ٹیمازیپام

اہم قسم

ٹیمازیپام ایک مُسکن ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ دماغ کے ایک مخصوص حصے میں سرگرمی کو کم کر دیتی ہے۔ اس کی درجہ بندی خواب آور دوا کے طور پر بھی کی جاتی ہے ، یعنی یہ نیند کی ترغیب دیتی ہے۔ نیند کی بیماریوں کے اثرات کو دور کرتی ہے مثلاً دہائیوں کی بے خوابی وغیرہ۔

اس دوا کو 1960 میں بنایا گیا تھا اور 80 تک یہ نیندکی بیماریوں کے لئے استعمال ہونے والی ایک اہم دوا بن گئی۔ بے خوابی کے مرض میں مبتلا مریضوں کے لئے اس کو خاص طور سے موّثر پایا گیا۔ یہ ایک مصنوعی مادہ ہے اور اس کو دواساز اداروں میں قانونی طور سے بنایا جاتا ہے۔ ٹیمازیپام مُسکن کے اسے زُمرہ میں آتی ہے جن کو بینزوڈائزپائنز کے طور پر جانا جاتا ہے اور جن کا بنیادی مقصد نیند لانا اور اضطرابیت کو کم کرنا ہوتاہے۔ دیگر معروف بینزوڈائزپائنز میں ڈائزیپام،ایلپرازیلام اور اوگزاپام شامل ہیں۔

بینزوڈائزپائنز دماغ کے مخصوص حصوں کو آہستہ اور ’آرامدہ‘ بناتی ہیں۔ ان کو عموماً منہ کے ذریعے استعمال کیا جا تا ہے۔ یہ جسم میں جذب ہوجاتی ہیں اور دماغ کے کیمیائی توازن پر عمل کرتی ہیں۔ ان کا بنیادی اثر اور وہ سبب جس کے باعث یہ ٹھراؤ اور سُکون کی خصوصیات رکھتی ہیں وہ یہ ہے کہ وہ دماغ کے اندر موجود ایک قدرتی نیوروٹرانسمٹر گاما ایمینو بیوٹرک ایسڈ (Gamma Amino Butyric Acid) یا GABA کی طاقت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔

جسم میں کئی طرح کے نیوروٹرانسمٹرزا پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا مختلف کام یا خلیوں کے درمیان پیغام رسانی ہوتا ہے۔ ایک مزاحمت کار نیوروٹرانسمٹر کے طور پر GABA کا کام دماغ کے ایک خلیہ سے دوسرے تک پیغامات کو روکنا ہوتا ہے اور اسطرح دماغ کی سرگرمیوں پر ایک پرسکون اثر پڑتا ہے۔ عام طور سے یہ عمل قدرتی طور سے ہوتا ہے۔ روز مرہ کے کام کاج اور نیند کے اوقات کو برقرار رکھنے کے لئے یہ انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اور اگر یہ غیرمتوازن ہو جائے تو نیند یا اضطرابیت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اس کے لئے ڈاکٹر علامات کے علاج کے لئے بینزوڈائزپائنز جیسا کہ ٹیمازیپام تجویز کرتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ادویات GABA کو پُر اثر کرتی ہیں، اسطرح دماغ پر ایک بہت پرسکون اثر پڑتا ہے، جس سے آرامدہ حالت میں اضافہ ہوتا ہے، اضطرابیت میں کمی واقع ہوتی ہے اور اگر دوا خواب آور ہوگی تو نیند آجائے گی۔

ممکنہ طور سے بہت زیادہ غلط طریقے سے استعمال ہونے کے خدشات کے باعث آج کل یہ اتنی زیادہ تجویز نہیں کی جاتی جتنی پہلے کی جاتی تھی۔ اس کو عموماً قیل المدتی بے خوابی کے علاج کے لئے تجویز کیا جاتا ہے یعنی 2 سے 4 ہفتوں کے لئے، کیوں کہ اس کو برداشت کرنے کی قوت بہت تیزی سے بڑھتی ہے۔ طویل المدتی استعمال سے کیمیائی انحصار ہو جاتا ہے۔ ٹیمازیپام پر انحصار کرنے والوں کی جانب سے دوا کو بند کر دینے کے بعد چھوڑے جانے کے علامات بہت سخت اور طویل دورانیہ کی ہو سکتی ہیں۔

ٹیمازیپام کو تفریحی طور پر استعمال کرنے والے بھی غلط طور سے استعمال کرتے ہیں۔اس کو بیماریوں کا بہانہ بنا کر، بلیک مارکیٹ، گلی کوچوں میں منشیات فروشوں یا انٹرنیٹ پر غیر لائسنس یافتہ افراد سے حاصل کیا جاتا ہے۔ بہت سے معاملات میں اس کو دیگر منشیات جیسا کہ ہیروئن یا الکوحل کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

دیگر اقسام

برطانیہ میں ٹیمازیپام کو سادہ طور سے ٹیمازیپام ہی کہا جاتا ہے اور اس کو کسی مخصوص برانڈ نام کے تحت فروخت نہیں کیا جاتا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں اس کا سب سے عام برانڈنام Restoril ہے۔ جبکہ بین الاقوامی طور سے اس دوا کو مختلف اقسام کے برانڈ ناموں سے جانا جاتا ہے جن میں Normison, Norkotral, Temaze اور Nortem شامل ہیں۔

یہ قانونی طور سے ملنے والی دوائیں دھوکے اور فریب کے علاو چوری کر کے یا کسی ہسپتال اور تقسیم کے ذمہ دار مرکز کے بیچ راستے سے بھی ان کو حاصل کیا جا سکتاہے۔ پھر ان کو فروخت کیا جاسکتا ہے یا منہ کے ذریعے گولی اور کیپسول کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ ان میں سے مائع کو نکال کر سوئی کے ذریعے بھی ان کو استعمال کیا جا سکتاہے۔ ٹیمازیپام کے بازاری ناموں میں یہ نام شامل ہیں:Rugby balls, jellies, Knockouts, Tams, Tems, Mazzies, Beans, Eggs, Norries, No-go’s, Green Devils, Vitamin T and King Kong Pills.

غیرقانونی طور سے حاصل کی گئ ٹیمازیپام کو عموماً دیگر منشیات کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہےجیساکہ ہیروئن وغیرہ۔ ان میں اس کا استعمال ثانوی حثیت کا حامل ہوتا ہے، تاہم لمبے عرصہ تک استعمال سے تنہا ٹیمازیپام کی علت بھی بن سکتی ہے۔

اہم اثرات

ٹیمازیپام کو بنیادی طور سے قلیل المدت بے خوابی اور نیند کے مسائل کا شکار مریضوں میں نیند لانے کے لئے تجویز کیا جاتا ہے۔ یوں اس دوا کا سب سے اہم اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ دماغ کی سرگرمیوں میں ٹھراؤ پیدا کرتی ہے۔ جس سے دماغ کی حالت میں ایک سکون آجاتا ہے اور مریض پر فوری نیند کا غلبہ ہوجاتاہے۔ اس کا ایک اور مقصد کسی فرد کو رات میں زیادہ دیر تک سلانا بھی شامل ہوتا ہے۔

تاہم وہ افراد جن کے لئے اس دوا کو تجویز کیا گیا ہے ان کو بھی اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیئے، خصوصاً بڑی عمر کے افراد کو کیوں کہ اس دوا کے زیرِ اثر گرنے اور حادثات کے کئی معامل سامنے آئے ہیں۔ مثلاً اگر ٹیمازیپام کو بستر پر جانے سے پہلے لیا گیا ہے تو استعمال کنندہ بستر پر پہنچنے سے پہلے ہی دوا کے مُسکن اثرات کا غلبہ محسوس کر ے اور یوں غنودگی میں لڑکھڑائے گا۔

ٹیمازیپام کو عام طور سے قلیل المدتی طبی استعمال کے لئے تجویز کیا جاتا ہے (2 سے 4 ہفتوں کے لئے) کیوں کہ اس عرصے کے بعد دوا کے لئے قوت برداشت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بتدریج اس کی افادیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ بہت زیادہ علت میں مبتلا کرنے والی ہےاور لمبے عرصہ تک اس کا استعمال ایک شدید جسمانی انحصاری پیدا کرسکتاہے۔ اور وہ افراد جن کے اندر دوا کے کیمیائی مادوں کی انحصاری پیدا ہوگئی ہو ان کے لئے چھڑائے جانے کے اثرات بہت شدید ہو سکتے ہیں۔

اس دوا کا طویل المدتی استعمال کئی طرح کے ناگوار ضمنی اثرات بھی پیدا کر سکتا ہے جن میں شدیدذہنی دباؤ اور جذبات میں آنے والی اچانک تبدیلی، قدرتی نیند کے نظام الاوقات میں خلل پزیری، اضطرابیت اور یاداشت کی کمزوری شامل ہیں۔

جب اس کو دیگر منشیات مثلاً الکوحل وغیرہ سے ملایا جاتا ہے تو یہ اور اس کے علاوہ کئی دیگر ضمنی اثرات زیادہ شدید ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی دوا کے زیادہ مقدار میں استعمال کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ غیرقانونی استعمال کا جو سب سے بڑا خطر ہ ہے وہ یہ ہے کہ کئی استعمال کنندہ ہے کیپسیول کے اندر موجود جیل کو نکال کر گرم کر مائع میں تبدیل کر کے ہیروئن کے ساتھ ملا کر سوئی کے ذریعے جسم میں داخل کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ اگر یہ خون میں شامل ہو جائے تو یہ جیل دوبارہ سے سخت ہو سکتی ہے، ممکنہ طور سے شریانوں کو بند کر سکتی ہے اور اس سے کئی طرح کے مسائل حتٰی کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

پیداواری مُمالک

ٹیمازیپام کو قانونی طور سے پوری دنیا کے دواساز اداروں میں بنایا جاتا ہے۔ کئی طرح کے برانڈ ناموں سے اس کو ڈاکٹر کے نسخے پر عام دوا کے طور فراہم کیا جاتاہے۔ اس کا نام چاہے کوئی بھی ہو یہ ایک ہی دوا ہے۔

ٹیمازیپام کئی مُمالک میں ایک قانونی ہے۔ تو اس لئے اس کو صرف کوئی مناسب ڈاکٹر یا طبی شعبہ سے وابستہ کوئی پیشہ ور ہی تجویز کر سکتاہے۔ مثلاً برطانیہ میں اس کو کلاس C کی دوا شمار کیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیمازیپام کو کسی مناسب نسخے کے بغیر قبضے میں رکھنا یا ضروری لائسنس کے بغیر دوسروں کو فراہم کرنا غیر قانونی ہے۔ اپنے قبضے میں رکھنے یا کسی دوسرے کو فراہم کرنے کی صورت میں لمبے عرصہ تک جیل کی سزا یا بھاری جرمانہ بھی ہو سکتاہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں یہ شیڈیول IV کے ضابطہ میں رکھی گئی دوا ہے اور یہاں بھی صرف ڈاکٹر کے نسخے پر ہی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ اور اسطرح کی دیگر بین الاقوامی پابندیاں ٹیمازیپام اوردیگر بینزوڈائزپائنز کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کو روکنے کے لئے لگائی گئی تھیں۔

ان تمام پابندیوں کے باوجود بھی قانونی طور سے بنائی گئی ٹیمازیپام تواتر کے ساتھ گلی کوچوں میں پہنچ رہی ہے۔ بعض معاملات میں علت میں مبتلا افراد جعل سازی کے ذریعے نسخے تیار کر لیتے ہیں اور پھر دوائوں کی مختلف دوکانوں سے جتنی زیادہ مقدار میں اس کو حاصل کر سکتے ہیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ منشیات فروش بھی عادی افراد کو چوری کی گئی یا راستہ میں سے نکالی گئی ٹیمازیپام تفریحی مقاصد کے لئے فروخت کرتے ہیں۔ ٹیمازیپام کو ایک ملک سے دوسرے میں اسمگلگ بھی کیا جا سکتا ہے۔

انٹرنیٹ پر بھی عام طور سے ٹیمازیپام کو فروخت کیا جاتا ہے جو کہ غیرقانونی ہے۔ ان ادویات کو آن لائن یا آف لائن خریدنے کے نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خریدار کو بالکل بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کو دوا کی صورت میں اصل میں کیا دیا گیا ہے۔ 2008 رائل فارماسوٹیکل سوسائٹی کے ایک جائزے سے معلوم ہوا کہ انٹرنیٹ پر فروخت کی جانے والے تمام ادویات میں سے 50% جعلی ہیں۔

حقائق اور اعدادوشمار

حقائق

  • ٹیمازیپام ایک خواب آوار مُسکن ہے جس کو بے خوابی سمیت نیند کے مسائل کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
  • ٹیمازیپام کا اور اس جیسی دیگر مسکنات کا جس خاندان سے تعلق ہے کو ان کو بینزوڈائزاپائنز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ دماغ کے اندر موجود GABA نیوروٹرانسمٹرز کو تحریک دے کر اپنا کام کرتی ہیں جس سے دماغ کی سرگرمیاں دھیمی ہو جاتی ہیں۔ بینزوڈائزاپائنز کو خاص طور سے نیند اور اضطرابیت کے کے مسائل کو ٹھیک کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
  • ٹیمازیپام اگر ایک مرتبہ خون کی گردش میں جذب ہوجائے تو وہ کسی بھی شخص کو بہت تیزی سے نیند کی طرف لے کر جا سکتی ہے، اس لئے احتیاط لازمی ہے۔
  • دنیا کے بہت سے ممالک میں ڈاکٹری نسخے کے بغیر اس کو اپنے قبضے میں رکھنا غیر قانونی ہے۔
  • برطانیہ میں یہ کلاس C کی دوا ہے اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں یہ شیڈیولIV کی ضابطہ شدہ مادہ ہے۔
  • طویل المدتی استعمال سے اس کے ساتھ وابستہ خطرات کے باعث ٹیمازیپام کو عام طور سے مختصر دورانیہ کے لئے ہی استعما کر وایا جاتا ہے۔
  • اس کا مسلسل استعمال اس کے لئے قوتِ برداشت پیدا کر سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے جیسے اثرات کے حصول کے لئے دوا کی زیادہ مقدار کی ضرورت ہوگی۔
  • ٹیمازیپام بہت زیادہ علت میں مبتلا کرنے والی ہے۔ کیوں کہ یہ دماغ کے اندرموجود کیمیائی توازن کو تبدیل کر دیتی ہے اور اس سے کیمیائی انحصاری پیدا ہوتی ہے۔ جب آخر کار استعمال کنندہ دوا کا استعمال بند کردیتا ہے تو اس کے بعد چھوڑے جانے کی شدید علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
  • اس دوا کو تفریحی مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے عموماً اس کو دیگر منشیات کے اثرات کو بڑھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں، مثلاً اس کو ہیروئن یا الکوحل وغیرہ کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔
  • ٹیمازیپام کے جیل والے کیپسولوں کے ساتھ غلط استعمال کے خطرات کے باعث اب یہ قانونی طور سے برطانیہ میں دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم اب بھی جیل والے کیپسیول دیگر ممالک سے لاکر بلیک مارکیٹ میں اسمگل کئے جا سکتے ہیں۔
  • ٹیمازیپام کو دیگر منشیات کے ساتھ ملانا خطرناک ہے خاص طور سے اگر اس کو دیگر مُسکنات مثلاً الکوحل وغیرہ سے ملایا جائے۔
  • بہت سے مُمالک میں نسخے کے طور پر لکھی جانے والی ادویات میں ٹیمازیپام سب سے زیادہ غلط استعمال ہوتی ہے۔

اعدادوشمار

  • بینزوڈائزاپائنز مختلف طرح کی 30 سے زائد ادویات ہیں اور ان میں سے ٹیمازیپام سب سے زیادہ غلط طور سے استعمال ہوتی ہے۔
  • برطانیہ اور دیگر مُمالک میں ٹیمازیپام کے تجویز کرنے کا معیاری عرصہ 2 سے 4 ہفتے ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ زیادہ عرصہ تک استعمال سے دوا کے اثرات کو برداشت کرنا کرنے کی قوت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر اس پر انحصار ی اور علت ہو سکتی ہے۔
  • بے خوابی کے علاج کے لئے اس کو 10 سے 30 mg کی خوراک میں استعمال کروایا جاتا ہے۔
  • ٹیمازیپام کے اثرات کو ظاہر ہونے میں اوسطاً 10 سے 20 منٹوں کا وقت لگتا ہے، تاہم اس کا انحصار فرد پر اور فرد کے دواکو برداشت کرنے کی قوت پر ہے۔
  • ٹیمازیپام کی ایک خوراک کے اثرات چھہ سے آٹھ گھنٹے تک رہنے چاہیئیں، لیکن اس کا انحصار پھر بھی فرد پر اور اس پر ہوتا ہے کہ وہ دوا کو کتنے عرصے سے استعمال کر رہا ہے۔
  • 1999 میں اسکاٹ لینڈ میں منشیات کے باعث ہر تین میں سے ایک موت میں ٹیمازیپام شامل تھی، اس کو عموماً ہیروئن کے ساتھ جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔
  • 2010 میں انگلستان اور ویلز میں 307 اموات کے ڈیتھ سرٹیفیکٹ پر بینزوڈائزیپائنز (دوائوں کی وہ درجہ بندی جس میں ٹیمازیپام بھی شامل ہے) کو بھی لکھا گیا تھا۔ یہ تعداد 2006 کی 177 سے بڑھی تھی، اور ہر درمیانے سال میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
  • 2008/9 میں برطانیہ میں پولیس نے 609 مرتبہ ٹیمازیپام کو غیرقانونی طور سے پکڑا، اور یہ اب تک کی پکڑی گئی سب سے بڑی تعداد ہے۔
  • 2008/9 میں کلاس C کی ادویات کی درجہ بندی میں سے بینزو ڈازئزیپائنز کو بہت زیادہ تعداد میں پکڑا گیا اور پکڑے جانے کی یہ مجموعی تعداد 4029 تھی، جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ 40% زیادہ تھی۔ پکڑی جانے والی مقدار 1.8 ملین خوراکوں کے برابر تھی۔

علت کی علامات

بینزوڈائزیپائنز عمومی طور سے اور ٹیمازیپام خاص طور سے انتہائی علت میں مبتلا کرنے والی ہو سکتی ہیں۔ اس لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ طبی استعمال کے دوران احتیاط کی جائے۔ خاص طور سے ایسے لوگوں کے معاملے میں جو پہلے بھی ادویات کا غلط استعما کرتے رہے ہوں۔ ٹیمازیپام کو اگر چند ہفتوں سے زیادہ عرصے تک استعمال کیا جائے تو یہ شدید جسمانی (کیمیائی) انحصاری پیدا کر سکتی ہے۔

جتنا زیادہ عرصہ کوئی شخص دوا کو استعمال کر ے گا اتنا زیادہ اس کے اندر اس کو برداشت کی قوت پیدا ہوگی تو یوں پہلے جیسے اثرات کے حصول کے لئے زیادہ طاقتور خوراکوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیوں کہ یہ دوا دماغ کے کیمیائی توازن میں تبدیلی کردیتی ہے اس لئے اس کو بند کردینے سے چھوڑنے کے شدید اثرات کا تجربہ ہو سکتا ہے، جس میں دوا کو جاری رکھنے کی طلب بھی شامل ہے۔ وہ افراد جو ٹیمازیپام کے عادی ہو جاتے ہیں ان کاخیال ہوتا ہے کہ وہ دوا کے استعمال کے بغیر اپنے روزمرہ کے کام کاج انجام نہیں دے پائیں گے اس لئے ڈاکٹر کی تجویزکردہ خوراک سے زیادہ اور جلد جلد اس کو استعمال کرتے ہیں۔

ٹیمازیپام کے عادی افراد کا خیال ہوتا ہے کہ وہ اس دوا کے بغیر روزمرہ کے کام انجام نہیں دے پائیں گے۔ اور اگر ان کو یہ دوا تجویز کردہ ہے تو ڈاکٹر کی مقررہ کردہ مقدار سے زیادہ استعمال کریں گے یا اس کو زیادہ جلدی جلدی استعمال کریں گے۔

کئی معاملات میں یہ دوا کوئی قابل ذکر اثرات تو ظاہر نہیں کرتی لیکن اس کو ناگوار ضمنی اثرات سے بچنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جن میں ذہنی دباؤ، اضطرابیت، جذبات میں غیر معمولی تبدیلی، سردرد، تشنج، متلی اور غنودگی شامل ہیں۔

اگر کوئی اس دوا کا عادی ہے تو اس میں کئی طرح کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ان کے نیندکے اوقات میں خلل پڑ سکتا ہے اور وہ دن کے اوقات میں بھی غنودگی کے عالم میں نظر آسکتے ہیں۔ ٹیمازیپام کا استعمال نسیان بھی پیدا کرسکتاہے، جس میں کوئی فرد اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں تو انجام دیتا ہے تاہم بعد میں انہوں نے جو کچھ کیا ہوتا ہے اس کو بھول جاتے ہیں۔ وہ موڈ کے طابع یا الگ تھلگ بھی ہو سکتے ہیں یا چلنے پھرنے میں وہ آہستہ اور لڑکھڑاتے ہوئے ہونگے۔ ٹیمازیپام کی علت کو پیشہ ورانہ طور سے ٹھیک کیا جانا چاہیئے کیوں کے یہ بہت دقت طلب اور لمبا ہو سکتا ہے۔

علاج

ٹیمازیپام قدرتی طور سے دماغ میں پائے جانے والےدماغ کو ’پرسکون‘ کرنے والے GABA نیوروٹرانسمٹرز کے اثر کو بڑھاتی ہے۔ دوا کو جب طویل عرصہ تک استعمال کیا جاتا ہے – یعنی ایک ماہ یا اس سے زائد – تو جسم جب دوبارہ توازن پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کی اپنی GABA کی پیداوار کم ہوجائی گی۔

اس کے دو اہم نتائج برآمد ہونگے؛ اول، نیند لانے اور آرامدہ کیفیت کے حصول کے لئے دوا زیادہ سودمند نہیں ہوگی اور دوا کی برداشت کی قوت میں اضافے کے باعث پہلے جیسے اثرات کے حصول کے لئے زیادہ خوراک کی ضرورت ہوگی۔ دوئم، جب دوا کا استعمال بند کردیا جاتا ہے تو جسم توازن برقرار رکھنے کے لئے درکار GABA پیدا نہیں کرپاتا اور یوں جسم کی اپنی قدرتی آرامدہ کرنے کے تدبیر ناکافی ثابت ہوتی ہے۔

وہ لوگ جو ٹیمازیپام کو چھوڑتے ہیں ان میں سے چھوڑنے کے اثرات کا تجربہ ہر شخص کا الگ الگ ہوتا ہے۔ اور اس کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ کوئی کتنے عرصہ سے اور کتنی طاقتور خوراک استعمال کر رہا ہے۔ چھوڑے جانے کی علامات میں پیٹ کی مروڑ، عارضی ناکابندی، شدیدذہنی دباؤ، پریشانی، فریبِ نظر، خودکشی کے خیالات، نیند میں خلل، بے چینی، غیرمتوقع جارحیت اور فشارِخون میں تبدیلی شامل ہیں۔

یہ چھوڑے جانے کی علامات اس وقت اور بھی زیادہ خراب ہوجاتی ہیں جب ٹیمازیپام کو لمبے عرصے استعمال کرنے والے دوا کی جلدی جلدی اور زیادہ خوراکیں لینا شروع کر دیتے ہیں، چاہے ان کو اس سے بہت کم یا بالکل بھی فائدہ نہ ہورہا ہو۔ بہت سے معاملات میں عادی افراد محض دوا کے ناگوار ضمنی اثرات سے بچنے کے لئے دوا کو لینا جاری رکھ سکتے ہیں۔

تمام دوسرے علت میں مبتلا کرنے والے موادوں کی طرح جسم ٹیمازیپام کا بھی عادی ہوجاتا ہے اور یہ ’سمجھنے‘ لگتا ہے کہ یہ کوئی اایسی چیز ہے جس کی اس کو ضرورت ہے اور یہ اس کے اندر قدرتی طور پر پیدا ہوتی ہے۔

ٹیمازیپام کو طویل عرصہ تک غلط طریقے استعمال کرنے کے بعد فوری طور سے بند کرنے کا مشورہ شاذ ہی دیا جاتا ہے اور اس حوالے سے پہلا قدم ہمیشہ کسی ڈاکٹر یا کسی موزوں پیشہ ور طبی ماہر سے مشورہ ہی ہونا چاہئے۔

ٹیمازیپام کی علت کے علاج کے لئے عام طور سے خطرناک اور ناگوار ضمنی اثرات کو کم کرنے کے لئے بہت آہستہ سے خوراکیں کم کروائی جاتی ہیں۔ جسم میں دوا کی بتدریج مقدار کم کرنے سے جسم کو کیمیائی توازن کی تبدیلیوں کو قبول کرنے کے لئے وقت مل جاتا ہے، جس میں سب سے نمایاں GABA کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے تاکہ تلافی کی جا سکے۔

بعض مرتبہ چھڑائے جانے کے ابتدائی مرحلہ میں ٹیمازیپام کی جگہ کسی دوسر ی بینزوڈائزپائن مثلاً ڈائزیپام وغیرہ بھی تجویز کی جاتی ہے، اور پھر اس کو بتدریج کم کر کے بند کردیا جاتا ہے۔ بہت سے پیشہ ور طبی ماہرین اچانک چھڑائے جانے سے مریض کی زندگی کو خطرہ میں ڈالنے اور اس کے صحت اور تندرستی پر پڑنے والے اثرات کے مقابلے میں اس آہستہ عمل کو ترجیح دیتے ہیں۔

شدید علت کی صورت میں مریض کسی خاص بحالی کے مرکز میں بھی علاج کروا سکتا ہے۔ وہاں پر مستند پیشہ ور طبی ماہرین کی نگرانی میں سم ربائی کا عمل بھی کیا جاسکتاہے اور علت میں مبتلا ہونے کے اسباب سے بھی نبٹا جاسکتاہے اور دوبارہ اس علت میں مبتلا ہونے سے بچنے کے لئے حکمتِ عملیاں بھی بنائی جا سکتی ہیں۔

جیساکہ ٹیمازیپام دوسری قانونی یا غیرقانونی منشیات مثلاً ہیروئن اور الکوحل کے ساتھ ثانوی علت ہوتی ہے، اس لئے یہ بھی ضروری ہو سکتا ہے کہ ایک جامع اور طویل المدتی علاج کا پروگرام ترتیب دے کر ہر علت سے الگ الگ نبٹا جائے۔ اس میں نہ صرف طبی بلکہ نفسیاتی علاج بھی شامل ہو سکتا ہے۔