منشیات کے حوالے سے عالمی معلومات کا نیٹ ورک

ہماری جامع عالمی ڈائریکٹری کنسلٹ کریں

23 مارچ 2017

"Amphetamine".. addiction with medical authorization

"Amphetamine", one of the derivatives of "phenethylamines", is used by some as a stimulant, appetite suppressant and aphrodisiac without realizing that it causes addiction after a short period of consumption that does not exceed two weeks .

This substance is classified as a drug that does not exist in Egypt, due to the current crisis in the Egyptian pharmaceutical market. It is therefore imported from abroad, and the first cause of its consumption is weight loss. The alternative for this drug is the "Contessa" which appears in the table of drugs. Amphetamine is considered to be a stimulant, used at specific doses to treat hyperactivity in children, without knowing that it is addictive, until they show signs of addiction after weeks of use.

Among the cases of addiction caused by this drug, a young girl at the American University called "Mona" who consumed it in order to lose weight without knowing the risks. One of his friends subsequently offered her powdered drugs until she reached the last stage of addiction and began to show addiction symptoms. Pushed to resort to a doctor and undergo a rehabilitation program. It took her an entire year to recover from her addiction to this drug.

Dr. Abdul Rahman Hammad, Head of Dependence Department at the Abbasside Hospital says that some people become addicted to this substance without realizing it, while others consume it for recreational purposes.

Hammad pointed out that the active ingredient in this drug is lighter than heroin, but it’s more expensive than cannabis and cheaper than the powdered drug. He noted that this drug was advised initially by doctors in the treatment of obesity, but when discovering its effects, they stopped prescribing it to patients. Hammad also pointed out that this synthetic product leads to loss of appetite and an increase in libido, but eventually it decreases sexual abilities and leads to insomnia, psychological disorders and hallucinations.

Among the cases of addiction, there’s "Mohammed", an Egyptian working in Kuwait. He used this drug to lose weight and as an aphrodisiac for a long time, which resulted in a decrease in his sexual abilities thereafter.

Hammad said that the majority of Arab patients addicted to this drug he treats, use it to increase their sexual desire, only to find themselves later affected by sexual disorders.

Regarding the consumption of this product for weight loss, Hammad said that the addicted to this drug follows a rehabilitation program of one to three months, and he is interned in the hospital during the first treatment period , which costs 5,000 pounds and in some hospitals it can cost between 50,000 or 60,000 pounds per month.

Reasons for consuming of this substance

Hammad added that some cases he treats take this synthetic product as an aphrodisiac, others as a substance leading to hallucinations in order to flee their psychological problems, others to find sleep, while some people use it in order to lose weight without realizing the risks it generates.

مزید پڑھیں >

22 مارچ 2017

''منشیات کا علاج معالجہ''ایک مہارت جو موراکوکی فیکلٹیز آ ف میڈیسن میں سکھائی جاتی ہے

کاسابلانکا میں فیکلٹی آف میڈیسن ایند فارمیسی سے تعلق رکھنے والی بایوکیمسٹری، نیوٹریشن اور مالیکیولر بایولاجی کی ٹیم نے موراکن ایسوسیئشن فار کمیونیکیشن آن ہیلتھ کی شراکت داری سے منقلب نفسی موادوں (منشیات) کے بارے میں پہلے دن کے بحث مباحثوں کے کرنے کا اہتمام کیا ہے جس کا انعقاد آئیندہ سنیچر کے روز ۲۵ مارچ ۲۰۱۷ کو کاسابلانکا میں فیکلٹی آف میڈیسن اینڈ فارمیسی میں کیا جائے گا۔

علت کے بارے میں یہ پہلے دن کا اہتمام بڑے پیمانے پر ہر قسم کے نشہ آور موادوں کے پھیلنے کے مدنظر کیا گیا ہے جن قدرتی نشہ آور موادوں یعنی گانجے، بھنگ، چائے اور کافی یا پھر مصنوعی نشہ آور مواد مثلاً   مانع افسردگی، مسکِّن اور اوپیٹس وغیرہ شامل ہیں۔

ان مجوزہ تاریخوں کے دوران ہونے والے سیمنیاروں میں اعصابی نظام پر اثر ڈالنے والی منشیات اور منشیات سے بچاؤ اور علاج معالجے کی قومی حکمتِ عملی کے بارے میں توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس حکمتِ عملی کے فریم ورک کے اندر بچاؤ، علاج معالجے اورسیکورٹی کے اقدامات کے بارے میں بھی غور کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس لعنت سے مقابلہ کرنے کے لیے معاشرے کی مدد کے سلسلے میں اب علت کے علاج معالجے کے بارے میں طبی اسکولوں میں بھی سکھایا جا رہا ہے۔ اس طرح کے کورس مکمل کرنے والے ڈاکٹر اس قابل ہوں گے کہ وہ ادویات کے ذریعے علت کا علاج معالجہ کرپائیں تاہم اس کا انحصار اس پر ہے کہ مریض کس قسم کی منشیات استعمال کر رہا ہے۔ یہ علاج معالجہ منشیات کے علاج معالجے کے مراکز، صحت کے مراکز، نجی کلینکس یا نفسیاتی اور بیہیورئیل مراکزمیں انفرادی یا پھر اجتماعی طور پر ہوتا ہے۔

اس تناظر میں ڈائریکٹو ریٹ آف ایپی ڈیمکس اینڈ کنٹرول آف انفیکشن ڈزیز کے تازہ ترین مطالعے کے اعدادوشمار دکھاتے ہیں کہ ۶۰۰۰۰۰ موراکو کے باشندے روزانہ کی بنیاد پر منشیات استعمال کرتے ہیں جن میں سے ۱۶۰۰۰ افراد سخت منشیات جیسا کے ہیروئن اور کوکین کی علت  میں مبتلا ہیں  ۔ اگر روزانہ منشیات استعمال کرنے والے افراد کی تعداد دیکھی جائے تو سخت منشیات استعما ل کرنے والے افراد کی تعدا بہت زیادہ ہے۔ موراکوں میں منشیات کی علت کے بڑے اسباب میں شدیدترین غربت، سیکورٹی کی کمی،اور بے روزگاری ہیں جو ملک کے نوجوانوں کو متاثر کر رہی ہیں ۔

مزید پڑھیں >

21 مارچ 2017

مصر: جنوبی سینائی میں ۴۰ ایکڑوں پر مشتمل زمین پر منشیات کے ۱۶۵ کھیت برباد کر دیئے گئے

سرحدی محافظوں کے تعاون سے سوئز اور جنوبی سینائی میں مصری اہلکاروں نے منشیات کی غیرقانونی تجارت کرنے والوں پر ایک بہت سخت حملہ کیا، جہاں جنوبی سینائی میں ابرودس اور وادی فیران کے پہاڑی علاقوں میں قائم ۴۰ ایکڑوں کی زمین پر مشتمل  منشیات کے فارم کو تباہ کیا گیا ۔

اس مہم کی سربراہی مصر کے انسداد منشیات کے افسران کر رہے تھے اور یہ مہم مسلسل ۱۰ دنو ں تک جاری رہی اور یہ۲۵ جنوری کے انقلاب کے بعد  اپنی نوعیت کی پہلی کاروائی ہے جو ابرودس اور وادیوں  میں کی گئی اور اس میں منشیات کے کھیتوں کو تباہ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

اس مہم کے دوران جنوبی سینائی کےمنشیات کے کھیتوں سے ٹنوں کی مقدار میں بینجو منشیات بھی پکڑی گئی ۔

مزید پڑھیں >

20 مارچ 2017

سعودی عرب: دوا سازوں کے فورم نے دافع درد نشہ آور ادویات کی بہتر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے

نشہ آور دافع درد اور ضابطہ شدہ موادوں کے بارے میں فاراماسسٹ کلب کے ایک سائنسی فورم کی سرگرمیوں کے دوران فارماکالاجی اور سائکٹری کے میدانوں میں کئی ماہرین نے نشہ آور دافع درد ادویات اور ضابطہ شدہ موادوں  طریقہ کارکو تشکیل دینے اور مضبوط بنانے کے حوالے درخواست کی ۔ انہوں نے اس پر بھی زور دیا کہ منشیات کے نجی مراکز کو اس طرح کی ادویات کو نسخوں پر لکھنے کے قواعد کی پاسداری کرنی چاہیئے۔

اس فورم کا انعقاد کل (جمعرات) ریاض میں  ال امل مینٹل ہیلتھ کامپلیکس میں کیا گیا ۔ اس کا انتظام سعودی فارماسوٹیکل ایسو سیئشن نے ''صحت کے نظام کو جدیدترین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طریقوں سے ملانا'' کے عنوان کے تحت کیا گیا اور اس میں ۱۵۰ سے زیادہ ماہرین نے شرکت کی ۔

کامپلیکس کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ابشان الابشان نے شرکاء کا فورم میں خیر مقدم کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کامپلیکس اس طرح کے فورمز کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا جن کا مقصد علت میں مبتلا اور نفسیاتی مریضو ں کو پیش کئے جانے والے پروگراموں اور خدمات کی تیاری ہے، چاہے یہ علاج معالجے کی سطح پر ہو یا منشیات کے مسئلے میں کمی لانے کے لیے کمیونٹی کے اندر آگاہی کا پھیلانا ہو۔

سعودی کلب آف فارماسسٹس فار نارکوٹکس ڈرگز اینڈ کنٹرول سبسٹینسز کے صدر ڈاکٹر محمد چنائے نے زور دیا کہ فورم کا مقصد ماہر پریکٹی شنرز کو ایک ساتھ ملا کر نشہ آور اور ضابطہ شدہ ادویات کے بارے میں عوامی تصورات  میں تبدیلی لانا ہے اور ساتھ ہی تصورات اور اطلاق کے طریقوں کو تیار کرنے اور ان میں بہتری لانے کے لیے اس میدان کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ فورم کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس طرح کی مہارت کے بارے میں  دواسازوں کے کام  کے حوالے سے  خیالات کی وضاحت کی جائے   اور جدید دور کے اعدادوشمار کے مطابق اور مریضوں کے لیے ادویات کی زیادہ سے زیاد ضروریات کو پورا کرکے  اس میدان میں بہتری لائی جائے ۔اس قسم کی ادویات کو کم کرنے کے بجائے ان باقاعدگی کےلیے اس طرح کی دیکھ بھال لازمی طور پر منقلب نفسی مواد پر ضابطہ کے نظام کے طریقہ کارکی رہنمائی کے مطابق ہو۔

مزیدبرآں، اس بحث مباحثہ میں توجہ اس پر مرکوز رکھی گئی کہ کس طرح  علت میں مبتلا کرنے والے ضابطہ شدہ اور درد میں کمی لانے والی ادویات کی دیکھ بھال کی جائے  اور ان پر بہتر انداز میں کس طرح ضابطہ لانا ہے اور تقسیم کرنا ہے۔ شرکاء نے منشیات کی علت کے علاج معالجے اور ذہنی بیماریوں کے مراکز میں استعمال کی جانے والی ادویات کے بارے میں بات کرنے کے علاوہ نئی ضابطہ شدہ ادویات،ضابطہ شدہ ادویات کے سیپا معیاروں اور اس قسم کی ادویات میں مہارت رکھنے والے دواسازوں کے کردار پر بھی بات کی۔

مزید پڑھیں >

19 مارچ 2017

نیڈا: مجرمانہ انصاف اور منشیات کے علاج معالجے کے پیشہ ورانہ مشاورت فراہم کرنے والوں کے لیے نئے وسائل دستیاب ہیں

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈرگ ابیوز (نیڈا) نے مجرمانہ انصاف کے نظام اور دیگر ماحولیات میں کام کرنے والے افراد کے لیے کئی نئے وسائل پیدا کئے ہیں جہاں بحالی کے مرحلے میں لوگ اپنے ماحول کے علاوہ  بھی رہنے کے لیے جاسکتے ہیں۔

اس نئےمواد میں شامل ہے:

ڈرگز اینڈ برین والٹ کارڈ ۔ یہ ایک تین رخوں والا بزنس سائز کارڈ ہوتا ہے جس میں منشیات دوبار ہ استعمال کرنے سے پیدا ہونے والے خطرات کو مختصر طور پر واضح کیا جاتا ہے۔ اس میں سودمندویب سائیٹوں کے بارے میں معلومات ہوتی  ہے اور اس میں پیشہ ورانہ ماہرین یا افراد کے بارے میں بھی معلومات  ہوتی ہے یا ساتھ ہی اس میں ذاتی معلومات اور نشہ کو دوبارہ شروع کروانے والے عوامل کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جاتی ہے۔ یہ بٹوہ نیڈا ڈسیمی نیشن سینٹر سے مفت منگوایا جاسکتا ہے۔

منشیات کی سائنس: بحث مباحثے کے نکات۔ یہ آن لائن وسائل پیشہ ورانہ مشاورت فراہم کرنے والوں، ججوں اور منشیات کے بارے میں تعلیم فراہم کرنے والے  دیگر افراد کے لیے  اس مخصوص زبان کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے جس زبان کو کم عمر نوجوانوں اور بالغ نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے استعمال کرنا چاہیئے۔اس میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ علت ایک ذہنی عارضہ ہے جس کے لیے علاج معالجے اور مسلسل توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان وسائل میں اس بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئی ہے کہ کہاں سے مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

منشیات کے بارے میں پڑھنے کے آسا ن حقائق۔ کم خواندگی رکھنے والے افراد کے لیے یہ مختصر پرنٹ کئے جاسکنے والے دستاویزات مخصوص منشیات  کے بارے میں معلومات فراہم کرنے ساتھ ساتھ منشیات کے استعمال سے پیدا ہونے والے منفی اثرات، علت کی نوعیت اور علاج معالجہ اور بحالی کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جاتی ہے۔

مجرمانہ انصاف کی ٹول کٹ: اس ٹول کٹ کو نیشنل ڈرگ اینڈ الکوحل فیکٹس ویک منعقد کرنے والوں کے لیے تیار کیا گیا تھا اس میں متعلقہ اعدادوشمار اور انصاف کے نظام سے تعلق رکھنے والے کم عمر افراد کے حوالے سے وفاقی اور ملٹی میڈیا وسائل کو شامل کیاگیا ہے۔

مزید پڑھیں >

18 مارچ 2017

کویت : علت سے خبردار رہیں

چند ماہ پہلے کویت میں ''کانشس'' پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے ، جس میں منشیات کے استعمال سے بچاؤ کے سلسلے میں کئی آگاہی کی مہموں کو شروع کیا گیا ہے۔ یہ پروجیکٹ حکومت اور نجی شعبے میں کام کرنے والے دواسازوں کے ایک گروپ کے مشاہدات کے نتیجے میں سامنے آیا ہے جس میں ان لوگوں نے پایا کہ کئی مریضوں نے ایسی  مخصوص  ادویات کا غلط استعمال شروع کردیا تھا جن میں تھوڑی مقدار میں نشہ آور مواد پائے جاتے تھے۔ ان ادویات کو عام طور پر شدید درد میں کمی لانے  کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور ان کو مخصوص علاج معالجے کی خوراکوں میں ہی مریضوں کو دیا جاتا ہے۔ دواسازوں نے نوٹ کیا کہ ایک مخصوص عمر کے افراد نے ان ادویات کو اس سے زیادہ مقدار میں استعمال کرنا شروع کردیا جتنی خوراک ان کو ابتدائی طور پر نسخے میں لکھ کر دی گئی تھی۔ انہوں نے اپنے ڈاکٹروں پر زور دیا ہےکہ وہ خاص طور پر اس قسم کی ادویات والے نسخوں کو یہ کہتے ہوئے  واپس لے لیں کہ  ان کو جو مقدار دی جا رہی ہے وہ ناکافی ہے ، تاکہ اس کی یقین دہانی کی جاسکے کہ علاج معالجے کے دوران ان خوراکوں کو ڈاکٹر کے نسخے کے مطابق ہی دیا جائے۔

''کانشس'' پروجیکٹ کا آغاز اس قسم کی ادویات کے استعمال سے پیداہونے والے خطرات کے بارے میں آگاہی پھیلانے  کی مہم کو منظم کرنے سے کیا گیا اور جلد ہی نہ صرف اس میں ان اقسام کی ادویات کے غلط استعمال کے خلاف لڑائی کو اس میں شامل کیا گیا بلکہ اس میں نوجوان افراد میں ان کے درست استعمال کے بارے میں آگاہی پھیلانے کو بھی اس میں شامل کرلیا گیا ۔ اس کے علاوہ اس میں منشیات کے عمومی استعمال اور علت کے خلاف جنگ کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کو اس حقیقت کے پیش نظر توسیع دی گئی ہے کہ نوجوانوں کے اندر گلی کوچوں یا شاپنگ سینٹرز وغیرہ میں پر تشدد واقعات  میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ درحقیقت کئی ابتدائی تفتیشوں سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کے جرائم میں ملوث اکثر مجرمین نے منشیات استعما ل کر رکھی ہوتی ہے۔

لہٰذا منشیات اور تشدد کے بارے میں بڑے پیمانے پر مہم آغاز کرنے کی ضرورت تھی۔ مہم کے سپروائزروں کے ساتھ کئی مرتبہ میٹنگز کرنے کے بعد  اس کو مکمل پانچ سالہ منصوبے کی صورت دی گئی جس میں مختلف طرح کے اہداف کو رکھا گیا ہے۔

اس کی پہلی مہم کا انقعاد اکتوبر ۲۰۱۶ میں سینٹر آف میڈیکل سائنس  میں ''منشیات، کس حد تک؟'' کے موضوع پر کیا گیا۔ میں نے بھی اس ورکشاپ میں ''نوجوان تازہ ترین منشیات کی لعنت اور علت کے درمیان'' کے عنوان سے ایک سائنسی مضمون کے ساتھ اس میں شرکت کی  تھی۔ کارکنان اور رضاکاروں کے تعاون اور ہم آہنگی کے جذبے کے باعث  یہ ایک کامیاب مہم تھی ۔

اس کے بعد ''منشیات، منشیات کی علت ، اسباب اور علاج معالجہ'' کے نعرے کے تحت پہلی کانفرسن کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا انعقاد کویتی فارماسوٹیکل ایسوسیئشن کی جانب سے نیشنل پراجیکٹ ٹو انکریز اویئرنیس اینڈ پروینشن اگینسٹ ڈرگز (کانشنس) ، نوجوانوں کے امور کی وزارت، وزارت تعلیم،اور وزارت داخلہ کے تعاون سے وزیر صحت ڈاکٹر جمال الحرابی کی سربراہی میں کیا گیا۔ اس کانفرسن کا انعقاد ۱۸ سے ۲۰ فروری ۲۰۱۷ میں کراؤن پلازا ہوٹل میں کیا گیا  اور میں نے اس میں  ''منشیات کے پھیلاؤ میں جدید ٹیکنالاجی کا کردار اور سیکورٹی کا کردار'' کے عنوان سے ایک ورکنگ پیپر کےساتھ شرکت کی۔

ہم ''کانشس'' پراجیکٹ کے بارے میں آئیندہ مضمون میں بھی بات جاری رکھیں گے۔

ڈاکٹر علی آیدالحمیدان- منشیات اور تحلیل نفسی موادوں کے میدان میں ایک بین الاقوامی ماہر۔

مزید پڑھیں >

منشیات اور نشہ آور

چالیس سے زیادہ تر نشہ آور ادویات اور مواد کے غلط استعمال ، پیداواری ممالک، بڑے بڑے اثرات، علامیتیں اور علاج کے متعلق جانیں۔

ڈاکٹر سے پوچھیں۔

خواہ علت میں آپ مبتلا ہوں یا کوئی آپکا قریبی عزیز، اس قسم کی کسی بھی علت کے متعلق معلومات کے لیے آپ کی پہلی ترجیح۔

GINAD

منشیات اور لت تحقیق پر 6TH بین الاقوامی کانفرنس https://t.co/VQvK2kHYdg https://t.co/U9DOOKq2o6

22 مارچ 2017

6e Conférence internationale sur la recherche sur les drogues et les toxicomanies https://t.co/d07hKOnZbt https://t.co/xysgm8BiVe

22 مارچ 2017

المؤتمر الدولي السادس لبحوث الإدمان والمخدرات https://t.co/fWcFDHyk6h https://t.co/ERyxI19AZX

22 مارچ 2017

6th International Conference on Drug and Addiction Research https://t.co/E9x7gp8jzw https://t.co/LDQo0TupRb

22 مارچ 2017

''منشیات کا علاج معالجہ''ایک مہارت جو موراکوکی فیکلٹیز آ ف میڈیسن میں سکھائی جاتی ہے https://t.co/JnQVUP5qKQ https://t.co/lvNkZEgXXE

22 مارچ 2017