منشیات کے حوالے سے عالمی معلومات کا نیٹ ورک

ہماری جامع عالمی ڈائریکٹری کنسلٹ کریں

23 اپریل 2017

Turkey: a professional police dog seizes 5.5 tons of drugs in 4 years

The police dog "Alex" has led the Turkish police in the Gaziantep state (south) to seize 5.5 tons of narcotics over the past four years.

"Alex" is a proven dog among hundreds of police dogs trained in the field of anti-drugs and in the detection of places where drugs are hidden. This dog has become a real nightmare for drug traffickers and smugglers, and a star for the police.

The police officer and "master dog" Murad Ooukchac said in an interview with Anatolia that he took over the training of "Alex" in 2013 in the Ankara capital, and since then the two have become inseparable . They moved to the city of Gaziantep, after participating in dozens of training courses.

The officer pointed out that "Alex" can identify eight types of drugs, noting that this ability is rarely found in other dogs.

He added that the dog coach receives intensive courses related to dealing with dogs and training them how to detect different types of drugs.

Murad Ooukchac also pointed out that police dogs able to detect drugs are serving the entire humanity.

He continued, "The services of these dogs are not limited to the Security Directorate, but extend to all mankind, “Alex” aims to protect children from drug abuse and remove this danger from families . "

مزید پڑھیں >

22 اپریل 2017

What is Captagon?

Captagon is the trade name of fenethylline, a compound similar to amphetamines which are stimulants. Moreover, stimulants are substances that cause hyperactivity, insomnia and lack of fatigue and hunger. They are synthetic drugs and are therefore illegal. Amphetamines include all types of compounds similar to it, including Captagon because the chemical properties of amphetamines are similar to their counterparts in addition to their effects on users. Indeed, those who consume stimulants are unable to distinguish between the different types they use. Among the most popular types of amphetamines are the substance known as “Benzedrine”, and the Methamphetamine known commercially as "Desoxyn" and Dextro-amphetamine known as "Dexedrine ". There are also other compounds similar to amphetamines such as Fenethylline known as Captagon, and Phenmetrazine known commercially as "Pyrrolidine", in addition to Phendimetrazine known as Phentermine.

Amphetamines are found in various forms including tablets, capsules, crystal pieces known as "Lonamin 2 C-B" and Fenethylline powder.

Captagon users believe that this stimulating chemical improves mood and reduces the need to sleep and eat, with the understanding that it has currently no medical use. In the past, its medical type (that no longer exists) was used in the treatment of depression, it was prescribed to stimulate the activity of the patients. But when it was tested, it turned out to have negative repercussions that affect the brain and mental health, so it was internationally banned. No medical manufacture of this substance exists presently, which means that all the quantities circulating among drug users are secretly manufactured in clandestine laboratories whose sole purpose is fast and illegal profit.

In short, the Captagon has a stimulating role for the nervous system, and it exists in various colors and shapes, the most famous being in tablets with two opposite carved crescents. Its consumption increases mostly during exam periods among male and female students of all levels, under the pretext that it boosts studying and memorizing capacities.

Dr. Ali Ayed Al Humaidan

International expert in the field of drugs and psychotropic substances

مزید پڑھیں >

20 اپریل 2017

ولی عہد مسلسل ''نیبراس''منصوبوں کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔۔۔الشریف: منشیات کے پھیلاؤ میں روک تھام کے لیے ۱۷ کاؤنسلر تربیتی مراکز

سعودی عرب میں وزیرداخلہ نیشنل کمیٹی فار نارکوٹکس کنٹرول (این سی این سی) کے چیئرمین اور ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف بن عبدالعزیز  پوری سلطنت میں کے تمام صوبوں اور شہروں میں معاشرے کے تمام طبقات میں منشیات کے حوالے مسائل کو حل کرنے کے لیے نیشنل پروجیکٹ فار کومبیٹنگ ڈرگز (نیبراس) کے ملک کے تربیت اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے پروگراموں کے اطلاق کے حوالے مسلسل رہنمائی کر رہے ہیں۔

اس تناظر میں نیشنل کمیٹی فار نارکوٹک کنٹرول کے سیکریٹری جنرل، نیبراس پروجیکٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اقوامِ متحدہ میں بین الاقوامی ماہر عبداللہ بن محمد الشریف کا کہنا تھا کہ منشیات کے پھیلاؤ کے مسئلہ کی روک تھام کے لیے سلطنت میں کاؤنسلروں اور عملے کی تربیت کے لیے عزت مآب شہزادے کی رہنمائی میں نبراس نے ۱۷ تربیتی مراکز کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ : ''ان معاہدوں پر دستخط کئی قومی کاروباری اداروں اور تربیت اور تعلیم کے میدان میں مہارت رکھنے والے اداروں کے ساتھ کئے گئے ہیں  تاکہ اس کی یقین دہانی کی جاسکے کے نشہ آور منشیات اور تحلیل نفسی موادوں کے میدان میں سائنسی طریقوں کے مطابق بین الاقوامی معیار کی خصوصی قومی صلاحیتیں پیدا کی جاسکیں۔

الشریف کا کہنا تھا کہ ان پروگراموں کا مقصد انٹرمیڈیٹ، ثانوی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ، اساتذہ ، اماموں اور صحت کے ماہرین میں آگاہی پھیلانا ہے۔

مزید پڑھیں >

19 اپریل 2017

چین سے: ''سیلویا'' ایک نئی منشیات جس نے تیونس کی منڈی پر دھاوا بول دیا

قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی  دہشتگردی اور منظم جرائم  کے حوالے سے تحقیق کرنے والے قومی یونٹ نے چین سے  نشہ آور مواد کے سمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔

تیونس میں رہائش پزیر ایک شخص کی جانب سے ملنے والی اطلاع کی روشنی  یونٹ کو شک ہوا کہ چین آنے والے ایک پارسل میں ۱۱۴عشاریہ ۸ گرام نشہ آور مواد موجود ہے۔ یونٹ نے پارسل کو اپنی تحویل میں لے کر پارسل وصول کرنے والے شخص کو حراست میں لے لیا۔

مشتبہ شخص نے قبول کیا کہ وہ ایک گروہ میں سرگرم ہے جس میں اس کے بھائی کے علاوہ ایک دوسرا شخص بھی ملوث ہے اور یہ لوگ خام نشہ آور مواد تیونس میں لایا کرتے ہیں۔بعد ازاں یہ لوگ ''سیلویا'' نامی نشہ آور مواد بنانے کے لیے اس خام مواد کو دیگر مصنوعات کے ساتھ ملاتے تھے جو اس کا بھائی آن لائن خرید کرتا تھا۔ مشتبہ شخص کا مزید کہنا تھا کہ شمال میں رہائشی اس کے بھائی کے گھر پر اس مواد کی بہت بڑی مقدار پڑی ہوئی ہے۔

جب مشتبہ شخص کے بھائی کو گرفتار کیا گیا تو اس نے بھی اپنے گرفتار شدہ  بھائی کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے مزید بتایا کہ وہ اس مواد کے ۲۰ گرام کو ۲۰۰۰ دینار میں فروخت کیا کرتے تھے اور اس کے علاوہ وہ گانجا اور بھنگ بھی فروخت کرتے تھے۔

اس معاملے میں ملوث تیسرے شخص کو بھی حراست میں لے لیا گیا اور اس نے بھی یہ تسلیم کر لیا کہ وہ اس گروہ کے اندر ''سیلویا'' نامی منشیات کی تیاری اور اس کو فروغ دینے میں ملوث رہا ہے۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تیونس میں گانجا سمگل کرنے کے لیے ایک شخص کا تعاون حاصل کرنے کے لیے اس نے دسمبر ۲۰۱۶ میں مغرب ملک کا بھی سفر کیا تھا۔

مزیدبرآں، ٹیکنیکل اینڈ سائنٹفک پولیس ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے پکڑی گئی مصنوعات کے ٹیسٹ بھی کئے گئے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ مواد مصنوعی گانجے کے مواد سے ملتاجلتا ہے لیکن اپنے اثرات کے لحاظ سے یہ زیادہ طاقتور اور خطرناک ہے اس سے ذہر خورانی اور موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

مشتبہ افرادکو فرسٹ انسٹینٹ کورٹ آف ٹیونس ۱ کے پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب روانہ کردیا جس نے ان کے خلاف  جیل بھیجنے کے وارنٹ جاری کردیئے۔

مزید پڑھیں >

18 اپریل 2017

ایک مطالعے میں پایا گیا ہے کہ اوپیڈ کی کئی علتیں جراحت کے بعد پیدا ہوتی ہیں

ایک نئے مطالعے میں اس حوالے سے خبردار کیا گیا ہے کہ بعض جراحت  کروانے والے  مریض جنہیں جراحت کے بعد درد کم کرنے کے لیے اوپیڈز نسخے پر لکھ کر دیئے جاتے ہیں ان میں لمبے عرصے تک اوپیڈ کی علت پیدا ہوجانے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتاہے۔

اس مطالعےمیں جراحت کروانے والے ۳۶۰۰۰ سے زیادہ مریضوں کے چھ ماہ کے اوپیڈ کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں کسی مریض نے بھی اپنی جراحت سے پہلے کبھی اوپیڈز استعمال نہیں کئے تھے۔

مطالعے کے مصنف اور یونیورسٹی آف میشی گن میڈیکل اسکول کے درد پر تحقیق کی ڈویژن کے ڈائریکٹر  ڈاکٹر چاڈ برومیٹ کا کہنا ہے کہ ''ہم نے پایا کہ ۵ سے ۶ فیصدمریض جو جراحت سے پہلے اوپیڈز استعمال نہیں کر رہے تھے انہوں نے جراحت سے نارمل بحالی کے بعد بھی لمبے عرصہ تک اوپیڈز کو نسخے پر حاصل کرنا جاری رکھا''۔

نتائج سے پتہ چلا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں ؛ ماضی میں الکحل اور/یا منشیات کے استعمال سے متاثرہ ؛ وہ مریض جن میں  شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کی تشخیص کی گئی تھی؛ اور وہ لوگ جن کو بہت شدید درد رہا ہو ان میں یہ خطرہ بہت زیادہ ہے کہ وہ اوپیڈز کی علت میں مبتلا ہوجائیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ  وہ مریض جو تمباکو نوشی کرتے تھے اور وہ جو الکحل اور/یا منشیات استعمال کرتے تھے ان کو یہ خطرہ ۳۰ فیصد ہے۔ اور وہ مریض جن کے گھٹنوں میں تکلیف تھی ان میں یہ خطرہ لگ بھگ ۵۰ فیصد تک بڑھ گیا۔

برومیٹ کہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ '' ہر برس لاکھوں کی تعداد میں امریکیوں میں اوپیڈ کے بہت شدید استعمال کابہت بڑا سبب جراحت کے لیے [نسخہ پر ] لکھی جانے والی دردکش ادویات ہیں''

بہت سی صورتوں میں درد پر قابو پانے کے لیے اوپیڈ ادویات میں لوگوں کا انتخاب وکوڈین یا پھر آکسی کونٹین جیسی ادویات ہوتی ہیں۔ برومیٹ کہتے ہیں کہ  جراحت کے بعد  عام طور سے مریضوں کو  ہفتے بھر کے لیے اس طرح کی ادویات دی جاتی ہیں۔

لیکن ریاستہائے متحدہ امریکہ درد کش اوپیڈ کی وبا میں جکڑا ہوا ہے جہاں یو۔ ایس ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے مطابق ۲۰۱۴ میں ایک کروڑ لوگ غیر طبی مقاصد سے نسخہ پر لکھی جانے والی اوپیڈز استعمال کر رہے تھے۔

اس نئے مطالعے میں مریضوں کی اوسط عمر ۴۵ سال تھی۔ جن میں سے تقریباً دوتہائی خواتین، تین چوتھائی سفید فام تھے اور ان تمام لوگوں نے ۲۰۱۳ اور ۲۰۱۴ کے درمیان جراحت کروائی تھی۔

لگ بھگ ۸۰  فیصد افرد نے جو   جراحت کروائی وہ معمولی نوعیت کی تھی مثلاً پھولی ہوئی نس کو ہٹانا یا پھر  ایسی جراحت جن میں زیادہ چیر پھاڑ نہیں کی گئی تھی۔ دیگر ۲۰ کی بہت بڑی جراحت کی گئی تھی یعنی ان کا رحم نکالا  گیا یا ان کی بڑی آنت کو کاٹا گیا۔

جراحت سے پہلے مریضوں کو مجموعی طور پر ۳۰ سے ۴۵  اوپیڈز کی گولیاں نسخے پر دی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق  جراحت کے بعد بڑی اور چھوٹی دونوں جراحتوں کےلگ بھگ ۶ فیصد مریضوں نے اضافی تین نسخے بھی حاصل کئے جو جراحت کے لگ بھگ تین سے چھ ہفتے بعد سے اوسطاً مجموعی طور پر ۱۲۵ گولیاں بنتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں وہ مردو خواتین جنہوں نے جراحت نہیں کروائی تھی اور جنہوں نے اس سے پہلے سال میں اوپیڈ کی ادویات استعمال نہیں کی تھیں ، ان میں اس طرح سے ملتے جلتے اوپیڈ کے لمبے عرصے تک کا استعمال نصف سے بھی کم میں ۱ فیصد تھا۔

ایک حالیہ مطالعہ دکھاتا ہے کہ اوپیڈز پر انحصار پانچ دن کے عرصہ میں بھی پیداہوسکتا ہے۔

برومیٹ کہتے ہیں کہ ''کلینکس کو اوپیڈز نسخہ پر تجویز کرتے ہوئے خبردار رہنا چاہیئے اور ان کو جراحت کے بعد اوپیڈز کے ممکنہ خطرے کے بارے میں بھی غور کرنا چاہیئے۔'' ایک خیال ہے کہ : ''درد ، موڈ اور عمل'' کی تاریخ معلوم کرنے کے لیے سوال ناموں کے ذریعے مریضوں کی اسکریننگ کروائی جائے۔

مزید پڑھیں >

17 اپریل 2017

متحدہ عرب امارات: منشیات کی علت میں مبتلا افراد کے علاج معالجے کے دوران خاندانوں اور ماہرین کو پیش آنے والے کئی چیلنجوں کے بارے میں سیکھا ہے

دبئی میں کمیونٹی ڈیولپمینٹ اتھارٹی میں سماجی تحفظ اور ترقی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حریز المر بن حریز نے ان کئی چیلنجوں کی ایک فہرست بتائی ہے جن کا والدین اور ماہرین کو اس وقت سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ منشیات کی علت سے بحالی حاصل کرنے والوں اور علاج معالجہ کروانے والوں سے نپٹ رہے ہوتے ہیں ۔ حریز کے مطابق ان چیلنجوں میں سب سے اہم علاج معالجے کے پروگراموں کو چھوڑ دینا ، سماجی بحالی کے مرکز ''عونک'' پر میعادی مشاورت کے لیے آنے میں کمی اور شفاپانے والے مریضوں کی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کچھ فریقین کی جانب سے مداخلت کی ضرورت اور معاشرے میں دوبارہ ضم ہونے اور اپنی نارمل زندگی دوبارہ شروع کرنے کے لیے شناخت کے ضروری دستاویزات کا حصول شامل ہیں۔

بحالی کے مراحل اور علت سے شفا پانے والے مریضوں کی بعد میں کی جانے والی دیکھ بھال تین مراحل میں منقسم ہے۔ پہلا مرحلہ عملی بحالی  ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ علت میں مبتلا فرد کی اس کے کام کے میدان میں صلاحیت اور موّثریت کو بحال کیا جائے۔ دوسرا مرحلہ دوبارہ شمولیت کا مرحلہ ہے جس کا مقصد خاندان اور معاشرے میں شمولیت ہے۔آخری مرحلہ بعد میں کی جانے والی دیکھ بھال یا دوبارہ منشیات  کے استعمال سے بچاؤ کی روک تھام ہے ۔اس میں چھ ماہ سے لیکر دوبرسوں تک علاج معالجے کا فالو اپ ہوتا ہے جس میں ابتدا شفایاب ہونے والے مریضوں اور ان کے خاندانوں کی تربیت سے کی جاتی ہے تاکہ وہ دوبارہ منشیات کے کسی ممکنہ استعمال کے حوالے سے پہلے ہی معلوم کر لیں۔

''دی ایمریٹس ٹوڈے '' کے مطابق بن حریز کا منشیات کے علاج معالجے کے پروگراموں کے اطلاق میں ماہرین کو پیش آنے والے چیلنجوں کے بارے میں کہنا تھاکہ ان چیلنجوں اور مشکلات کو مختصر طور پر سماجی بحالی کے مرکز ''عونک'' میں بحالی کے پروگراموں میں  داخل مریضوں کے  علاج معالجے کے ابتدائی مراحل کے دوران روزانہ کی استقامت بھی ایک مسئلہ ہے، دوسرا مسئلہ بعض مریضوں کی جانب سے اپنے خاندانی افراد کو اس بارے میں کہنے سے انکار کرنا ہے کہ وہ اس سے تعاون کریں  اور تیسرا مسئلہ بعض خاندانوں کی جانب سے مرکز کے مختلف مراحل کے دوران تعاون سے انکار اور آخری مسئلہ یہ ہے کہ بعض مریض بحالی کے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں اورجب ان میں بہتری اور بحالی کے ابتدائی آثار پیدا ہوتے ہیں تو وہ علاج معالجے کو جاری نہیں رکھتے ۔

مزید برآں، بن حریز نے زور دیا کہ خاندانوں کو اس بارے میں مستقل طور پر تعلیم دی جائے کہ بحالی حاصل کرنے والے مریضوں سے کس طرح نپٹا جائے، خصوصاً جب منشیات کے عادی افراد ابتدائی مرحلہ پر منشیات کا استعمال ترک کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ضروری سامان اور چیزوں کی قلت کے باعث بعض  خاندان بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور یہ ایک دوسرا مسئلہ ہے جس کو منشیات سے بحالی کے پروگراموں کے اطلاق کو درپیش چیلنجوں میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ''عونک'' مرکز پر ان جائزوں کی بھی کمی ہے جن میں ماہرین کو یہ بتانے کے سلسلے میں مدد کی جائے کہ پروگرام میں داخل افراد سنجیدگی سے منشیات کا استعمال ترک کرنا چاہتے ہیں اور وہ کوئی ایسی منشیات استعمال نہیں کررہے ہیں جو ان کو دوبارہ منشیات کے استعمال کی جانب دھکیل دے۔

بن حریز نے متعلقہ اداروں کے وسیع تر تعاون پر بھی زور دیا ، مثلاً خیراتی ادارے، تاکہ بحالی حاصل کرنے والے مریض اپنے بحالی کے راستے پر قائم رہیں ، خاص طور پر ان کے سازوسامان اور دیگر چیزوں کی ضروریات  کو پورا کرنا مثلاً رہائش، ٹرانس پورٹیشن اور ان دستاویزات کا حصول جو اس طرح کے مریضوں کو معاشرے میں دوبارہ ضم ہونے میں مدد گار ثابت ہوں۔ ۲۰۱۳ میں قائم ہونے والے سماجی بحالی کے مرکز ''عونک'' کامقصد یہ ہے کہ علاج معالجے کے ماحول سے علت سے شفا پانے والے مریضوں کو اس طرح کی دیکھ بھال فراہم کرنا ہے جو ان کو منشیات سے دور رہنے میں مدد گار ہو اور ان کی بحالی میں مدد کی جائے اور جس حد تک ممکن ہوسکے ان کو منشیات کے دوبارہ استعمال کرنے سے روکا جائے۔حقیقت میں یہ مرکز ان پروگراموں کا اطلاق کرتا ہے جو لوگوں کی سماجی اور نفسیاتی بحالی کرتے ہیں ،یہ ان کی اس سلسلے میں بھی رہنمائی کرتا ہے کہ وہ خود اپنی بحالی آپ کریں اور اورمنشیات کے بغیر زندگی کا سامنا کرنے کے لیے اپنےاندر بہتری لانے کے لیے وہ اپنے اندرموجودطاقتوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کر سکیں''

مزید پڑھیں >

منشیات اور نشہ آور

چالیس سے زیادہ تر نشہ آور ادویات اور مواد کے غلط استعمال ، پیداواری ممالک، بڑے بڑے اثرات، علامیتیں اور علاج کے متعلق جانیں۔

ڈاکٹر سے پوچھیں۔

خواہ علت میں آپ مبتلا ہوں یا کوئی آپکا قریبی عزیز، اس قسم کی کسی بھی علت کے متعلق معلومات کے لیے آپ کی پہلی ترجیح۔

GINAD

#UN Afghanistan Synthetic #Drugs Situation Assessment https://t.co/1TlqNctErH https://t.co/28A35EReT8

18 اپریل 2017

تفاصيل الخطة المصرية لخفض الطلب على #المخدرات https://t.co/ejSTy2UCU0 https://t.co/4WEdCOSa2l

18 اپریل 2017

"L’Anti-drogue en Arabie Saoudite": l’inhalation du « Pattex » provoque l'insuffisance rénale et la neuropathie… https://t.co/Ip05ZLAiEx

18 اپریل 2017

سعودی منشیات پر ضابطہ: ''پیٹیکس'' کو سانس اندر کھینچ کر استعمال کرنے سے گردوں کے عارضے اور عصبی امراض پیدا ہوتے ہیں… https://t.co/YF5tDXD60o

18 اپریل 2017

"Saudi Drug Control": inhalation of #Pattex causes renal insufficiency and neuropathy https://t.co/u7FnMrYyi7 https://t.co/oyDSomgrRA

18 اپریل 2017