منشیات کے حوالے سے عالمی معلومات کا نیٹ ورک

ہماری جامع عالمی ڈائریکٹری کنسلٹ کریں

28 مئی 2017

Sugar’s effect on the brain... An addiction similar to drugs

Food is considered one of the most natural rewards that gives human beings a feeling of pleasure and comfort. In general, food stimulates the dopamine hormone responsible for fun in the brain.

The reward circuit involves chemical and electrical crossings in many different areas of the brain where the dopamine chemicals known by neurotransmitters interact to simulate several types of feelings and behaviors.

Food’s effect on body's hormones vary depending on the food type, especially for sugar-rich foods that have a great impact and often result in addiction.

A study on animals revealed four main symptoms of addiction: overweight feeling, withdrawal symptoms, irrepressible urge to eat and addiction to certain substances that can make the user addicted to other food having similar chemical compositions.

Sweetened foods, like drugs, stimulate the dopaminergic neuron level of the mesencephalon in the brain. A group of laboratory mice, which was deprived of food except sweet foods for 12 hours a day for a whole month, showed behaviors similar to drug addiction. Mice were dominated by the urge to eat sweet food over any other types of food, and suffered from stress and depression symptoms during the food deprivation phase. The second part of the study revealed that mice suffering from sugar addiction, are more prone to rapid drug addiction compared to the other mice.

In the long term, repetitive sugar consumption changes the genetic composition and increases the presence of dopamine receptors in the midbrain (a section of the central nervous system that is associated with vision, hearing, circulation, sleep, vigilance and body temperature regulation) and the frontal lobe (part of the human brain located at the front of the parietal and temporal lobes because it is positioned in the front part of the lateral lobe and delimits the temporal lobe of the upper front).

مزید پڑھیں >

27 مئی 2017

Caffeine Overdose Killed South Carolina Teen, Coroner Rules

A 16-year-old boy died from a caffeine overdose after drinking caffeine-laden soft drinks, coffee and an energy drink, a South Carolina coroner said Monday.

Davis Allen Cripe collapsed and died last month, Richland County coroner Gary Watts told a news conference.

"On this particular day within the two hours prior to his death, we know had consumed a large diet Mountain Dew, a cafe latte from McDonalds and also some type of energy drink," Watts said.

"It was so much caffeine at the time of his death that it caused his arrhythmia."

Last month researchers reported that energy drinks can cause dangerous changes in heart function and blood pressure above and beyond caffeine alone. Another team found similar dangers in 2015.

"These drinks can be very dangerous," Watts said. "I'm telling my friends and family don't drink them."

Watts said he did not know what type of energy drink Cripe drank.

"The autopsy was performed and there was nothing there to indicate any type of ... undiagnosed heart condition," he said.

He said a medical examiner and a forensic toxicologist both examined Cripe. "Based on his weight, the intake of caffeine that he had exceeded what is considered a safe level," Watts told NBC News.

"I realize this is a controversial scenario," Watts added. "There are obviously people that don't think this can happen -- that you can have this arrhythmia caused by caffeine."

Watts said he hoped the case would get the word out and help prevent more such deaths.

"The purpose here today is not to slam Mountain Dew, not to slam cafe lattes, or energy drinks. But what we want to do is to make people understand that these drinks — this amount of caffeine, how it's ingested, can have dire consequences. And that's what happened in this case," Watts said.

It wasn't a car crash that took his life. Instead, it was an energy drink," the boy's father, Sean Cripe, said at the news conference.

"Parents, please talk to your kids about these energy drinks."

The Food and Drug Administration had said that caffeine in doses up to 400 mg (about five cups of coffee) is generally safe.

Caffeine prompts the release of natural compounds called catecholamines, including norepinephrine, a stress hormone that can speed the heart rate. People who have died from documented caffeine overdoses had irregular and rapid heart rates, seizures and sometimes choked on their own vomit.

A 12-ounce Mountain Dew contains 54 mg of caffeine. McDonald's does not report the amount of caffeine in its coffee.

Watts said conversations with Cripe's friends and classmates helped them figure out what he had to eat and drink in the hours before he died.

"Davis, like so many other kids and so many other people out there today, were doing something that they thought was totally harmless, and that was ingesting lots of caffeine," Watts said.

مزید پڑھیں >

25 مئی 2017

مطالعات اور تحقیق: شراب نوشی کی عادت والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے

جرمنی میں کئے گئے ایک مطالعے میں پایا گیا کہ والدین بچوں کے لیے شراب نوشی کا نمونہ بنتے ہیں۔ بری عادات کے اعتبار سے یہ بات بالکل درست ہے۔

جرمن ڈزیز انشورنس کمیشن کی جانب سے کئے گئے اس سروے میں شامل لگ بھگ ایک تہائی (۳۲ فیصد) والدین نے اپنے اندر الکحل استعمال کرنے کا بہت شدید رجحان دکھایا۔ سروے میں شامل ایک چوتھائی والدین  ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ الکحل والے مشروبات استعمال کرتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق والدین کے اندر بُری عادات بچوں کو بھی شراب نوشی کی جانب مائل کرتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب والدین میں الکحل کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے تو بچوں میں بھی اس کے بڑھنے کا امکان اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔سروے میں ۱۲ سے ۱۷ برس کے درمیان لڑکے اور لڑکیوں سے جب پوچھا گیا تو ان میں سے ۲۰ فیصد پہلے ہی الکحل والے مشروبات استعمال کرچکے تھے۔ صحت کے محقق رینر ہنفنکیل کا کہنا تھا کہ ۱۲ برس کی عمر کے وہ بچے جن کے والدین باقاعدگی سے شراب نوشی کرتے ہیں ان میں ان بچوں کے مقابلے میں جن کے خاندان میں شراب نوشی نہیں کی جاتی اس کا امکان تین گنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ شراب نوشی کرنے لگیں۔

بلوغت اور منشیات

اس سے پہلے ایک امریکی مطالعے میں پایا گیا تھا کہ وہ بالغ  ہوتےافراد جن کے والدین شراب نوشی کے عادی ہیں یا باقاعدگی سے الکحل استعمال کرتے ہیں تو دوسروں کے مقابلے میں ان میں الکحل یا منشیات کے استعمال کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

امریکن سبسٹینس ابیوز اینڈ مینٹل ہیلتھ سروسز ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کئے گئے مطالعے میں یہ بھی پایا گیا کہ ۱۲ سے ۱۷ برس کی عمر کے درمیان بالغ ہوتے ہوئے  پانچ میں سے ایک فرد جس کے والدین نے گزشتہ برس کے دوران الکحل استعمال نہیں کیا تھا وہ بھی اسی عرصہ کے دوران الکحل نوشی کرتے رہے  تھے۔

مطالعے میں پایا گیا کہ وہ کم عمر نوجوان جن کے والدین باقاعدگی سے شراب نوشی کرتے ہیں ان میں شرح فیصد ایک تہائی ہے اور وہ جن کے والدین الکحل کی علت کا شکار ہیں ان میں شرح فیصد ۴۰ فیصد ہے۔ اس کا بھی عندیہ ملتا ہے کہ کم عمرنوجوانوں میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ اس وقت تک شراب نوشی کرتے رہتے ہیں جب تک کے وہ دھت نہیں ہوجاتے یا اگر ان کے والد شراب نوشی کرتے ہیں تو وہ بھی باقاعدگی سے شراب نوشی کرتے ہیں۔ جہاں تک بالغ ہونے والے افراد میں منشیات کے استعمال کا تعلق ہے تو اس کی شرح میں بھی اسی لحاظ سے اضافہ ہوتا جاتا ہے جس لحاظ سے ایک والد میں شراب نوشی کی لت ہوتی ہے۔

اس مطالعے کے نتائج میں یہ بھی پایا گیا کہ گزشتہ سال کے دوران وہ والدین جوشراب نوشی نہیں کرتے ان کے بچوں میں سے ۱۴ فیصد نے منشیات استعمال کی، جبکہ وہ والدین جو باقاعدگی سے شراب نوشی کرتے ہیں ان کے بچوں میں سے ۱۸ عشاریہ ۴ فیصد نے منشیات استعمال کی جبکہ وہ والدین جو الکحل کی علت میں مبتلا ہیں ان کے بچوں میں سے ۲۴ عشاریہ ۲ فیصد نے منشیات استعمال کی۔

مزید پڑھیں >

24 مئی 2017

کینیڈا نے ایک بل پاس کیا ہے جس میں افیون کے انجکشن لگانے کی جگہیں کھولنے میں سہولت فراہم کی جائے گی

افیون کے استعمال سےحالیہ برسوں کے دوران کینیڈا میں ہزاروں زندگیاں چلی گئی ہیں۔ اب اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کینڈا نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس سے حکومتی نگرانی میں منشیات کے انجکشن لگانے کی جگہیں کھولنےمیں سہولت پیدا کی جائے گی۔

برطانوی اخبار ''دی گارجین'' کے مطابق رواں ہفتے اختیار کردہ اس نئے قانون میں  ان درجوں صورتحالوں کی صراحت کی گئی ہے جن کے باعث اس طرح کے منصوبے کو شروع کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ اس میں منشیات استعمال کرنے والوں کو طبی نگرانی میں جراثیم سے پاک آلات استعمال کرتے ہوئے انجکشن لگائے جائیں گے۔

کینیڈا کے وزیرِ صحت جین فلپاٹ نے چند دن پہلے پارلیمنٹ  کو بتایا تھا کہ : '' اس کے بڑے قوی شواہد موجود ہیں کہ حکومتی نگرانی اس طرح کی جگہیں لوگوں کی زندگیاں بچاتی ہیں کیوں کہ ایسی صورت میں لوگ زیادہ مقدار میں منشیات استعمال کرنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس طرح کی جگہوں سے اڑوس پڑوس میں جرائم کو بھی روکا جاسکتا ہے۔''

یہ نیا قانون کینڈا میں پہلے سے موجود اس طرح کے ایک کامیاب منصوبے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ ''وینکوور'' کے صحت کے اہلکاروں نے ۲۰۰۳   میں ''انسائیٹ'' نامی اس طرح کے مقامات بنائے تھے جن میں ایچ آئی وی، ''ایڈز'' اور ''ہیپاٹائٹس سی'' کی بیماریوں سے بچنے کے لیے شمالی امریکہ میں حکومتی نگرانی میں انجکشن لگانے کی پہلی سہولت فراہم کی گئی تھی۔

''دی گارجین'' نے وضاحت کی کہ سن ۲۰۱۵ کے دوران ''انسائیٹ'' کی جگہوں سے لگ بھگ تیس لاکھ افراد نے استفادہ کیا اور یہاں پر زیادہ مقدار میں منشیات استعمال کرنے والے ۵ ہزار افراد کوعلاج معالجہ بھی فراہم کیا گیا اور اس سارے عمل میں کسی ایک شخص کی بھی موت واقع نہیں ہوئی۔تاہم اس پروگرام کو جرائم سے مقابلہ کرنے کے حوالے سے وفاقی کنزرویٹو حکومت سے مقابلے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کینیڈا کی حکومت ایسے موقعے پر انجکشن لگانے کے ان مقامات کی تعمیر پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے جب اس کو ''فینٹالن'' نامی ایک منشیات کے تباہ کن اثرات سے مقابلہ کرنے کے سلسلے میں عملی اقدامات کی کمی کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فینٹالن ایک ایسی منشیات ہے جو ہیروئن اور ملک میں موجود دیگر منشیات کے مقابلے میں ۵۰ گنا زیادہ طاقتور ہے۔

فلپاٹ کا کہنا تھا کہ ،''ہمیں علم ہے کہ کینیڈا میں گزشتہ ایک برس کے دوران افیون کے زیادہ مقدار میں استعمال سے کم از کم ۲۳۰۰ کینیڈین شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، ''تھروڈیو'' کی لبرل حکومت چاہتی ہے کہ ۲۰۱۸ کے وسط تک گانجے کو قانونی قرار دے دیا جائے۔ اس طرح جی ۷ ممالک کے گروپ میں کینیڈا وہ پہلا ملک بن جائے گا جو ااس طرح کا قدم اٹھائے گا۔ جی ۷ ممالک کے گروپ میں کینیڈا کے علاوہ فرانس، جرمنی، جاپان، برطانیہ،  ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اٹلی شامل ہیں۔ تاہم اس نئے قانون کو اس حوالے سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے کہ اس میں پہلے سے ''گانجے'' کے الزامات کے تحت زیرِ حراست افراد کو معافی نہیں دی گئی ہے، حالانکہ حکومت کویہ علم ہے کہ ایسے افراد جن کا مجرمانہ ریکارڈ رہا ہو وہ عام طور پر نہ تو کوئی ملازمت حاصل کرسکتے ہیں اور ن ہی ان کو کہیں رہنے کی جگہ مل پاتی ہے اور نہ ہی وہ ملک سے باہر سفر کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ 

مزید پڑھیں >

23 مئی 2017

''ایسٹراکس'': ''امیرلوگوں'' کی منشیات ، جس کا ایک گرام ۳۰۰ مصری پونڈز میں فروخت کیا جاتا ہے

منشیات کی منڈی میں ایک نئے قسم کی نشہ آور منشیات کا اضافہ ہوا ہے۔ اپنی زیادہ قیمت کے باعث یہ منشیات کی ایک خاص قسم ہے جو ''امیر لوگوں کے بچوں کے لیے ہے''۔ اس کو ''وُوڈو یا ایسٹراکس'' کہا جاتا ہے اور اس کے علاوہ اس کو وُوڈو یا پھر نیلا ہاتھی بھی کہتے ہیں۔ اس میں جڑی بوٹیوں کے علاہ ۱۳۰ اقسام کے مختلف کیمیاوی مواد اور درد کش موادوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے ایک گرام کی قیمت ۳۰۰ مصری پونڈز سے بھی زیادہ ہے۔ اس نئے قسم کی منشیات میں گانجا، ہائیو سین، ہایوسیامین اور اٹروپین شامل ہیں۔ یہ مواد پٹھوں اور اعصاب کو پرسکون بناتے ہیں اور ان سے ذہنی خلجان اور کوما پیدا ہوسکتا ہے۔ درحقیقت، اس مُسکن کوخاص طور پر بیلوں اور شیروں کے  اعصابی نظام کو پُرسکون بنانے کے لے ہی تیار کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی مقابلوں اور سرکس کے دوران ان پر قابور رکھا جاسکے۔

مزیدبرآں، ایک دوسرے قسم کی منشیات بھی پھیل رہی ہے۔ اس کو ''خوشی کی گولیوں'' کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ مصری منڈی میں آنے سے پہلے یورپ اور امریکہ میں بہت مقبول رہی ہے۔ ان گولیوں کو بعض مخصوص  موادوں جیسا کہ میتھلینین ڈایوکسی میتھام فیٹامین (ایم ڈی ایم اے) سے تیاری کیا جاتا ہے اور ان کو گولیوں یا پھر انجکشن کی صورت میں استعما ل کیا جاتا ہے۔

منشیات کے علت کی شرحیں

ایڈکشن ٹریٹمنٹ اینڈ ڈرگ کنٹرول فنڈ نے اپنی ۲۰۱۶ کی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مصر میں منشیات کے استعمال کی شرح ۱۰ فیصد تک پہنچ گئی ہے جو بین الاقوامی شرح ۵ فیصد سے دوگنی ہے۔ درحقیقت ، علت کی شرح ۱۰ عشاریہ ۲ فیصد  تک پہنچ گئی جب کہ استعمال کی شرح ایک سے دوسرے فرد میں مختلف ہوتی ہے۔ بعض لوگ منشیات روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرتے ہیں اور دوسرے اس کو مختلف اوقات میں استعمال کرتے ہیں ۔دوسری جانب مختلف قسم کے ۸۰ فیصد جرائم کا ارتکاب منشیات کے زیرِ اثر کیا جاتا ہے جن میں زنا بالجبر، بچوں پر تشدد اور گھناؤنے قتل شامل ہیں۔

رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ مصر میں منشیات کا استعمال عالمی اوسطاً استعمال سے دوگنا ہے، اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ ۱۵ سے ۴۰ برس کی عمر کے درمیان افراد میں علت پھیل رہی ہےاور یہ ڈرائیور حضرات میں ۲۴ فیصد جبکہ کاریگروں میں ۲۰ فیصد تک بڑھ گئی ہے۔

ا س کے علاوہ مصر میں  شرح فیصد اور علت کی شرح کی رپورٹیں دکھاتی ہیں کہ منشیات کا تجارتی حُجم ۴۰۰ بلین پونڈز سلانہ سے تجاوز کر گیا ہے۔ صوبوں کی فہرست میں قاہرہ گورنوریٹ ۳۳ فیصد کی منشیات کی علت کے ساتھ سب سے آگے ہے ، اس کے بعدبالائی مصر کے گورنوریٹس کا نمبر آتا ہے۔

موادوں کا استعمال اور جرائم

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جمال فیروز منشیات کی علت کو جرائم سے جوڑ کردیکھتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دماغی خرابی کے باعث منشیات استعمال کرنے والے شخص کی ذہنی کیفیت بھی تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے جس کے باعث وہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ نیتجتاً علت میں مبتلا فراد اپنے جذبات پر قابونہیں رکھ سکتا اور بغیر کسی پچھتاوے کے جرائم کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔  ڈاکٹر فیروز نے نوجوانوں میں منشیات کے پھیلاؤ کو بڑے پیمانے پر کلچر اور ان میں موجود خالی پن، زندگی کی مشکلات اور ان کو جو دیگر مسائل ہوتے ہیں ان سے منسوب کیا ۔ کیوں کہ اس طرح ان کی زندگی بےمقصد ہوجاتی ہے اور ان میں اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کی چاہ بھی نہیں رہتی۔ لہٰذا،  وہ بدلہ ملنے کے عمل کی جانب چلے جاتے ہیں ، خاص طور پر ایسی صورت میں کہ جب علت میں مبتلا فرد کا دماغ اتنا واضح اور شعوری حالت میں نہیں ہوتا کہ اس کو کوئی درست اقدام کروا پائے۔ڈاکٹر نے وضاحت کی کہ بُری صحت ہی وہ بڑا سبب ہے جس کے باعث منشیات کی علت ہوتی ہے۔

دوسری جانب منشیات کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کو ڈاکٹر فیروز نے ہر قسم کے نشہ آور مواد کے بڑے پیمانے پر دستیابی کے ساتھ بھی منسوب کیا ، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ منشیات پر قابو پانے کے میدان میں اور زیااور زیادہ کوششیں کرے۔ انہوں وضاحت کی کہ خاندانی اسباب کے باعث بھی بچے منشیات استعمال کرتے ہیں ، مثلاً ماں باپ کے درمیان بدمزگی، والدکے نشے کی عادت، انہوں نے زور دیا کہ بچوں کی شخصیت سازی میں خاندان کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔

آخر میں فیروز کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ نوجوانوں مواقعے فراہم کرنے اور ملازمت کی تلاش کے لیے منصوبہ بندی کرے ، بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں والدین کا کردار ہے اہم ہے تاکہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی لعنت سے ان کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں >

22 مئی 2017

ریاستہائے متحدہ امریکہ: منشیات کی علت سے مقابلہ کرنے کے لیے جلد ہی یونیورسٹیوں میں نارکان کا ناک اسپرے دیا جائے گا

اوپیڈز کےاستعمال کے بچاؤ پر بڑھتی ہوئی توجہ کے دوران منشیات کے زیادہ استعمال اور علت کو روکنے کے لیے جلد ہی ایف ڈی اے کی جانب سے منظور کردہ نارکان کا ناک کا اسپرے کالجوں کے کیمپس میں فراہم کروایا جائے گا۔

امریکی چینل ''فاکس نیوز'' کی ویب سائیٹ کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ نارکان امریکی ہائی اسکولوں میں پہلے سے موجود پروگرام میں ایک توسیع ہے۔

دی کلنٹن فاؤنڈیشن اور ایڈاپٹ فارما نےملک بھر کے کالجوں میں منشیات کے زیادہ مقدار کے اثر کو ذائل کرنے والے ۴۰۰۰۰ نارکان کے  ناک کے ذریعے کئے جانے والے  اسپرے فراہم کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ شراکتداری کی ہے۔ یہ ہائی اسکولوں میں پہلے سے موجود ایک پروگرام میں توسیع ہے۔

ایڈاپٹ فارما کے چیئرمین اور سی ای او سیمس مولیگین کہتے ہیں کہ ''ہائی اسکولوں کے لیے نارکان کے ناک کے ذریعے دیئے جانے والے اسپرے  کی مفت فراہمی  یہ دکھاتی ہے کہ طلبہ کو اوپیڈز کے استعمال کے بارے میں آگاہی دینے اور اس وقت اوپیڈز کی وبا میں  میں ان کو محفوظ بنانے میں تعلیمی اداروں کا کردار کتنا اہم ہے۔ امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس پروگرام کی توسیع کو جاری رکھا جائے گا اور ساتھ ہی زندگی بچانے والے اس طریقے کو بھی پھیلایا جائے گا۔''

نارکان اصل میں نلاکسن کابرانڈ نام ہے، یہ ایک ایسی دوا ہے جو اوپیڈز کے اثرات کو زائل کرتی ہے۔ اس نے کئی زندگیاں بچانے میں کردار اداکیا ہے کیوں کہ یہ دماغ کے اوپیڈز ریسپٹرز کو روک دیتی ہے اور عام سانس لینے کے عمل کو بحال کرتی ہے ، اس سے اتنا وقت مل جاتا ہے کہ متاثرہ فردکو ہنگامی طبی امدادفراہم کی جائے۔

۲۰۱۵ میں منشیات کے زیادہ مقدار میں استعمال سےریاستہائے متحدہ امریکہ میں  لگ بھگ ۳۳۰۰۰ افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ ۲۰۱۶ میں اموات میں کمی کے باوجود بھی منشیات کی علت میں مبتلا افراد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں >

منشیات اور نشہ آور

چالیس سے زیادہ تر نشہ آور ادویات اور مواد کے غلط استعمال ، پیداواری ممالک، بڑے بڑے اثرات، علامیتیں اور علاج کے متعلق جانیں۔

ڈاکٹر سے پوچھیں۔

خواہ علت میں آپ مبتلا ہوں یا کوئی آپکا قریبی عزیز، اس قسم کی کسی بھی علت کے متعلق معلومات کے لیے آپ کی پہلی ترجیح۔

GINAD

États-Unis: Bientôt dans les universités, le spray nasal Narcan pour lutter contre la dépendance aux #drogues… https://t.co/xyUzqsqxIz

25 مئی 2017

ریاستہائے متحدہ امریکہ: منشیات کی علت سے مقابلہ کرنے کے لیے جلد ہی یونیورسٹیوں میں نارکان کا ناک اسپرے دیا جائے گا… https://t.co/negP6RI3d2

25 مئی 2017

US : Soon in universities, Narcan nasal spray to fight #drug #addiction https://t.co/LPAvbVk6yD https://t.co/uqj7VGQPwf

25 مئی 2017

قريبا بالجامعات الأمريكية.. رذاذ "ناركان" للحد من #إدمان المخدرات https://t.co/K7uXZhjPhD https://t.co/kLt7GcdCe7

25 مئی 2017

#Canada adopte une loi qui facilite l’ouverture des sites d’injection #d’opium https://t.co/KX1XvmquzX https://t.co/JhD2Q1zVFQ

25 مئی 2017