ایل ایس ڈی

اہم قسم

ایل ایس ڈی یا اگر اس کا مکمل نام استعمال کیا جائے Lysergic Acid Diethylamide ایک انتہائی طاقتور ہالوسیجینک غیر قانونی منشیات ہے۔ عموماً اس کو محض ’ایسڈ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور بیسویں صدی کی وسط سے لیکر یہ تفریحی طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

آج کل ایل ایس ڈی عام طور پر ڈاک کی ٹکٹوں کی طرح کے چھوٹے چھوٹے کاغذ کے ٹکڑوں میں فروخت کیا جاتا ہے جن کو عامطور پر ’ٹیب‘ یا ’بلاٹر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ٹکڑے بلاٹنگ پیپر کے بڑے بڑے ٹکڑو سے کاٹے جاتے ہیں جن کو پہلے اس منشیات میں بھِگو کر خشک کرلیا جاتا ہے۔ استعمال کرنے والے عموماً اس ٹیب کو اپنے منہ میں رکھ کر اس کو گھلنے دیتے ہیں اور پھر اس کو نگل لیتے ہیں۔

ایک ہالوسیجینک منشیات کے لحاظ سے ایل ایس ڈی کا ذہن پر بہت شدید اثر ہوتا ہے، اور استعمال کرنے والے اس کو ’ٹرپ‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس میں استعمال کنندوں کو فریبِ نظر میں ایسی آوازیں سنائی دینے اور چیزیں دکھائی دینے کے علاوہ روزمرہ کی حسیات اور احساسات بھی مسخ ہوجاتے ہیں۔

ایل ایس ڈی کو مصنوعی طور پر لیب میں بنایا جاتا ہے اور اس کو سئزلینڈ کے ایک دواساز ادارے میں کام کرنے والے دواساز ایلبرٹ ہاف مین نے 1938 میں بنایا تھا۔ حالانکہ اصل میں وہ کسی ایسی دوا بنانے کی کوشش کر رہے تھے جس کو سانس کی تکالیف کے لئے استعمال کیا جا سکے، لیکن 1943 حادثاتی طور پر اس دوا میں فریب نظری کا اثر پایا گیا۔

اس دوا پر پھر اس امید میں 1950 میں ریاستہائے متحدہ امریکہ اور دیگر مقامات پر بہت تجربات کئے گئےکہ شاید اس سے دماغی بیماریوں اور ذہنی عارضوں مبتلا افراد کا علاج کیا جا سکے یا اس سے دماغ کے کام کرنے طریقوں کے بارے میں تحقیقات کی جاسکے۔ اس پر کئی طرح کے طبی تجربات اور ہزاروں مریضوں کو تجویز کئے جانے کے باوجود بھی اس دوا کے نفسیاتی طور پر کوئی فوائد نہیں پائے گئے۔

کچھ طبی عملے کے بارے میں معلوم ہوا کہ انہوں اس کو تفریحی مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کیا اور پھر 1960 میں ہِپی تحریک میں اس کو بہت زیادہ استعمال کیا جانے لگا۔ ’کاؤنٹرکلچر‘ کی معروف شخصیات مثلاً ٹمِتھی لیری کو ایل ایس ڈی پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، ساٹھ کی دہائی کے وسط میں بہت سے ممالک نے اس مواد کو غیرقانونی قرار دے دیا اور ساٹھ کی دہائی میں ہِپی تحریک کے خاتمے کے ساتھ ہی اس کے استعمال میں بھی نمایاں کمی آگئی۔تاہم یہ ابھی بھی بہت سے ممالک میں استعمال کیا جاتا ہے خاص طور پر ترقی یافتہ مغربی ممالک میں، تاہم پھر بھی اس کا اتنا زیادہ استعمال نہیں ہے جتنا حشیش یا کسی دوسری منشیات مثلاً کوکین وغیرہ کا ہوتا ہے، لیکن پھر بھی اس کو بہت زیادہ غلط طریقے سے استعمال کیا جاتاہے۔

ایل ایس ڈی کو اپنے قبضے میں رکھنا یا اس کی فروخت کرنا کئی ممالک میں قابلِ سزا جرم ہے۔ برطانیہ میں اس کو کلاس A کی منشیات میں شمار کیا جاتا ہے، اس لئے اس کو اپنے قبضے میں رکھنے کی سزا سات برس تک جیل کی صورت میں دی جا سکتی ہے اور دوسروں کو اس کی فراہمی عمرقید کی سزا کی صورت میں دی جاسکتی ہے۔

دیگر اقسام

ایل ایس ڈی اصل میں ایک –لِسرجک ایسڈ ڈائتھلَمائیڈ کا ایک نام ہے ۔ اور اس کو گلی کوچوں میں عام طور پر محض ’ایسڈ‘ یا پھر کم مقبول لیکن لِسرجک ایسڈ بھی کہا جاتا ہے۔

ایسڈ والا ’ٹیب‘ جس کے ذریعے اصل میں اس منشیات کو استعمال کیا جاتا ہے، بھی مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا چوکور کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے، جس پر عموماً مختلف طرح کے آرٹ کے نمونے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کو جن ناموں سے پکارا جاتا ہے ان میں ہِٹس، ٹِرپ، بلاٹرز، ڈراپس، رین بو، سن شائن، وینڈوز، وینڈوز پین اور سمائلز شامل ہیں۔ ایل ایس ڈی میں بھِگویا گیا وہ بڑا بلاٹنگ پیپر جس سے ان ٹکڑوں کو کاٹا جاتا ہے ان کو ’شیٹس‘ کہا جاتا ہے۔

ڈاک کی ٹکٹوں کی طرح ان ٹیبز کے علاوہ ایل ایس ڈی کو دیگر کئی طریقوں سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو چھوٹی چھوٹی بوتلوں میں بھی فروخت کیا جاتاہے یا مائع ایل ایس ڈی کو جیلٹن کے ساتھ ملا کر اس سے جیل کی ٹیبز بھی بنائی جاتی ہیں۔ اس کو چھوٹی سی گولیوں کی صورت میں بھی فروخت کیا جاتا ہے، یا ’مائکروڈاٹس‘ یا بعض مرتبہ چینی کی کیوبز کو بھی اس مواد میں بھگو کر فروخت کیا جاتا ہے، تاہم بہت سے مقامات پر بلاٹر کاغذ والی شکل ہی مقبول ہے ۔

اہم اثرات

ایک مرتبہ جب استعمال کنندہ ایسڈ ٹیب کو چباتا ہے یا نگل لیتا ہے یا کسی دوسرے طریقے سے کوئی مقدار کھاتا ہے تو اثرات کو ظاہر ہونے میں تھوڑا سا وقت درکار ہوتا ہے- جوکہ آدھے گھنٹے سے لے کر دو گھنٹے تک کا وقت ہوسکتا ہے۔ اثرات کے ظہور میں اس تھوڑی سے دیر کے باعث کچھ ناتجربہ کارلوگ فوری طور پر اس کی دوسری خوراک بھی استعمال کر سکتے ہیں اور یہ بہت زیاد ہو جاتی ہے۔

تاحال اس پر کوئی سائنسی اتفاق نہیں ہو پایا ہے کہ وہ کون سے اسباب ہیں جن کے باعث ایل ایس ڈی اپنا اثر دکھا تی ہے، تاہم ایک مرتبہ جب یہ مواد ذہن میں پہنچ جاتا ہے تو نیورو ٹرنسمِٹر سیروٹونِن کی نقل کرتاہے جو کہ جسم کے ان قدرتی کیمیائی موادوں سے ہے جو بہترمحسوس کرواتے ہیں۔ اور نتیجتاً حسیات خلط ملت ہوکر پریشانی کا شکار ہوجاتی ہیں اور معمول کی افعال اور احساسات بگڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

اس کے زیرِاثر استعمال کنندہ فریبِ نظری میں وہ آوازیں سنتا اور وہ چیزی دیکھتا ہے جن کا کوئی وجود نہیں ہوتا اور پھر وہ اپنی معمول کی حقیقی زندگی سے ایک دوسرے جہان میں چلے جاتے ہیں جن کو ‘ٹرپ‘ کہا جاتا ہے۔ بعض استعمال کنندوں کو خاص طور پر خوفناک اور ڈراؤنی چیزیں نظر آتی ہیں اور بعض بہت خوش کن تجربات کا اظہار کرتے ہیں۔

’ٹرپ‘ کے دوران اس بات کا بھی خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں استعمال کنندہ کسی حادثے کے باعث، یا اپنے حقیقی ماحول سے علیحدگی، خفقان یا دوا کی پیدا کردہ فریب نظری سے اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچا دے۔

فریب نظری اور خیالوں کی اس تبدیلی کی نوعیت کے تجربات ان لوگوں پر بہت زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں جن میں پہلے سے ذہنی عارضے ہوں یا وہ لوگ جن کے ذہنی عارضے ابھی تک تشخیص نہیں کئے جاسکے ہوں۔

وہ لوگ جو کئی سال پہلے ایل ایس ڈی کا استعمال ترک کر چکے ہوتے ہیں ان کا بھی کہنا ہے کہ کبھی کبھی غیرمتوقع طور پر وہ اپنے ان پرانے تجربات کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لئے بہت زیاد تکلیف کا باعث بن سکتا ہے جنہوں نے ’بیڈٹرپ‘ کا تجربہ کیاہوا ہوتا ہے۔بیڈٹرپ کا تجربہ اس اعتبار سے خراب بھی ہوسکتا ہے اس کے محسوس کرنے والا فرد کسی ایسی سرگرمیں میں ہو جہاں اس کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

پیداواری مُمالک

ایل ایس ڈی انسان کا بنایا ہوا نیم مصنوعی کیمیائی مادہ ہے اور جس کو عموماً گلی کوچوں میں خریدا جاتا ہے اس کو غیرقانونی زیرِزمین لبارٹریوں میں بنایا جاتا ہے۔ اس کے بنانے کے کئی طریقے ہیں،لیکن ان سب کے لئے خصوصی معلومات، مہارت، سازوسامان اور کیمیائی موادوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

یہ لِسرجک ایسڈ کی کیمیائی طور پر مصنوعی بنائی گئی ایک صورت ہے، جو رئی کے پودے پر اگنے والی ایک پھپھوندی ارگاٹ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے، یہ رئی کے علاوہ دیگر پودوں مثلاً نیلوفر پر بھی پیدا ہوتی ہے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کے تیاری کے اس عمل کے بارے میں مکمل آگاہی اور استعمال کئے جانے والے کیمیائی مواد کو قانون کے دائرے میں رکھا جائے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ نسبتاً تھوڑے سے خام کیمیائی اجزا سے بڑی مقدار میں ایل ایس ڈی بنا لی جائے۔

ایک مرتبہ جب کئی طرح کے مختلف پیچیدہ قسم کےکیمیائی ردِعملوں اور طریقہ کاروں سے ایل ایس ڈی یا لِسرجک ایسڈ ڈائیتَھلمائیڈ بن جاتا ہے تو یہ سفیدکرسٹل کی طرح پاؤڈر کی شکل کا ہوتاہے۔ چونکہ ایل ایس ڈی کے اثرات کے حصول کے لئے انتہائی قلیل مقدار درکار ہوتی ہے-اور وہ بھی کوئی مائکروگرامز میں- اس لئے یہ گلی کوچوں میں اس صورت میں شاذ ہی نظر آتی ہے۔ اس کے بجائے اس کو پانی یا کسی دوسرے مائع میں حل کر لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس سے پہلے سے تیار شدہ بلاٹرپیپر کی شیٹ کو اس سے بھگویا جاتا ہے، جس کے بعد اس شیٹ کو کاٹ کر ٹیبز بنائی جاتی ہیں جنہیں پھر گلی کوچوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔

اس طرح کم ہی ہوتا ہے لیکن بعض مرتبہ اس ایل سی ڈی کو مزید پتلا کر کے چھوٹی چھوٹی بوتلوں میں مائع ایل ایس ڈی کے طور پر بھی بھی فروخت کیا جاتا ہے یا اس سے گولیاں بنالی جاتی ہیں (مائکروڈاٹس)، یا اس کو جیلیٹن کے ساتھ ملا کر (وینڈو پینز) بھی فروخت کیا جاتا ہے۔

UNODC کی 2011 میں پوری دنیا کی منشیات پر جاری کردہ رپورٹ کے مطابق عالمی طور پر پکڑی جانے والی ایل ایس ڈی میں سے 80% یورپ میں پکڑی گئی۔ تاہم پھر بھی یہ نسبتاً تھوڑی مقدار تھی- اندازاً 0.1 کلوگرام کے برابر منشیات۔ عالمی طور پکڑی گئی میں سے 16% اوشینیا میں پکڑی گئی۔

چونکہ فروخت کئے جانے والے بلاٹر پیپر کی شیٹ کی تیاری کے لئے بہت کم مقدار میں ایل ایس ڈی درکارہوتی ہے، اس لئے ملکی، علاقائی اور عالمی طلب کو پورا کرنے کے لئے بالکل تھوڑی تعداد میں غیرقانونی لیبز مطلوبہ مقدار میں اس کو بنالیتی ہیں۔ اپنی غیرمعمولی طور پر چھوٹی سائز اور بے ضرر سے شکل کے باعث اسطرح کے بلاٹر شیٹوں کو دوسری منشیات کے مقابلے میں ملکی اور بین الاقوامی طور پر اسمگل کرنا انتہائی آسان ہے۔

بنانے کے بعد اس منشیات کو درمیانے درجے کے منشیات فروشوں کو فروخت کیا جاتا ہے، جو کہ اس کو بہت بڑی تعداد میں ہول سیل پر خرید لیتے ہیں۔ اس کے بعد یہ نچلے درجے کے منشیات فروش میں تقسیم کی جاتی ہے جو اس کو آگے گلی کوچوں میں استعمال کنندوں کو فروخت کرتے ہیں۔

National Drug Intelligence Centre کے مطابق ریاستہائے متحدہ امریکہ میں استعمال کی جانے والی زیادہ تر ایل ایس ڈی ملک کے اندر ہی چند کیمیاداں کیلفورنیا کے شمالی حصے اور مغربی ساحل کے چند دیگر علاقوں میں بناتے ہیں۔ ان کے مطابق بہت ہی کم مقدار میں گھروں کے اندر موجود لیبز میں بھی اس کو بنایا جاتاہے۔

1970 کے بعد سے بہت سی حکومتوں نے خفیہ لیبارٹریوں میں ایل ایس ڈی کی پیداوار کو روکنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ اور اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں میں اب تک کی سب سے نمایاں اور کامیاب کوشش برطانیہ میں کیا جانے والا ’آپریشن جولی‘ تھا، اس کو دو سال سے زائد عرصے تک درجنوں پولیس اہکاروں نے مل کر تشکیل دیا تھا۔ اس سے 1977 میں دو مضبوط منشیات کے کاروبار میں ملوث گروہوں کو توڑا گیا، پورے ملک میں ایک سئو سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا، اور اتنی ایل ایس ڈی پکڑی گئی جو تقریباً سات ملین ایسڈ ٹیبز بنانے کے لئے کافی تھی۔

اقوامِ متحدہ کی 1995 کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں لائی جانے والی ایل ایس ڈی کی بڑی مقدار ریاستہائے متحدہ امریکہ سے اسمگل کرکے لائی جاتی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ آج کل بھی صورتحال اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔

حقائق اور اعدادوشمار

حقائق

  • ایل ایس ڈی ایک فریب نظر میں مبتلا کرنے والا نشہ ہے جس کو پہلی مرتبہ 1938 میں لیبارٹری میں بنایا گیا۔
  • اس منشیات کو ملنے والے نام ایل ایس ڈی اور ’ایسڈ‘ اصل میں اس کے کیمیائی نامLysergic Acid Diethylamide سے نکلے ہیں۔
  • اس دوا کو منہ کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا نتیجا ایک ’ٹرپ‘ کی صورت میں نکلتا ہے، جس میں کوئی شخص کئی طرح کے سننے اور دیکھے جانے والے فریبِ نظر کے تجربات کے علاوہ دوسرے بھی کئی طرح کے حسیات کے مظاہر کا تجربہ کرتاہے۔
  • خیال کیا جاتا ہے کہ کسی فرد کی ذہنی کیفیت، موڈ اور وہ حالات جن میں کہ منشیات کو استعمال کیا جاتا ہے، ٹرپِ کے تجربہ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
  • خوف اور اضطرابیت ایل ایس ڈی استعمال کرنے والوں میں بہت عام ہیں، اس کے ساتھ ہی موت کا ڈر، دماغی توازن کی خرابی اور منفی جذبات بھی ہوتے ہیں۔
  • بہت سی حکومتیں اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ تاحال ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایل ایس ڈی سے جسم یا ذہن کو کوئی مستقل نقصان پہنچ سکتا ہو۔ تاہم اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ وہ لوگ جن کو کہ ذہنی صحت کے مسائل اور عارضے ہیں وہ ایل ایس ڈی کے استعمال سے بہت زیادہ منفی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
  • ایل ایس ڈی علت میں مبتلا کرنے والا مواد نہیں ہے
  • وہ پھپھوندی کے جس سے عموماً ایل ایس ڈی کو مصنوعی طور پر بنایا جاتا ہے، اَرگاٹ ہے، اور یہ قرونِ وسطیٰ سے لیکر کئی مرتبہ ’شیلمیت‘ کے پھوٹ پڑنے کا سبب بنی ہے۔ اس کو ’سینٹ اینتھونی کی آگ‘ بھی کہا جاتا ہے، یہ آلودگی کے باعث غلی کی مصنوعات میں لگنے والے پھپھوندی سے ہوتی ہے اور اس سے آبادی میں مالیخولیا، فریبِ نظر اور ذہنی بیماریاں ہو جاتی ہیں اور اکثر اس کو جادو ٹونے کی کارستانی سمجھا جاتا تھا۔
  • قانونی حثیت- برطانیہ میں ایل ایس ڈی کلاس A کی منشیات ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں یہ شیڈیولI میں شمار کی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ دنیا کے باقی ممالک میں بھی غیرقانونی ہے۔ خاصطور پر وہ ممالک جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے Convention on Psychotropic Substances دستخط کئے ہیں۔

اعدادوشمار

  • ایل ایس ڈی کے اثرات دورانیہ کے اعتبار سے بہت لمبے ہوتے ہیں، اور یہ 12 گھنٹے یا اس سے زائد وقت تک بھی چل سکتے ہیں۔
  • 2000 میں DEA نے میزائلوں کے ناکارہ تہ خانے میں بنائی گئی کینساس لیبارٹری کو پکڑا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس لیب میں ایل ایس ڈی کی 94 ملین خوراکین بنائی گئی تھیں، یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اب تک کی سب سے بڑی کاروائی تھی۔
  • ریاستہائے متحدہ امریکہ میں صحت اور منشیات کے استعمال پر کئے گئے2004 کے جائزے کے مطابق 18 سے 25 برس 12.1% افراد نے ایل ایس ڈی کا تجربہ کیا تھا۔
  • 2008 میں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں کئے گئے ایک جائزے میں پایا گیا کہ 12برس سے بڑی عمر کے23 ملین امریکیوں نے کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں ایل ایس ڈی ضرور استعمال کی ہے۔ اس میں سے بھی 620,000 افراد نے اس منشیات کو گزشتہ برس استعمال کیا تھا۔
  • 2009 میں یہ تعداد 779,000 تھی۔
  • 2011 میں ایل ایس ڈی کا استعمال 1996 کے مقابلے میں پانچ گنا کم ہوگیا تھا، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس کا استعمال بند کردیا تھا، اور نوجوان نسل کے فیشن سے یہ ختم ہوگیا تھا۔
  • اثرات پیدا کرنے کے لئے ایل ایس ڈی کی درکار مقدار ذرہ برابر ہوتی ہے اور عموماً 30 سے 200 مائکروگرام تک ہوتی ہے۔ تاہم استعمال کنندوں کی جانب سے دعویٰ کئے جاتے رہے ہیں کہ انہوں اس سے زیادہ مقدار میں بھی اس کا استعمال کیا ہے جو کہ 1000 مائکروگرام یا اس سے بھی زیادہ۔ جتنی مقدار زیادہ ہوتی جائے گی اتنا ہی اثر زیادہ ہوتا جائے گا۔ تاہم اثر کی شدت ہر شخص پر مختلف ہو سکتی ہے، اور ایسڈ کو مستقل استعمال کرنے والے اس کے لئے برداشت پیدا کر لیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے جیسے اثرات کے حصول کے لئے اس کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ضرورت پڑے گی۔
  • ایل ایس ڈی کی اتنی مقدار جو جان لیوا ہو سننے میں نہیں آتی۔ کیوں انسانوں کے لئے جان لیوا مقدار 10 سے 12 ہزار مائکروگرام ہو سکتی ہے- اور یہ اوسطاً استعمال ہونے والے مقدار سے تقریباً100 گنا زیادہ ہے۔

علت کی علامات

روایتی طور پر جس چیز کو علت تصور کیا جاتا ہے، ایل ایس ڈی اس طرح کی علت میں مبتلا نہیں کرتی اور بہت سے منشیات استعمال کرنے والے بھی اس کو عادتاً یا روزانہ کی بنیاد پر استعمال نہیں کرتے۔ بہت سے معاملات میں اس کا زندگی میں محض ایک یا دو مرتبہ ہی تجربہ کیا جاتا ہے۔ تاہم کسی بھی طاقتور منشیات کی طرح، اس میں بھی ممکنہطور پر نفسیاتی انحصاری میں مبتلا ہوجانے کا امکان رہتا ہے۔

مستقلاً استعمال کرنے والوں میں، عموماً اس منشیات کی قوتِ برداشت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس لئے فریبِ نظر اور نفسیاتی تبدیلی کے اثرات کو پیدا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ طاقتور خوراکوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس منشیات کو مستقل زیادہ مقدار میں استعمال کے حوالے سے بہت کم ہی تحقیقات کی گئی ہیں، اس لئے یہ بتا پانا مشکل ہے کہ اس طرح کے معاملات میں جسمانی یا نفسیاتی نقصان کتنا ہو سکتا ہے۔

اگر کوئی شخص ایل ایس ڈی کے زیرِ اثر ہے تو وہ عموماً کسی ’دوسرے جہان‘ میں محسوس ہوگا۔ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہن کے پیدا کردہ فریبِ نظر کا تجربہ کر رہے ہوتے ہیں اور خارجی واقعات کو وہ اپنی مسخ شدہ حسیات کے ذریعے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اور وہ ایسی چیزوں کا بھی ردِ عمل دے رہے ہوتے ہیں جو وہاں پر موجود نہیں ہوتی ہیں، اور وہ غیرمتوازن اور غیرمنظم بھی نظر آسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اس طرح کی گفگتو کر سکتے ہیں یا اس طرح کی کوئی حرکت کر سکتے ہیں جو باہر سے دیکھنے والے کو بہت زیادہ عجیب لگ سکتی ہے۔

منشیات کے زیرِ اثر استعمال کنندہ کی آنکھیں ڈرامائی طور پر پھیل جائیں گی، اس لئے ان کی آنکھوں کی پتلیاں بہت بڑی محسوس ہونگی اور روشنی کے حوالے سے ان میں بہت حساسیت پائی جاتی ہے۔

اگر کوئی جسمانی طور پر ’ٹرپنگ‘ نہیں کر رہا تو یہ بتا پانا تقریباً ناممکن ہوتا ہےکہ آیا کسی نے ایل ایس ڈی استعمال کر رکھی ہے یا نہیں۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ ان کے سامان میں رنگ بہ رنگے کاغذوں والے ڈاک کے ٹکٹوں جیسے ’بلاٹرز‘ بھی پائے جاسکتے ہیں۔

علاج

ایل ایس ڈی اس طرح سے تو علت میں مبتلا نہیں کرتی جسطرح دوسری منشیات مثلاً ہیروئن یا کوکین وغیرہ کرتی ہیں، اس لئے کوئی خاص چھڑائے جانے کے اثرات تو ظاہر نہیں ہوتے اور نہ ہی بے قابو طور پر منشیات کی طلب ہوتی ہے۔ تاہم اس کو پھر بھی غلط طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور وہ لوگ جو اس کو مستقل طور پر غلط استعمال کرتے ہیں ان پر اس سے بہت گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مزید یہ کے فریب نظری کے ’دوسرے جہان‘ والے تجربات کی نفسیاتی علت مستقل استعمال کرنے والوں کے کے لئے اس کو چھوڑ کر حقیقی زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کو اور زیادہ مشکل بنا دیتی ہے۔

چونکہ یہ کیمیائی طور پر علت میں مبتلا نہیں کرتی اس لئے اس کو بند کرنے کے لئے عموماً طبی علاج تجویز نہیں کئے جاتے۔ بلکہ ایل ایس ڈی کو بڑی مقدار میں استعمال کرنے والے استعمال کنندہ جس نفسیاتی اور عادت کا مقابلہ کرتے ہیں اس کے مدِنظر نفسیاتی علاج، پیشہ ورانہ مشاورت کے سیشن اور دیگر اس طرح کے علاج زیادہ سودمند ہوتے ہیں۔

بعض معاملات میں استعمال کنندہ اس منشیات کے زیرِ اثر رہتے ہوئے جن چیزوں کا تجربہ کرتا ہے ان سے بہت گہرائی سے منفی طور پر متاثر ہوجاتا ہے، اس لئے ان کو فریب نظری کے دوران ہونے والے واقعات اور یادوں کے منفی اثرات سے مقابلہ کرنے کے لئے ان پیشہ ورانہ مشاورت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ایل ایس ڈی کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ خوابیدہ ذہنی بیماریوں مثلاً شقاق دماغی (schizophrenia)، اور دوسرے موڈ اور شخصیتی تضادات کے عارضوں بیدار کردیتی ہے، اس کے ساتھ ہی اگر یہ عارضے پہلے سے موجود ہیں تو ان کو مزید خراب کردیتی ہے۔ اس لئے بعض افراد میں مناسب سند یافتہ پیشہ ورانہ ماہرین کی بہت شدید ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد ان عارضوں کا نفسیاتی علاج کے مطابق دوائوں وغیرہ سے علاج بھی کیا جا سکتا ہے۔

وہ استعمال کنندہ جو اسطرح کے ذہنی عارضوں کی علامات ظاہر نہیں کرتے ، ان کے لئے اس علت کو ختم کرنے کے لئے کم درجے کے ماہرین بھی کافی ہو سکتے ہیں۔ اس میں باتیں کرنے کا علاج یا پھر عمل والا علاج مثلاً کاگنیٹِو بیہیوِر تھیوری کر وایا جا سکتا ہے۔

اس طرح کے علاج نہ صرف منشیات کے استعمال کے بنیادی اسباب کو دیکھ سکتے ہیں، بلکہ علت سے بحالی حاصل کرنے والے استعمال کنندہ کو زندگی سے مقابلہ کرنے اور ایل ایس ڈی کی جگہ پر نئی صحتمندانہ عادتوں کو اختیار کرنے میں بھی مدد کر سکتی ہیں۔

اگر کسی شخص میں ایل ایس ڈی کے زیرِ اثر ہونے والے تجربات پھر مستقبل میں بھی باربار پیش آرہے ہیں تو اس سے مقابلہ کرنے کے لئے بھی ان کو نفسیاتی مدد کی جاسکتی ہے۔

یہ بات ظاہر ہے کہ بالکل عیاں ہے کہ ان کو منشیات پر شدید طور پر جذباتی اور نفسیاتی انحصاری ہوگی اس لئے طلب اور دوبارہ اس علت میں مبتلا ہونے سے بچنا بھی علاج کے پروگرام کا ایک اہم حصہ ہوگا۔

بعض معاملات میں ایل ایس ڈی کو غلط طور پر استعمال کرنے والوں کا امدادی کارکنوں، معالجین اور پیشہ ورانہ ماہرین کے نیٹورک کے ذریعے خارجی مریض کے طور پر بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، مریض اگر بہت شدیدطور پر علت میں مبتلا ہے تو اس کے لئے بحالی کے مرکز میں رہایش اختیار کر کے علاج کروانا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔

اگر کسی کی علت بہت پیچیدہ نوعیت کی ہے اور اس میں ایل ایس ڈی کی علت محض ایک حصہ ہے تو ایسی صورت میں علت کے دوسرے اسباب کو بھی دیکھنے اور ان کے علاج کی ضرورت ہے۔

ایل ایس ڈی چونکہ بہت ایک طاقتور ہالوسیجنک اور ذہن کو متاثر کرنے والی منشیات ہے اس لئے اس کے اثرات بھی بہت گہرائی سے کسی شخص کو متاثر کر سکتے، تاہم مناسب امداد سے کسی بھی شخص کی زندگی کے معمولات کی طرف دوبارہ لوٹایا جا سکتا ہے۔