منشیات کے حوالے سے عالمی معلومات کا نیٹ ورک

ہماری جامع عالمی ڈائریکٹری کنسلٹ کریں

25 ستمبر 2017

Drugs in Europe: French youth is at the top of the list

The European Monitoring Center for Drugs and Drug Addiction (EMCDDA) published in June its 2017 report on drugs. This report assesses drug use, trafficking and its dangerousness in Europe, Turkey and Norway. This report also includes data from ESPAD, a study conducted every 4 years on drug use among teenagers aged between 15 and 16 years old.

Cannabis is still in the lead

In Europe, cannabis remains the most likely illicit drug. The number of adults who have used cannabis is estimated at 87.7 million. It is five times more common than other drugs: cocaine (17.5 million), MDMA (the active principle of ecstasy, 14 million) or amphetamines (12.5 million).

In France, cannabis is leading, with 22.1% of young adults who consumed it in the past year (the highest percentage in the 30 countries included in the study). In comparison, cocaine is 2.4%, MDMA 2.3% and amphetamines 0.7% (data for 2014). Cannabis use has been increasing since 2010.

Until recently, the use of MDMA was declining, but this trend seems to be reversing for several countries. With regard to the consumption per year of young adults (15-34 years), France and Finland reported strong increases in 2014, according to the latest data. Consumption of cocaine has also stopped falling to stabilize or even increase, as in France. The use of Ketamine (an anesthetic), GHB and hallucinogens remains limited, as is the case of amphetamines. Heroin and other opiates (morphine, etc.) are little consumed, but their use is more risky, because of their mode of consumption by injection. However, the practice of injection continues to decline.

French youth is consuming drugs more than others

Regarding the consumption of the youngest (15-16 years), they are almost always above the European average, disregarding of the drug type, legal or not (tobacco and alcohol). Especially in cannabis: 31% of French youth reported using cannabis, almost twice as much as the European average (18%). Only the Czech Republic did worse, with 37%.

For their consumption during the past month, France is still at the top with 17% of young people concerned, while the European average is at 8%. Nevertheless, although still important, the use (at least once in the lifetime) of cannabis, cigarettes and alcohol is slightly lower for all young people than in previous years.

Drug-related deaths on the rise

The report shows an increase in overdose deaths in Europe for the third consecutive year. The majority of these deaths are related to opiates (81%).

With 7 deaths per million inhabitants, France is doing better than its neighbors. It occupies the 6th place. In comparison, the United Kingdom is at 60 cases per million, Estonia at 103.

مزید پڑھیں >

24 ستمبر 2017

”منشیات کے پھیلتے ہوئے مسئلہ کوروکنے کے سلسلے میں آگاہی کی حکمتِ عملیوں کا کردار'' (۲)

اگر کسی میدان میں تحقیق و مطالعہ ہوتا ہے تو اس کے ثمرات اسی وقت سامنے آتے ہیں جب ان پر عملی میدان میں عمل بھی ہو۔  اسی طرح اگر کسی تحقیق کے نتیجے میں مشورے بھی دیئے جائیں تو وہ  قابلِ عمل ہوں اور ان کو باآسانی عملی جامہ پہنایا جاسکے اور ساتھ ان کے اطلاق کے لیے کوئی سخت قسم کے قواعد نہ بتائے جائیں۔

میں نے ''منشیات کے پھیلتے ہوئے مسئلہ کو روکھنے کے سلسلے میں آگاہی کی حکمتِ عملیوں کا کردار '' کے حوالے سے ایک مطالعہ کیا ہے اور عملی میدان میں بھی مختلف چیزوں پر نظر ڈال کر جن نتائج پر پہنچا ہوں وہ  یہاں بیان کررہا ہوں:

·         منشیات کے مسئلہ کے خلاف آگاہی پھیلانے پر محققین اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد نے کوئی خاص توجہ نہیں دی ہےاور اس کو آج بھی جرم کرنے کے بعد کے ایک اقدام اور بعض اوقات جرم کے خلاف خبردار کرنے کے طور پر ہی دیکھا جا تا ہے۔

·         آؤٹ ریچ پروگراموں میں لوگوں کے لیے جو کام کیا جاتا ہے وہ اور طرح کا ہے، کیوں کہ اس میدان میں کام کرنے والوں کو اصل مسائل کے بارے میں کم معلومات ہوتی ہے ، لہٰذا مسائل کو معلوم کرنے سے پہلے ہی ان کے حل کے لیے فیصلے کرلیے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ لوگوں کو منشیات سے دور رکھنے کے پروگراموں کو نئی اور غیرروایتی چیزوں کی بنیاد پر تیار کئے جائیں۔

·         ایک شخص کو اگر معاشرے میں اپنی زندگی کے مقاصد کے حصول کے لیے مناسب مواقعے اور حالات میسر نہ ہوپائیں تو ظاہر ہے ان کے اندر مجرمانہ سرگرمیوں کی جانب رجحان بڑھنے لگتا ہے۔ یہ ایسی صورت میں ہوتا ہے جب لوگوں میں کام کرنے کے مواقعوں کی مساوی اور جائز تقسیم نہیں ہوتی ، یعنی لوگوں کو یہ موقع نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کریں اور  بدلے میں ان کو بھی کچھ حاصل ہو۔

·         جرائم پیشہ افراد نوجوانوں کو مجرمانہ سرگرمیوں کی جانب مائل کرنے کے لیے نئی سے نئی چیزیں کرتے رہتے ہیں ۔  ایسی صورت میں اگر معاشرہ بھی اپنا کردار ادا نہ کرے تو پھر  ان مجرمانہ ذہن رکھنے والوں کی اور زیادہ حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ عام طور پر خاندان والوں  اور معاشرہ کی توجہ ثانوی چیزوں پر ہی رہتی ہے جن کا ہمارے ملک کے مستقبل یا اس کی سیکورٹی کی حکمت عملی سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

·         حقیقت یہ ہے کہ جرائم میں کمی لانے کے لیے آگاہی کے پروگرام بہت اہم اور موّثر کردار ادا کرسکتے ہیں، تاہم اکثر اوقات میڈیا اس طرح کے  موضوعات پر بہت سرسری نظر ڈالتا ہے اور اس سلسلے  میں وہ حقیقی مسائل کے بارے میں درست معلومات تک  فراہم نہیں کرتا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ  اس طرح کے معاملات میں ماہرین کی رائے لئے بغیر یا کسی مستند ذرائع سے حاصل کردہ معلومات یا سائنسی علم کے بغیر  انفرادی  تناظر میں ہی اس طرح کے مسائل کو دیکھا جاتا ہے۔

·         ہمارے معاشروں میں نشہ آور موادوں کے میدان میں پیشہ ورانہ ماہرین کی بہت قلت ہے۔ ساتھ ہی ایسے ماہرین اور پیشہ ور افرادکی بھی کمی ہے جو جرائم اور مجرمانہ رویوں کے کے بارے میں آگاہی پھیلائیں ، اس  سےمعاشرےکے تحفظ  اور میڈیا  کے درمیان  خلیج بڑھتی جاتی ہے۔

دوسری جانب اس سلسلے میں مَیں نے کئی تجاویز بھی تیار کی ہیں ، جن میں مندرجہ  ذیل چند یہ بھی شامل ہیں:

·         ایسے منصوبے تیار کرنا جن میں مستقبل کے حوالے سے پیش گوئی کی جاسکتی ہو اور ساتھ ہی درپیش مسائل کا سامنا کرنا اور ان کے لیے اجتماعی حل تلاش کرنا  ہی ایسے  راستےہیں جن کے ذریعے ہم عام لوگوں کو اس جنگ میں اپنے ساتھ ملاسکتے ہیں۔   ان دو طریقوں سے معاشرے میں موجود عام لوگوں کو مستقبل میں جن سماجی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے ان کے بارے میں  مطالعہ کرنے میں سہولت ہوگی۔

·         معاشرے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ آبادی کے ایسے گروہوں پر توجہ مبذول کرے جن کے بارے میں یہ امکان زیادہ ہے کہ وہ مجرمانہ سرگرمیوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس  طرح کی نگرانی کے  عمل کے لیے یہ ضروری ہے کہ معاشرہ  ایسی سرگرمیوں کومحدود کردے جو  اخلاقیات یا پھر معاشرتی رسم و رواج سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ان سرگرمیو ں کو بھی محدود کیا جائے جو تعلیمی پروگراموں کو نقصان پہنچاتی ہوں یا جن سے لوگوں کے اندر ایک اچھے شہری بننے کی راہ میں رکاوٹ پڑتی ہو یا جو ہماری ملکی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہوں۔

·          آگاہی پھیلانے اور ''تحفظ سب کی ذمہ داری ہے '' کے نعرے کے اطلاق  کے لیے جو فیصلے لیے گئے ہیں یا جو سفارشات پیش کی گئی ہیں ان کے اطلاق کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ تمام وزارتیں ، سول سوسائٹی کی تنظیمیں اور ادارے   ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ تعاون کے ذریعے ایک پائیدار شرکاکتداری پیدا کریں۔

·         جب آپ مستقبل کی پیش گوئی کرنے والے منصوبے بنا رہے ہوں تو ان میں آؤٹ ریچ حکمتِ عملیوں کی کامیابی کے لیے آپ کو چاہیئے کہ ہنگامی یا پھر خاص صورتحال والے طریقوں کی بنیاد پر منظرنامہ بنانے والے طریقے استعمال کریں کیوں کہ آؤٹ ریچ حکمتِ عملیوں کی کامیابی کے لیے یہ دو طریقے سب سے بہتر ہیں۔اس کے علاوہ یہ طریقے بڑھتے ہوئے جرائم اور بڑھتے ہوئے سماجی اور نفسیاتی مسائل کے اسباب کے بارے میں تحقیق کرنے میں بھی معاون ہوسکتے ہیں ۔

·         اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم (یواین او ڈی سی ) کے رہنمااصولوں سے مدد حاصل کریں اور یواین او ڈی سی کی جانب سے جودنیا بھر کی حکومتوں سے جو بار بار مطالبات کئے جاتے ہیں ہیں ان موّثر جواب دیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ان مطالبات کو معاشرے کے تمام طبقات  تک پہنچایا جائے تاکہ جرائم اور منشیات کی لعنت کے خلاف آگاہی کے پروگرام بنا کر لوگوں کو مجرمانہ سرگرمیوں اور منشیات کی علت سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

·         جرائم اور مجرمانہ سرگرمیوں میں کمی لانے کے لیے ایک مخصوص آؤٹ ریچ حکمتِ عملی پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھیں ۔ موّثر پیغام اور یقینی نتائج کے لیے سائنسی تحقیق کی بنیاد پر تیار کردہ طریقے ہی استعمال کریں۔ اس کے علاوہ انسانی رویوں، ایک دوسرے  سے ربط پیدا کرنے کے عمل پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ جرائم اور ان مسائل کے پھیلاؤ کے بارے میں درست ترین معلومات فراہم کرتے ہوئے اس پیغام کو بروقت پھیلانے کی بھی ضرورت ہے۔

مختصراً یہ کہ ہمارے دوسری بھی ایسی چیزیں شایع ہورہی ہیں جو معاشرے کو منشیات کے چنگل میں پھنسنے سے روکنے کی مختلف حکمتِ عملیاں بتاتی ہیں۔

ڈاکٹر آید علی الحمیدان

منشیات اور تحلیلِ نفسی موادوں کے میدان میں ایک بین الاقوامی ماہر

مزید پڑھیں >

21 ستمبر 2017

انٹرنیٹ کی علت سے پوری دنیا متاثر ہے

انٹرنیٹ کی علت نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کوبھی متاثر کرتی ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں کہ جب تسلسل کے ساتھ نئی کمپیوٹرگیمز بنائی جا رہی ہیں۔اس علت سے بچے کی زندگی، اس کی نیند اور تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔وہ اپنی ذات میں کھو جاتا ہے ، دوستوں کے ساتھ باہر نہیں نکلتا اور انٹرنیٹ پر بنا تھکے براؤزنگ کرنے کے علاوہ وہ کسی اور سرگرمی میں شرکت نہیں کرتا۔

نفسیات کے امریکی پروفیسر ، جان گرول نے عرب دنیا سمیت دنیا کے مختلف ممالک اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں انٹرنیٹ کی علت کا مطالعہ کیا ہے ۔ اس میں ای میل یا چیٹ رومز کے ذریعے ان مریضوں سے براہِ راست رابطہ کیا گیا۔ اس مطالعے کے نتائج دکھاتے ہیں کہ انٹرنیٹ کی علت تاحال بڑھنے کے عمل سے گزر رہی ہے۔

اس مطالعے کے نتائج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ کی دلفریبی کے باعث انٹرنیٹ کے نئے استعمال کرنے والے عموما ً اس سے اور بھی زیادہ شدت سے جڑ جاتے ہیں۔ تاہم، کچھ عرصے کے بعد ان استعمال کنندوں کو مایوسی ہونے لگتی ہے کیوں کہ انٹرنیٹ کے ذریعے وہ اپنی ذاتی ضروریات اور خواہشات پوری نہیں کرپاتے۔ تاہم بعض استعمال کنندے اس شروعاتی دورسے اتنا جلدی نہیں نکل پاتے ، ان کو بہت وقت لگتا ہے اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو انٹرنیٹ کی علت کے ذمروں میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

دوسری جانب گرول نے پایا کہ انٹرنیٹ پر موجود بہت زیادہ معلومات  ایک طرح  سے ذہنی ہیجان پیدا کردیتی ہے جس کے باعث انٹرنیٹ کی علت میں مبتلا کمزور افراد کے لیے اس میں بہت زیادہ کشش پائی جاتی ہے۔اگر کمپیوٹر  نیٹ ورک سے منقطع کردیا جائے تو انٹرنیٹ کی علت میں مبتلا فرد بہت زیادہ پریشان اور ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے ،اس کے بعد وہ مسلسل  دوبارہ انٹرنیٹ استعمال کرنے کی تلاش میں رہتا ہے اور  جتنا وقت وہ انٹرنیٹ سے منقطع رہتا ہے  اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وقت رک سا گیا ہے۔

ایک حالیہ کانفرنس میں امیریکن سائیکولاجیکل ایسوسیئشن (اے پی اے) نے خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر انحصار کا مسئلہ اب  محض ریاستہائے متحدہ امریکہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ حتیٰ کہ اب خواتین کے لیے ایسے سماجی گروپس بھی بن گئی ہیں جنہیں ''انٹرنیٹ کی بیوائیں'' کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کے شوہر غیرقانونی آن لائن تعلقات کا شکار ہوگئے ہیں اور  نتیجتاً وہ اپنی ازدواجی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سائبر علت کے باعث وہ کئی کئی گھنٹے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر گزارتا ہے ، جس کے باعث کمر درد کا شکار ہوجاتا ہے ، آنکھوں میں تھکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے اور کام اور اسکول میں کارکردگی پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

جن خواتین کے شوہر انٹرنیٹ کی علت کا شکار ہیں ماہرینِ نفسیات ایسی انٹرنیٹ کی بیواؤں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے شوہروں کے علاج معالجے کے لیے دوسروں کے بجائے اپنے آپ پر انحصار کریں ، ہوسکتا ہے ان لوگوں کے پاس عملی تجربہ تو ہو تاہم وہ پورا دن ان کے شوہروں کے ساتھ نہیں گزار سکتے۔

ماہرین انٹرنیٹ کی علت میں مبتلا افراد کی بیویوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ انٹرنیٹ کی علت کے حوالے سے اپنے خاوندوں سے لڑنے جھگڑنے کے بجائے ان کے ساتھ بات چیت کریں اور ان کوقائل کرنے کے لیے دیگر طریقے استعمال کریں۔ وہ ان کو کہ سکتی ہیں کہ ان کے ساتھ ناشتہ کرنے تک وہ صبر کرلیں اور انٹرنیٹ استعمال کرنے سے پہلے وہ ۱۵ منٹ اپنے خاندان والوں کے ساتھ گزاریں۔ اس حوالے سے خواتین یہ بھی کرسکتی ہیں کہ گھرمیں کمپیوٹر کو خواب گاہ میں رکھنےکے بجائے مہمانوں کے بیٹھنے والی جگہ پر رکھ دیں۔ایسی خواتین انٹرنیٹ کی علت میں مبتلا اپنے شوہروں کے لیے نیٹ ورک کے وقت کو دوبارہ تقسیم کرسکتی ہیں  اور اس میں آہستہ آہستہ کمی لاکر اس کو محض ۲۰ گھنٹے ہفتے تک لاسکتی ہیں اور اس کو ہفتے کے دنوں کے مطابق تقسیم کرسکتی ہیں۔

ماہرین ایسی خواتین کو یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ وہ خاندان کے لوگوں کے باہمی بات چیت کے سیشنوں کا بھی احتمام کریں جن میں خاندانی مسائل پر بات چیت کی جائے اور بتدریج اس طرح کی بات چیت کے عمل میں اپنے شوہروں کو بھی شامل کریں ، سماجی تقاریب میں شرکت کریں اور حقیقی زندگی میں زندہ رہنے اور لطف اٹھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ قت کھیل کود کے لیے وقف کریں۔

مزید پڑھیں >

20 ستمبر 2017

ایسٹونیا میں منشیات کی پریشانی

یورپ میں منشیات کے زیادہ مقدار سے ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ایسٹونیا میں ہوتی ہیں اور وہ اپنے ریکارڈ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسٹونیا کے روزنامے اوتیولیت کے مطابق،  سن ۲۰۱۵ میں منشیات کی زیادہ مقدار میں استعمال سے ایسٹونیا میں ۱۰۳ افراد ہلاک ہوگئے جو یورپ کی مجموعی ہلاکتوں کی شرح سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

ایسٹونیا کے اس اخبار کے خیال میں علت ا یک سماجی مسئلہ سے زیادہ ایک بیماری ہے۔ لہٰذا وہ ایسٹونین نیشنل سینٹر فار دی فائیٹ اگینسٹ ایڈکشن کے ساتھ شراکتداری کرتا ہے اور اس پر زوردیتا ہے کہ ذمہ داری یا الزام صرف علت میں مبتلا فرد پر نہیں دھرا جاسکتا، کیوں کہ بین الاقوامی ادارہ صحت نے منشیات کی علت کو بھی دیگر بیماریوں مثلاً ذہنی دباؤ، بے چینی، زیابیطس یا بلند فشارخون کی طرح ایک بیماری کے زمرے میں رکھا ہے۔

اخبار نے اپنی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی اداروں کی طرح علت کو ایک بیماری کے زمرے میں شمار کرے ۔بہ الفاظ دیگر یہ لازمی ہے کہ علت کا علاج معالجہ بھی طبی اصولوں کے تحت کیا جائے اور  اس سلسلے میں مخصوص ادویات دی جائیں اور علاج معالجے اور بحالی کے لیے ایک وقت مقرر کیا جائے۔

جب علت کو ایک بیماری تسلیم کر لیا جائے گاتو کئی خاندانوں سے بوجھ ہلکا ہوجائے گا اور منشیات کی علت میں مبتلا کئی افراد کی زندگیاں بچائی جاسکیں گی۔ اس سے ایسٹونیا میں عوام کے لیے رکھے گئے بجٹ پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید پڑھیں >

19 ستمبر 2017

ایک سائنسی تحقیق نے تمباکو پر انحصار میں کمی لانے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے

برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں صحت کی سرکاری ایجنسیوں نے سگرٹوں میں نکوٹین کی مقدار میں کمی لانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے ۔اس کے باعث سگرٹ نہ صرف علت میں کم  مبتلا کریں گے بلکہ  دونوں ممالک میں تمباکو کے استعمال کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔

ایک حالیہ مطالعے میں سائنسدانوں نے اس سلسلے میں تحقیق کی کہ نکوٹین کی سطح میں کمی لانے سے تمباکو نوشی کرنے والوں کی عادات پر کس طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس تحقیق میں صحت کے مسائل سے دوچار خواتین اور بالغ افراد پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔

اس مطالعے میں پایا گیا کہ اگر سگرٹوں میں نکوٹین کی سطح میں کمی کردی جائے تو اس سے علت کی شرح میں بھی کمی آتی ہے ۔ درحقیقت سگرٹوں میں نکوٹین کی مقدار میں کمی لانے سے نسبتاً صحت مند تمباکو نوش افراد کے لیے بھی سگرٹوں کی کشش کم ہوجاتی ہے۔

اس مطالعے کے سربراہ پروفیسر اسٹیفن ہگنز کہتے ہیں کہ ''اس مطالعے سے بہت زیادہ حوصلہ افزا عندیے ملتے ہیں کہ سگرٹوں میں نکوٹین کی مقدار میں کمی لانے سے تمباکو نوشی کرنے والے افرادکو سگرٹ نوشی ترک کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے عام لوگوں کی صحت میں بہتری آئے گی۔''

اس مطالعے کے نتائج کی روشنی میں یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سگرٹوں میں تبدیلیوں کا اطلاق کرے گی ''تاکہ بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں نمایاں طور پر کمی لائی جاسکے''۔

تاہم،اس حل کو لاگو کرنے میں بہت زیادہ چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ہو سکتا ہے کہ اس سے  بلیک مارکیٹ میں ایسے درآمد کردہ سگرٹوں میں اضافہ ہوجائے جن میں نکوٹین موجود ہو۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس بات پر پوری دنیا میں عمل کیا جائے۔

مزید پڑھیں >

17 ستمبر 2017

منشیات کی زیادہ مقدار کے استعمال کو روکنا اور اس میں کمی لانا—ای ایم سی ڈی ڈی اے کی ایک ترجیح

منشیات کی زیادہ مقدار کے استعمال کا عالمی دن ایک سالانہ دن ہے جو  ۳۱ اگست کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد منشیات کے زیادہ مقدار میں استعمال کے بارے میں آگاہی پھیلانا اور منشیات کے حوالے سے ہونے والی اموا ت سے سماجی  رسوائی میں کمی لاناہے۔ یورپی  یونین کی منشیات کے حوالے سے ایجنسی (ای ایم سی ڈی ڈی اے) نے اس دن کے حوالے سے یورپ میں منشیات کی زیادہ مقدار میں استعمال کے حوالے ہونے والی اموات کے تازہ ترین اعدادوشمار کو اجاگر کیا  اور اس نے  اس طرح کے نقصان سے بچاؤ میں مداخلت کے حوالے سے اپنی معاونت کا بھی اظہار کیا۔

ای ایم سی ڈی ڈی  اے کی جانب سے تازہ ترین شواہد دکھاتے ہیں کہ یورپ میں مسلسل تیسرے برس بھی منشیات کے زیادہ مقدار میں  استعمال سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ۲۰۱۵ میں یورپ (۲۸ یورپی یونین کے ارکان، ترکی اور ناروے) میں منشیات کے زیادہ مقدار  میں  استعمال جس میں زیادہ تر ہیروئن اور دیگر اوپیڈز تھے ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد ۸۴۴۱ تھی ، یہ ان ۳۰ ممالک میں اس طرح کی ۲۰۱۴ میں ہونے والی اموات ۷۹۵۰ کی تعداد میں ۶ فیصد کا اضافہ تھا۔ ابتدائی اعدادوشمار دکھاتے ہیں کہ ۲۰۱۶ میں بھی  بڑھنے کا یہ رجحان جاری تھا۔ یورپ کے ۱ عشایہ ۳ ملین منشیات استعمال کرنے والے بہت زیادہ غیر محفوظ ہیں۔

ای ایم سی ڈی ڈی اے کے ڈائریکٹر ایلکس گوسڈیل کہتے ہیں: ' ای ایم سی ڈی ڈی اے اپنی حکمتِ عملی ۲۰۲۵ کے ذریعے معاشرے اور صحت پر پڑنے والے منشیات کے استعمال کے اثرات میں کمی لانے کے لیے  ردِ عمل کی رسائی اور معیار میں بہتری لاکر ایک زیادہ صحت مند یورپ میں اپنا کردار ادا کرنے میں پر عزم ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم بچاؤ، علاج معالجے اور نقصان میں کمی لانے والے نئے طریقوں سے آگاہ ہوں اور نئے طریقوں کی نشاندہی کرنے اور ان کو اپنانے میں اپنے ساتھ شامل ارکان کی مدد کریں۔ ہماری ترجیحات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر سال منشیات کے حوالے  سے وقت سے پہلے اور روکی جاسکنے والی  ہزاروں اموات سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کریں'۔

ہیروئن کو اکثر دیگر موادوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے ، یورپ میں منشیات کی زیادہ مقدار سے ہونے والی ہلاکتوں کے اکثر معاملات میں ہیروئن پائی گئی ہے۔ حالیہ اعدادوشمار دکھاتے ہیں کہ  کئی یورپی ممالک میں ہیروئن کے تعلق سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ شمالی امریکہ میں بھی ہیروئن کے استعمال میں اضافہ ہورہا ہےاور نسخہ پر لکھی جانے والی اوپیڈز کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

یورپ اور شمالی امریکہ میں مصنوعی اوپیڈز بہت زیادہ طاقتور ہیں جو ہیروئن اور مارفین سے ملتے جلتے اثرات پیدا کرتے ہیں ، اب یہ بھی لوگوں کی صحت کے لیے ایک خطرہ بنتے جاتے ہیں۔ منڈی میں تاحال ان کی مقدار اتنی زیادہ نہیں ہے تاہم ان موادوں کے پھیلنے اوران سے پیدا ہونے والے نقصاندہ اثرات کی اطلاعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس میں غیرمہلک مدہوشی اور اموات دونوں شامل ہیں۔ سن ۲۰۰۹ اور ۲۰۱۶ کے درمیان یورپ میں مصنوعی اوپیڈز کی پچیس نئی اقسام کا پتہ لگایا گیا (جن میں سے ۱۸ فینٹانل تھیں، جس پر ایک خصوصی چانچ کی جا رہی ہے)

منشیات کے حوالے سےرد عمل دینے اور اس سے پہنچنے والے نقصان سے بچاؤ اوران موادوں کے استعمال سے جنم لینے والے مسائل کے لیے موّثر علاج معالجہ پیش کیاجانا  یورپ کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ بیماریوں اور ہلاکتوں میں کمی لانے کے لیے اوپیڈ کے متبادل علاج معالجے (او ایس ٹی) کےاستعمال کے لیے مضبوط شہادت والی مدد فراہم کرتا ہے۔

یورپ میں زیادہ مقدار میں منشیات کے استعمال کے بچاؤ کے سلسلے میں جو اقدامات کئے جا رہے ہیں ان میں منشیات کے استعمال کے کمرے بھی شامل ہیں ۔ اس طرح کے کمرے منشیات کے زیادہ مقدار میں استعمال کو روکتے ہیں اور اس کی یقین دہانی کرتے ہیں کہ اگر زیادہ مقدار میں منشیات استعما ل ہوگئی ہے تو اس سلسلے میں فوری طور پر پیشہ ورانہ معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس طرح کے منشیات کے استعمال کے کمرے یورپی یونین کے چھ ممالک اور ناروے میں اس وقت کام کر رہے ہیں (مجموعی طور پر ۷۸ مقامات پر)۔ حالیہ برسوں کے دوران  نلاکسن 'گھر لے کر جانے' میں بھی اضافہ ہوا ہے (یہ اوپیڈ اور کئی منشیات ) جو منشیات کے زیادہ مقدار میں استعمال  کا رد عمل دینے کے لیے اوپیڈ استعمال کرنے والوں، ان کے دوستوں اور خاندان والوں کو فراہم کی جارہی ہے اور ساتھ ہی زیادہ مقدار کے استعمال کی نشاندہی کرنے کی تربیت بھی فراہم کی جارہی ہے۔ نلاکسن گھر لے کر جانے کے پروگرام اس وقت یورپی یونین کے نو ممالک اور ناروے میں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں >

منشیات اور نشہ آور

چالیس سے زیادہ تر نشہ آور ادویات اور مواد کے غلط استعمال ، پیداواری ممالک، بڑے بڑے اثرات، علامیتیں اور علاج کے متعلق جانیں۔

ڈاکٹر سے پوچھیں۔

خواہ علت میں آپ مبتلا ہوں یا کوئی آپکا قریبی عزیز، اس قسم کی کسی بھی علت کے متعلق معلومات کے لیے آپ کی پہلی ترجیح۔

GINAD

Une recherche scientifique aboutit à une méthode permettant de réduire la dépendance au #tabagisme… https://t.co/bme1seKGDK

21 ستمبر 2017

ایک سائنسی تحقیق نے تمباکو پر انحصار میں کمی لانے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے https://t.co/lioxx3yJzE https://t.co/6EfLmERIVB

21 ستمبر 2017

A scientific research finds a way of reducing #tobacco dependence https://t.co/Hy5quicJ9Y https://t.co/ydV3EHtCMT

21 ستمبر 2017

بحث علمي يصل لطريقة تقلل من #إدمان #التدخين https://t.co/qlRB7GbLxi https://t.co/0JIRao8rPh

21 ستمبر 2017

RT @NCNC_sa: أضرار مخدر #الحشيش #نبراس #سابك https://t.co/HbcmuRysyO

19 ستمبر 2017