر ہوتا ہے کہ یہ کیمیاوی طور عادی نہیں بناتی تو اس کی عادت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم علت چاہے جسمانی ہویا نفسیاتی اس سے نجات حاصل کرنے کا کہنا تو آسان ہے لیکن کرنا بہت مشکل۔

یاد رکھنا چاہئے کہ ڈی ایم ٹی بہت سے ممالک میں انتہائی غیرقانونی ہے۔ اس کی علت کی صورت میں استعمال کنندہ کو حراست یا جیل کی صورت میں منفی نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ منشیات رکھنے کے جرائم کا ریکارڈ مستقبل میں نوکری کے حصول کو بہت دشوار بنا دے گا تو اس لئے کسی بھی منشیات کا کبھی کبھار یا عادتاً استعمال خدشات سے خالی نہیں ہے۔ بیڈٹرپ کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس کا یہ تجربہ تاحیات استعمال کنندہ کے ساتھ رہتاہے۔

ڈی ایم ٹی کو چھوڑنے کی کوئی علامات نہیں ہیں، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ استعمال کی صورت میں استعمال کنندہ اس کے اثرات کو برداشت کر لینا ہے۔ کسی بھی چیز پر نفسیاتی طور پر انحصاری اس کی طلب پیدا کر سکتی ہے تو استعمال کنندہ کسی بھی حد تک جا کر اس کو دوبارہ استعمال کر سکتا ہے۔

ڈی ایم ٹی کے متبادل کے طور پر منشیات سے پاک سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے، اور ایسے مواقعوں سے پرہیز جہاں ڈی ایم ٹی کو ممکنہ طور سے استعمال کیا جا سکتا ہو عادت چھوڑنے میں سودمند ہو سکتے ہیں۔

اگر کوئی شخص مستقل بنیادوں پر اپنے موڈ میں تبدیلی کے لئےمنشیات مثلاً ڈی ایم ٹی استعمال کرنے کی خواہش کرتا ہے تو شاید وہ اپنی زندگی میں کسی تناؤ یا صدمے والی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے اسطرح کر رہا ہے۔ تو ایسی صورت میں ڈی ایم ٹی پر انحصار پیدا کرنے والے ان بنیادی مسائل کو دیکھنا چاہیئے۔ ان میں ذہنی دباؤ، تناؤ یا محض بوریت بھی ہو سکتی ہیں۔ اس صورت میں اس بات کا بھی پورا خیال رکھنا چاہئے کہ عادی شخص ڈی ایم ٹی سے دور رہے تاکہ پھر وہ دوبارہ اس کو استعمال کرنے کی عادت میں مبتلا نہ ہوجائے۔ ڈی ایم ٹی ایک نایاب نشہ ہے، ان لوگوں سے دور رہنا جو اس کو استعمال کرتے ہیں بھی سودمند ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی استعمال کنندہ اپنے ذاتی استعمال کے لئے ڈی ایم ٹی بناتا ہے تو اس عمل میں شامل سازوسامان اور اجزا کو تلف کر دینا چاہیئے۔

ڈی ایم ٹی کے اثرات انتہائی شدید ہوتے ہیں، اس لئے خیال یہی کیا جاتا ہے کہ اس کو فوراً ترک کردینا چاہیئے۔ تاہم مستقل عادت کو چھوڑ نا آسان نہیں ہوتا۔ ڈی ایم ٹی کی عادت کو چھوڑنے کے لئے کسی طبی مداخلت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے، لیکن پھر بھی بہتر ہوگا کہ ممکنہ نفسیاتی طلب سے نبٹنے کے لئے کسی ڈاکٹر سے مشورہ طلب کیا جائے۔

علاج

خیال کیا جاتا ہے کہ ڈی ایم ٹی کے ساتھ علت کے امکانات بہت پائے جاتے ہیں تو اگر کوئی ہیں بھی تو اس کا سبب یقیناً جسمانی کے بجائے منشیات کی نفسیاتی طلب ہے۔ اس صورت میں ڈی ایم ٹی سے بحالی کے لئے پورا انحصار قوتِ ارادی اور اس خیال پر ہوتا ہے کہ یہ کیمیاوی طور عادی نہیں بناتی تو اس کی عادت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم علت چاہے جسمانی ہویا نفسیاتی اس سے نجات حاصل کرنے کا کہنا تو آسان ہے لیکن کرنا بہت مشکل۔

یاد رکھنا چاہئے کہ ڈی ایم ٹی بہت سے ممالک میں انتہائی غیرقانونی ہے۔ اس کی علت کی صورت میں استعمال کنندہ کو حراست یا جیل کی صورت میں منفی نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ منشیات رکھنے کے جرائم کا ریکارڈ مستقبل میں نوکری کے حصول کو بہت دشوار بنا دے گا تو اس لئے کسی بھی منشیات کا کبھی کبھار یا عادتاً استعمال خدشات سے خالی نہیں ہے۔ بیڈٹرپ کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس کا یہ تجربہ تاحیات استعمال کنندہ کے ساتھ رہتاہے۔

ڈی ایم ٹی کو چھوڑنے کی کوئی علامات نہیں ہیں، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ استعمال کی صورت میں استعمال کنندہ اس کے اثرات کو برداشت کر لینا ہے۔ کسی بھی چیز پر نفسیاتی طور پر انحصاری اس کی طلب پیدا کر سکتی ہے تو استعمال کنندہ کسی بھی حد تک جا کر اس کو دوبارہ استعمال کر سکتا ہے۔

ڈی ایم ٹی کے متبادل کے طور پر منشیات سے پاک سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے، اور ایسے مواقعوں سے پرہیز جہاں ڈی ایم ٹی کو ممکنہ طور سے استعمال کیا جا سکتا ہو عادت چھوڑنے میں سودمند ہو سکتے ہیں۔

اگر کوئی شخص مستقل بنیادوں پر اپنے موڈ میں تبدیلی کے لئےمنشیات مثلاً ڈی ایم ٹی استعمال کرنے کی خواہش کرتا ہے تو شاید وہ اپنی زندگی میں کسی تناؤ یا صدمے والی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے اسطرح کر رہا ہے۔ تو ایسی صورت میں ڈی ایم ٹی پر انحصار پیدا کرنے والے ان بنیادی مسائل کو دیکھنا چاہیئے۔ ان میں ذہنی دباؤ، تناؤ یا محض بوریت بھی ہو سکتی ہیں۔ اس صورت میں اس بات کا بھی پورا خیال رکھنا چاہئے کہ عادی شخص ڈی ایم ٹی سے دور رہے تاکہ پھر وہ دوبارہ اس کو استعمال کرنے کی عادت میں مبتلا نہ ہوجائے۔ ڈی ایم ٹی ایک نایاب نشہ ہے، ان لوگوں سے دور رہنا جو اس کو استعمال کرتے ہیں بھی سودمند ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی استعمال کنندہ اپنے ذاتی استعمال کے لئے ڈی ایم ٹی بناتا ہے تو اس عمل میں شامل سازوسامان اور اجزا کو تلف کر دینا چاہیئے۔

ڈی ایم ٹی کے اثرات انتہائی شدید ہوتے ہیں، اس لئے خیال یہی کیا جاتا ہے کہ اس کو فوراً ترک کردینا چاہیئے۔ تاہم مستقل عادت کو چھوڑ نا آسان نہیں ہوتا۔ ڈی ایم ٹی کی عادت کو چھوڑنے کے لئے کسی طبی مداخلت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے، لیکن پھر بھی بہتر ہوگا کہ ممکنہ نفسیاتی طلب سے نبٹنے کے لئے کسی ڈاکٹر سے مشورہ طلب کیا جائے۔