منشیات کے حوالے سے عالمی معلومات کا نیٹ ورک

ہماری جامع عالمی ڈائریکٹری کنسلٹ کریں

26 فروری 2017

Preoccupation with muscle mass may spur steroid use among non-athlete men

A new viewpoint written by scientists from the National Institute on Drug Abuse (NIDA) and Harvard Medical School describes that a growing number of young, non-athlete men are using androgenic-anabolic steroids (AAS) and other appearance and performance enhancing drugs. The authors suggest that this trend could be partly driven by an idealized male image that increasingly focuses on muscularity, as illustrated in magazines, movies, advertisements, and television. This, in turn, could help explain the rising number of young men who report dissatisfaction with their body size and shape, and preoccupation with increasing muscle mass.

AAS use is associated with other drug use disorders, needle-born infections, psychological consequences, and disease of the heart, kidney and liver. However, long term studies are needed to determine the prevalence, patterns of use, health consequences, and effective prevention and treatment strategies.

مزید پڑھیں >

25 فروری 2017

ایک امریکی مطالعہ: اوپیڈز کوکین کے زیادہ مقدار میں استعمال سے ہونے والی اموات میں اضافہ کر رہے ہیں

قومی رجحان کے ڈیٹا کا جائزہ دکھاتا ہے کہ ہیروئن اور مصنوعی اوپیڈز سے  حال ہی میں کوکین کے زیادہ استعمال سے ہونے والی اموات  اضافہ ہو ا ہے۔

اس تشخیص کا انعقاد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈرگ ابیوز (این آئی ڈی اے) ، نیشنل سینٹر فار انجری پروینشن اینڈ کنٹرول (سی ڈی سی)  اور یو۔ ایس ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کی جانب سے کیا گیا۔

رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ کوکین کے زیادہ مقدار میں استعمال سے ہونے والی اموات ۲۰۰۰ اور ۲۰۰۶ کے درمیان بڑھ گئیں اور ۲۰۰۶ اور ۲۰۱۰ کے درمیان کم ہوئیں (رسد میں کمی اور گلیوں میں قیمتوں میں اضافےکے ساتھ موافق)۔ تاہم، کوکین کے استعمال میں کمی کے باوجود بھی کوکین کے زیادہ مقدار میں استعمال سے ہونے والی اموات میں   ۲۰۱۰ میں اضافہ ہوگیا۔

سائنسدانوں نے پایا کہ یہ تازہ ترین اضافہ کوکین کے زیادہ مقدار میں استعمال سے ہونے اموات سے متعلق تھا جس میں اوپیڈز ملوث ہیں خاص طور پر ہیروئن یا پھر مصنوعی اوپیڈز۔ اس سے  بڑھتی ہوئی رسد اور ہیروئن کے استعمال اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں غیرقانونی فینٹالن کے تیار کئے جانے کا بھی پتہ چلتا ہے۔ منشیات کے زیادہ مقدار میں استعمال کے ڈیٹا کو سی ڈی سی نیشنل وائیٹل اسٹی ٹسٹکس سسٹم سے جمع کیا گیا۔

یہ نتائج عوامی صحت کی حکمتِ عملیوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں ، یعنی اوپیڈز کے زیادہ مقدار میں استعمال کے اثر کو زائل کرنے کے لیے نلاکسن تک وسیع تر رسائی، بشمول کوکین استعمال کرنے والے افراد کو نلاکسن کی فراہمی اور اوپیڈز کے استعمال کے عارضوں میں طبی امداد والے علاج معالجے کا پھیلاؤ وغیرہ۔

مزید پڑھیں >

23 فروری 2017

این آئی ڈی اے: مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ ہائی اسکول کے برقی سگرٹ استعمال کرنے والے چار میں سے ایک نے ''ڈرپنگ'' استعمال کی ہے

ہائی اسکول کے طلبہ میں کئے جانے والے ایک مطالعہ میں پایا گیا ہے کہ  چار میں سے ایک کم عمر نوجوان نے بتایا ہے کہ انہوں نے ''ڈرپنگ'' کے لیے برقی سگرٹ استعمال کیا ہے ، یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں  استعمال کنندہ برقی سگرٹ کے مایع کو براہِ راست عرق پاش کی گرم کوائل پر ٹپا کر بخارات  پیدا کرتا ہے  اور پھر سانس اندر کھینچ کر استعمال کرتاہے ۔ایک سروے میں کنیکٹ کٹ ہائی اسکول کے ۱۰۸۰ طلبہ جنہوں نے برقی سگرٹ استعمال کئے ان میں سے ۲۶ عشاریہ ۱ نے اس رویہ کے بارے میں بتایا۔ اس سروے میں پایا گیا کہ ڈرپنگ کے عمل میں بخارات سے زیادہ گاڑھا دھواں  پیدا کیا جاتا ہے (۶۳ عشاریہ ۵ فیصد) ، ذائقے میں بہتری لائی جاتی ہے (۳۸ عشاریہ ۷) اور  اس سے  گلے  میں زیادہ کڑواہٹ کا احساس پیدا کیا جاتا ہے (۲۷ عشاریہ ۷) ۔ اس تحقیق کومالی معاونت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈرگ ابیوز اور ایف ڈی اے سینٹر فار ٹوبیکو پروڈکٹس کی جانب سے دی گئی ہے۔

مصنفین نے زور دیا ہے کہ اس طرح کے طریقہ کار میں موجود ممکنہ خطرات کے حوالےسے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور اس طریقہ کار کے ذریعے برقی سگرٹ کے مایع مود کو انتہائی شدید درجہ حرارت پر رکھنے سے پیدا ہونے والے ذہریلے گرم بخارات کے بارے میں مستقبل کے حفاظتی مطالعات کے انعقاد کے بارے میں بھی سفارشات کی گئی ہیں۔ مصنفین نے اس کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے کہ برقی سگرٹ کے ان متبادل استعمال کے رویوں کے ممکنہ خطرات کے بارے میں نوجوانوں کو تعلیم دینے  کے لیے بچاؤ کے پروگرام تیار کئے جائیں۔

مزید پڑھیں >

22 فروری 2017

ڈجیٹل منشیات: اس کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ یہ علت کا باعث بنتی ہیں

ڈجیٹل منشیات، یا جنہیں  زیادہ درست طور پر  دوگوشی بیٹس کہا جاتا ہے، ایسی آوازیں ہوتی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے ان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ دماغی لہروں کے نمونوں میں تبدیلیاں پیدا کردیں اور شعور کی ایسی تبدیل شدہ کیفیت پیدا کردیں جو منشیات استعمال کرنے یا پھر انتہائی گہرے طور پر مراقبہ کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔

دوگوشی بیٹس اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب دو اصوات کو بالکل کم فرق کی فرکوئنسیوں کے ساتھ ایک ساتھ چلایا جائے۔ہیڈفونز کے بغیر ان دو فریکوئنسی میں پایا جانے والا معمولی فرق سننے والے کو ایسے محسوس ہوگا کہ جیسے یہ ایک ہی صوت ہو جو ہلکا سا لرز رہی ہو۔ تاہم، ہیڈفون کے ساتھ یہ دو اصوات ایک دوسرے سے الگ ہوجاتی ہیں اور سننے والا ہر فریکوئنسی کو صاف طور پر الگ الگ کان میں سنتا ہے۔جیسے جیسے دماغ ان دواصوات پر عمل کرتا ہے تو وہ ان دو فریکوئنسیوں کے  درمیان موجود ہلکے سے فرق کو بھی محسوس کرلیتا ہے۔ سننے والے کو یہ فرق سر کے اندر تال والی بیٹ محسوس ہوتی ہے۔

دماغ تال کی مہیج پر ایک برقی قوت محرکہ کے طور پر عمل کرتا ہے۔ ڈجیٹل منشیات کا ہدف جان بوجھ کر یہی ہوتا ہے کہ برقی قوت محرکہ کو کنٹرول کیا جائے اور سننے والے کے دماغ کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ اپنی دماغی لہروں کے ساتھ دوگوشی بیٹس کی ہم آہنگی کرے۔ ایک مخصوص فریکوئنسی کی سطح کے اندر دوگوشی اصوات کا انتخاب کرکے اس ہم آہنگی کو حاصل کیا جاتا ہے جس کو فریکوئنسی فالوئنگ ریسپانس (ایف ایف ایف) کہا جاتا ہے اور یہ  ایک خیال کا حصہ ہے جس کو سوار ذرات کہا جاتا ہے۔ سوار ذرات، یعنی ایک دوسرے کے ساتھ حیاتیاتی تال  کی ہم آہنگی کوئی نیا خیال نہیں ہے۔ یہ کئی طرح کے مراقبوں اور طبی حیاتیاتی فیڈ بیک کی بنیاد ہے۔

شارجہ پولیس ریسرچ سینٹر (متحدہ عرب امارات) کے اسٹٹس ٹیکل ڈیویژن کے سربراہ ڈاکٹر قاسم عامر کے مطابق ڈجیٹل منشیات کا اثر محض ایک من گھڑت بات ہے۔

شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر کے کلچر پروگرام میں سنیچر کے روز لیکچر دیتے ہوئے ڈاکٹر عامر نے کہا کہ ڈجیٹل منشیات کے منفی اثرات یا پھر یہ کے ان سے کسی طرح کی علت پیدا ہوتی ہے اس کا کوئی بھی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اس مفروضے کے مطابق دماغ دائیں اور بائیں کان سے آنے والی فریکوئنسیوں پر اس طرح سے رد عمل کرتا ہے کہ جس سے اس میں تحرک پیدا ہوجاتا ہے اور اس طرح کرنے سے دماغ میں منشیات کے استعمال کے بعد پیدا ہونے والی کیفیت سے ملتی جلتی دماغ کی تبدیل شدہ کیفیت کا ایک جھوٹا تاثر پیدا ہوجاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی تحقیق سے معلوم ہو ا ہے کہ یہ ان ویب سائیٹوں کی اپنی تشہیر کی حکمتِ عملی ہے جس میں سننے والوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بیٹس سننے سے پہلے  لازمی طور پر ہدایات کی فہرست پر عمل کریں  جس  میں پانی پینا بھی شامل ہے اور اس طرح کرنے سے اس کےمستند ہونے کا دھوکہ دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ان آڈیوٹریکس کی قیمتیں ۳ ڈالروں سے لیکر ۳۰  ڈالروں تک  ہوتی ہیں اور بعض ویب سائیٹیں دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ آپ کی ضروریات کے مدِ نظر آپ کے لیے ٹریس بنا سکتی ہیں لیکن ظاہر ہے پھر اس کے لیے قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے جو لگ بھگ ۱۰۰ ڈلروں تک پہنچ جاتی ہے''

ڈاکٹر عامر نے وضاحت کی کہ حالانکہ انٹرنیٹ پرموجود وڈیوز دکھاتی ہیں کہ نوجوان لوگ سرمستی کی کیفیت میں ڈوب جاتے ہیں اور یہ بھی دکھایا جاتا ہے کہ ان کی سانس بہت تیز تیز چلنے لگتی ہے اور دل کی دھڑکن بھی تیز ہوجاتی ہے ، لیکن حقیقت میں یہ سچ نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کسی بھی قسم کا اثر محسوس کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس شخص نے پہلے سے کوئی نہ کوئی منشیات استعمال کر رکھی ہو۔

انہوں نے وضاحت کی کہ تاریخی طور پر دوگوشی بیٹس کو بعض عارضوں مثلاً ہلکے ذہنی تناؤ اور بے چینی کے علاج معالجے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ صحت ڈجیٹل منشیات کو حقیقی منشیات تصور نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ''ڈجیٹل منشیات کا حقیقت خطرہ یہ ہے کہ اس سے نوجوان لوگ حقیقی منشیات کی جانب مائل ہوسکتے ہیں۔''

مختصراً یہ کہ ڈجیٹل منشیات محض ایک من گھڑت قصہ ہے اور اقوامِ متحدہ  اپنی کسی بھی سائنسی میٹنگ یا پھر عالمی پالیسی کی میٹنگوں میں اس پر تحقیق کے بارے میں غور نہیں کر  رہی ہے۔

مزید پڑھیں >

21 فروری 2017

کھت نے کتنی فصلوں کو جڑ سے اکھاڑدیا ہے!

کھت یا قط ایک ایسا پوداہے جو دورِ قدیم  سے جاناجاتا ہے۔اس سے متعلق درختوں کو تقریباً ۶۰۰ سے ۸۰۰ میٹروں کے درمیان بلندیوں کے پہاڑی مقامات پر اگایا جاتا ہے۔ کھت کا ایک درخت ۴ سے ۲۵ میٹروں تک کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔ مزیدبرآں، کھت کا تعلق مدامی پودوں سے ہے جن کےپتے سدابہار  اور نوکیلے ہوتے ہیں اور ان کا رنگ بھورا اور لال ہوتا ہے۔ اس درخت کے پتوں کو خاص اہمیت ہوتی ہے خاص طور پر وہ پتے جو درخت کی چوٹی پر ہوتے ہیں۔ اس کے اندر فعال مواد کو ''کیتھین'' کہا جاتا ہے۔ کھت کو عموماً ایک تحرک پیدا کرنے والے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ غم اور ذہنی دباؤ کا علاج کرتا ہے۔کھت کی کاشت صومالیہ، ایتھوپیا، یمن اور جزیرہ نما عرب کے بعض جنوب مغربی علاقوں میں پھیل چکی ہے، جہاں سے وہ برِّاعظم افریقہ میں چلی گئی ہے۔ کھت کا سائنسی نام ''کھاتا ایڈولس'' ہے۔

جدید ترین سائنس کے مطابق کھت ایک پھول دینے والا پودہ ہے جس میں کیتھونین مرکب پایا جاتا ہے جوقلوی مونوامائین ہے اوریہ  تحرک پیدا کرنے والے ایم فیٹامین سے ملتا جلتا ہے۔یہ اشتہا میں کمی لاتا ہے اور اس سے خیالی فعال بیشی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے؛ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس کو ایک نقصاندہ منشیات قرار دیا گیا ہے جس سے علت پیدا ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ  دنیا کے اکثر ممالک کے ساتھ ساتھ  خلیجی تعاون کونسل کے تمام ممالک میں کھت کی درجہ بندی ایک غیرقانونی موادکے طور پر کی گئی ہے۔ کھت کا ایک نقصان یہ ہے کہ اس میں دماغ کے تحرک پیدا کرنے والے پائے جاتے ہیں جس سے دماغ کی  سرگرمی کی کیفیت میں تیزی پیدا ہوجاتی ہے جو ڈیڑھ گھنٹے سے لیکر تین گھنٹے تک جاری رہتی ہے جس کے بعد استعمال کنندہ مکمل غیرفعالیت کی کیفیت ، بلند فشارِ خون اور دل کے پٹھوں میں انفعام محسوس کرتا ہے۔ مزید برآں، زیادہ گھنٹوں  تک کھت کے پتوں کو چباتے رہنے سے اچانک دل کے دورے کے واقعات ہوتے ہیں۔ کھت اشتہا میں کمی کا بھی ایک اہم سبب ہے اور اس سے منہ اور مسوڑوں میں مہلک ٹیومر بھی پھیلتا ہے اور اس کو طبی مسائل بشمول معدے کے السر کے علاوہ پھیپھڑوں کے سرطان کا بھی ایک سبب سمجھا جاتا ہے ، خاص طور پر جب یہ تمباکو نوشی کی عادت کے ساتھ ہو۔

دوسری جانب خاندان کے مالی وسائل میں پیدا ہونے والی کمی کے باعث کھت کے استعمال سے خاندانی انتشار بھی پیدا  ہوتا ہے جس کا اثر صحت اور تعلیم پر بھی پڑتا ہے۔ درحقیقت کھت استعمال کرنے والا کام میں دلچسپی کھودیتا ہے اور اس کی پیداواری اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی آجاتی ہے؛ لہٰذا اپنی علت کے باعث یہ شخص اس قابل نہیں رہتا کہ وہ اپنے خاندان کی مادی ضروریات کو پورا کر پائے۔

مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کھت کے پودے کے لیے بہت زیادہ پانی درکار ہوتا ہے جو ظاہر ہے اس ملک کے لیے بہت ضروری ہے جہاں پر اس پودے کو اگایا جاتا ہے۔ مثلاً ''ثنا'' شہر کے لیے مختص نصف سے زیادہ پانی کی مقدار کھت کے پودے کی کاشت لے جاتی ہے، جس کے باعث پانی کے ذرائع میں بہت زیادہ کمی پیدا ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں، کھت نے یمن میں سودمند فصلوں کی جگہ لے لی ہے جس کے باعث ملک میں کام اور پیداواری گھنٹوں   میں کمی ہوئی ہے اور ملک میں بے روزگاری بہت زیادہ پھیل گئی ہے۔غربت کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے؛ اس وقت یمن کے بچے اور نوجوان کسمپرسی اور محرومی سے گزر رہے ہیں جس کے باعث جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

آخر میں ہم یہاں پر یمنی شاعر مبروک مارامی کے اقوال دے  رہے ہیں:

''اے خدا کھت کو کبھی معاف مت کرنا۔۔۔

جس میں کئی نقصاندہ بیماریاں ہیں

اس نے کتنی فصلوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے

ڈاکٹر علی عاید حمیدان- منشیات اور تحلیلِ نفسی موادوں کے میدان میں ایک بین الاقوامی ماہر

مزید پڑھیں >

20 فروری 2017

ایلیکٹرو شاک کے ذریعے سائنسدان منشیات کی علت کا ایک نیا علاج معالجہ بنا رہے ہیں

ایک نئے طبی مطالعہ میں پایا گیا ہے کہ انسانی دماغ میں علت کے ذمہ دار دماغی حصے کو تحرک دے کر ایلکٹرو شاک تھیراپی (ای سی ٹی) کی مد د سے ہیروئن کی علت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

سائنسدانوں نے یہ اہم کامیابی سینڈیاگو میں قائم  اسکارپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ  میں چوہوں پر حاصل کی ہے جس میں یہ علاج معالجہ ''علت'' مبتلا چوہوں کو منشیات کا استعمال کم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ محققین کی ٹیم کا خیال ہے کہ ان حیران کن نتائج سے علت کا معتبر اور فیصلہ کن علاج معالجہ  دریافت ہوجانے کی قوی امید ہے۔ اس مطالعے کے دوران انہوں نے  مزاحمت کے لیے ذمہ دار دماغ کے ''ہائی پوتھیلامس نیوکلیس'' نامی حصے پر توجہ مرکوز رکھی اور ابتدائی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس حصے کو ہدف بنانے سے پارکن سن کی علامات میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

دیگر مطالعات میں بھی یہ پایا گیا ہے کہ اس حصے کو ہدف بنانے سے کوکین کی علت میں کمی لائی جاسکتی ہے، تاہم اب اس نئے مطالعے سے اب یہ ممکن ہے کہ دوا کے استعمال کے بغیر ہی ہیروئن کی علت کا علاج معالجہ کیاجا سکے ، کیوں کہ ادویات سے جسم پر بہت تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس مطالعے کے مصنف اولیور جارج وضاحت کرتے ہیں کہ: ''یہ انتہائی مشکل تھا کہ نشہ آور موادوں کہ رد عمل پر قابو پایا جاتا ، اس لیے ہم نے لیبارٹری کے چوہوں کو استعمال کیا ، کیوں کہ ہیروئن انتہائی طاقتور علت میں مبتلا کرنے والی منشیات ہے۔ انسانوں پر اس علاج معالجے کے اطلاق سے پہلے یہ  نتائج بہت متاثر کن ہیں  اور ہماری توقعات کے عین مطابق ہیں۔ ''۔ عموماً مطالعے کے دوران لیبارٹری کے چوہوں میں منشیات کے استعمال کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے اس سے علت کی دیگر علامات کا پتہ چلتا ہے۔ دو ہفتوں کی علت کے عرصہ کے بعد چوہو ں میں نشہ آور مواد کے استعمال کی شرح کم ہوکر معمول کی سطح پر آگئی۔ تاہم، مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ''نشہ چھوڑدینے'' کے عرصے کے بعد وہ چوہے جن کو ایلکٹروشاک نہیں لگائے گئے تھے وہ بڑی تیزی  سے             ''دوبارہ '' نشہ آور موادوں کو استعمال کرنے لگے تھے۔

مزید پڑھیں >

منشیات اور نشہ آور

چالیس سے زیادہ تر نشہ آور ادویات اور مواد کے غلط استعمال ، پیداواری ممالک، بڑے بڑے اثرات، علامیتیں اور علاج کے متعلق جانیں۔

ڈاکٹر سے پوچھیں۔

خواہ علت میں آپ مبتلا ہوں یا کوئی آپکا قریبی عزیز، اس قسم کی کسی بھی علت کے متعلق معلومات کے لیے آپ کی پہلی ترجیح۔

GINAD

این آئی ڈی اے: مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ ہائی اسکول کے برقی سگرٹ استعمال کرنے والے چار میں سے ایک نے ''ڈرپنگ''… https://t.co/E0dHwWEe8k

25 فروری 2017

Une étude révèle qu’un sur quatre lycéens utilisateurs de la cigarette électronique ont essayé le « dripping »… https://t.co/7bKA4c8Owg

25 فروری 2017

المعهد الأمريكي لتعاطي المخدرات: واحد من أصل أربعة طلّاب من مستخدمي السّجائر الإلكترونية جرّبوا "التّقطير"… https://t.co/J0qnKpqLQM

25 فروری 2017

NIDA: Study finds one in four high school e-cigarette users have tried “dripping” https://t.co/LWo8tQN6i0 https://t.co/Vpo5nGk5X4

25 فروری 2017

ڈجیٹل منشیات: اس کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ یہ علت کا باعث بنتی ہیں https://t.co/ooe7EqEvUU https://t.co/EJ4uSHXiMN

22 فروری 2017