منشیات کے حوالے سے عالمی معلومات کا نیٹ ورک

ہماری جامع عالمی ڈائریکٹری کنسلٹ کریں

31 دسمبر 2017

اوپیڈز کے باعث ریاستہائے متحدہ امریکہ میں متوقع عمر میں نئی کمی

منشیات سے متعلق ہونے والی اموات، بلخصوص اوپیڈز کے زیادہ مقدار میں استعمال سے  ہونے والی اموات کی وجہ سے امریکیوں کی متوقع عمر میں ۲۰۱۶ میں مسلسل دوسرے برس بھی کمی ہوئی۔۱۹۶۰ سے اس طرح کی کمی کی نظیر اس سے پہلے نہیں ملتی۔

 سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کی جانب سے شایع کردہ اعدادوشمار کے مطابق۲۰۱۵  میں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پیدائش کے وقت متوقع عمر ۷۸ عشاریہ ۷ برس تھی جبکہ اس کے مقابلے میں ۲۰۱۶ میں اس میں ایک ماہ کمی ہوئی اور یہ ۷۸ عشاریہ ۶ برس ہوگئی  اور ۲۰۱۴ میں یہ ۷۸ عشاریہ ۹ برس تھی۔

سی ڈی سی سینٹر میں اعدادوشمار کے ڈائریکٹر رابرٹ اینڈرسن کا کہنا تھا کہ ''۱۹۶۰ کے ابتداکے بعد سے یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں مجموعی طور پر متوقع عمر میں مسلسل دوبرسوں میں کمی ہوئی ہے۔'' انہوں نے وضاحت کی کہ ''اس میں سب سے اہم عوامل منشیات کے زیادہ مقدار میں ہونے والی اموات ہیں''۔  ایک لمبے عرصے سے زیادہ مقدار میں ہونے والی اموات سے دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات کو برابر کر رہی تھیں تاہم یہ کمی اب آہستہ ہوگئی ہے۔''

اکتوبر کے اخیر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوپیڈ کی علت کو صراحت ''صحت کی ہنگامی صورتحال'' کے طور پر کی اور انہوں نے اس ''لعنت '' کے خاتمے کا بھی وعدہ کیا ، ساتھ ہی انہوں نے زور بھی دیاکہ ''اس میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔''

تخمیناً ۲۰ لاکھ امریکی اوپیڈز کی علت میں مبتلا ہیں ۔ اس مانع افسردگی کی ادوایات مثلاً فینٹالن اور آکسی کوٹین شامل ہیں اس کے علاوہ اس میں ہیروئن جیسی منشیات بھی شامل ہے جس میں دیگر طرح کے مواد بھی شامل ہوتے ہیں۔

۲۰۱۵ میں متوقع عمر میں کمی کو اوپیدز کے بحران سے منسوب سمجھا گیا اور اس کو پہلی مرتبہ ۲۰۱۳ میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ۲۰۱۶ میں منشیات کے زیادہ مقدار میں استعمال سے ۶۳۶۰۰ اموات ریکارڈ کی گئی یعنی روزانہ ۱۷۴ ہلاکتیں۔یہ ۱۰۰۰۰۰ میں سے ۱۹ عشاریہ ۸ افراد بنتے ہیں ۲۰۱۵ کے مقابلے میں یہ ۲۰ فیصد کا اضافہ ہے (۱۰۰۰۰۰ افراد میں سے ۱۶ عشاریہ ۳ )۔ یہ ۱۹۹۹ کے بعد سے تین گنا کی شرح سے اضافہ ہے (۱۰۰۰۰۰ میں سے ۶ عشاریہ۱)۔

 ۲۵ اور ۵۴ برس کی عمر کے درمیان بالغ افراد میں یہ ۱۰۰۰۰۰ فی ۳۵ کی شرح سے ہے۔ علت کی پالیسی کے گروپ کا کہنا تھا کہ ''سی ڈی سی سینٹرز کی جانب سے شایع کئے گئے یہ افسوسناک اعداوشمار اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ علت کی وجہ سے ہم امریکی شہریوں کی ایک نسل کھو رہے ہیں ، حالانکہ اس بیماری سے بچنا ممکن ہے''

مزید پڑھیں >

28 دسمبر 2017

عالمی ادارہ صحت: تمباکو نوشی سے ہر برس ۷۰ لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں

عالمی ادارہ صحت نے آج ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ تمباکو بنانے والی کمپنیاں نئی سےنئی مصنوعات منڈی میں لا رہی ہیں اور ان میں دعوے کئے جا  رہے ہیں کہ یہ کم نقصاندہ ہیں۔ مثلاً ایسی مصنوعات جن میں ''تمباکو کو آگ دکھا کر جلانے کے بجائے گرم کیا جاتا ہے''، تاکہ تمباکو نوشی کو بھاپ بنا کر نکوٹین کی بنیاد پر ایروسال پید ا کئے جائیں اور ان تنظیموں کی مالی مدد کی جائے جو تمباکو سے پاک دنیا بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

اس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ دنیا کو اسی طرح کے تجربات کچھ دیگر ممالک میں بھی ہوئے ہیں جن  میں یوراگوئے سے لیکر آسٹریلیا  تک شامل ہیں ، جن میں تمباکو بنانے والی کمپنیاں اپنی مہلک مصنوعات کو قانونی بنانے کے لیے مہنگے قانونی چیلنج پیش کرتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نقصانات کے باوجود یہ کمپنیاں تمباکو پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے نئے طریقے تلاش کرتی رہیں گی۔

مزیدبرآں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے میڈیا میں وفاقی عدالت کے نمائندوں کی جانب سے جاری کئے جانے والے ''اصلاحی بیانات'' یقیناً سچائی کی فتح ہیں ۔ یہ پیغام منظم جرائم پیشہ گروہوں سے لڑنے کے وفاقی قانون کے تحت ۱۹۹۹ میں امریکہ کے محکمہ انصاف کی جانب سے ایک مقدمہ  کے نتیجے میں  نکلا ہے۔۲۰۰۶ کے بعد سے دہائی تک جاری رہنے والی مقدمہ بازی اور اپیل کے دوران  اس مقدمے کا فیصلہ اکتوبر ۲۰۱۷ دیاگیا تھا ۔

اس رپورٹ میں موجود ڈیٹا میں تمباکو نوشی کے صحت پر پڑنے والے بل واسطہ اور بلا واسطہ نقصاندہ اثرات کی وضاحت کی گئی ہے، جن میں مندرجہ ذیل حقائق شامل ہیں: کم ٹار والے ''ہلکے'' سگرٹ عام سگرٹوں سے کم نقصاندہ نہیں ہیں؛ تمباکونوشی اور نکوٹین علت میں مبتلا کردیتی ہے، سگرٹوں کو ''جان بوجھ'' کر نقلی بنایا گیا تاکہ ''زیادہ سے زیادہ نکوٹین سانس کھینچ کر لی جائے۔''

رپورٹ  میں کہا گیا ہے کہ سگرٹ بنانے والے تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی مصنوعات سے صرف  ریاستہائے متحدہ امریکہ میں  روازنہ ۱۲۰۰ افرادموت کےمنہ میں چلے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں سالانہ ۷۰ لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمیں اپنے عزم کو مضبوط رکھنا ہے: ہمارے دوممالک کی طرح دنیا کی ایسی دیگر حکومتیں اور تنظیمیں  بھی ہیں جنہوں نے تمباکو نوشی کے خلاف جنگ کااعلان کر رکھا ہے اور تمباکو بنانے والی بڑ ی کمپنیوں کو شکست دینے تک وہ اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔

اگر ملک کے رہنماء اور صحت اور مالیات کے وزراء اس بارے میں تذبذب کا شکار ہیں کہ تمباکو کی مصنوعات کو ضابطے میں رکھنے کے لیے کون سے اقدامات کرنے ہیں، تمباکو نوشی بنانے والی بڑی کمپنیوں کے اعتراف اور مندرجہ ذیل سوال کا جواب دینے میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں شکوک کو شبہات: زیادہ سے زیادہ عمل کی ضرورت۔ اپنے شہریوں کو تمباکو نوشی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ممکنہ طور پر مضبوط ترین ضروری اقدامات اٹھانے کے سلسلے میں حکومتوں کو قانونی اوراخلاقی طور پر مسائل کا سامناہے۔

اس کے علاوہ عالمی ادارہ محنت کا کنوینشن  منشیات پر ضابطے کے موضوعات کے بارے میں ہدایات دیتا ہے، جن میں ٹیکس، عوامی آگاہی، تعلیم اور اجتماعی تنبیہ وغیرہ کے بارے میں موضوعات شامل ہیں۔  گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس طرح کے اقدامات سے لاکھوں زندگیاں بچانے میں مدد ملی ہے اور اس کے علاوہ صحت پرآنے والی لاگت میں بھی اروبوں ڈالر بچائے گئے ہیں۔

تاہم اس سلسلے میں بہت کچھ کئے جانے کی گنجائش موجود ہے اور ہم دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمباکو پر ضابطے کے طریقہ کار کی رفتار تیز کرنے ، تمباکو سے لڑنے کے اقدامات کے اطلاق اور ملکی سطح پر کنویشن کے اطلاق کے لیے عالمی ادارہ صحت کے تمباکو نوشی پر ضابطے کے کنویشن کو اپنے ہاں لاگو کریں۔ یہ کنویشن اور اقدامات مشترکہ طور پر تمباکو نوشی کی   صحت کے خلاف ایک مضبوط دفاع فراہم کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ پروٹوکول ٹو کمبیٹ ال سِٹ ٹریفکنگ ان ٹوبیکو پروڈکٹس کی حکومتوں کی جانب سے معاونت کی جائے اس کا مقصد غیر قانونی تجارت مثلاً سمگلنگ وغیرہ کی روک تھام ہے۔ حالانکہ یورپی یونین اور ۳۳ دیگر ممالک نے اس پروٹوکول پر دستخط کر کھے ہیں ، تاہم اس کے لاگو کئے جانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دیگر ۷ ممالک بھی اس کی حمایت کریں۔

آخر میں یہ کے غیر متعدی بیماریوں کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ۲۰۱۸ کے روشنی میں دنیا کے رہنماؤں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ لوگوں کو دل، پھیپھڑوں، سرطان اور زیابیطس وغیرہ جیسے امراض سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمباکو کے لیے اعلیٰ ترین معیاروں کی حمایت کریں۔

حالیہ اعترافات کے بعد تمباکو بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے بارے میں درست ترین معلومات فراہم کریں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کمپنیوں نے ہم سب سے کہا ہے کہ ان کے مصنوعات کے استعمال کو ترک کردیا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس مجوزہ مشورے کو تسلیم کرلیں کیوں کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ہے: اس سے ہر سال لاکھوں لوگ موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس سے صحت کے لیے بھی خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تمباکو بنانے والی کمپنیاں ایک لمبے عرصے سے ہم سے ان نقصانات کو چھپاتی رہی ہیں جن سے صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔

لیکن اب تمباکو  بنانے والی بڑی کمپنیوں کو بھی مجبور کردیا گیا ہے کہ وہ حقائق کو عام لوگوں کے سامنے لائیں۔ ۲۰۰۶ میں ریاستہائے متحدہ امریکہ وفاقی عدلیہ میں فیصلے کو ہارنے کےبعد چار کمپنیوں کو امریکی ٹیلی وژن اور اخبارات میں ''اصلاحی بیانات'' میں ان سالوں سے انہوں نے جو اپنے اشتہارات کے پیچھے سچ کو چھپا کر کھا ہے اس کو پیش کرنا ہوگا۔ ان بیانات میں   تمباکو بنانے والی امریکی کمپنیوں ''فلپ مورس''، ''رینالڈ ٹوبیکو''، لاری لارڈ'' اور ''الٹریا'' کو لازمی طور پر یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ انہوں نے ان کی مصنوعات سے پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں آگاہی کے باجود بھی ان کی فروخت کو جاری رکھا۔

مزید پڑھیں >

27 دسمبر 2017

انسدادِ تمباکو نوشی کی ادویات میں ہلکی نوعیت کی منشیات پائی جاتی ہے

امریکن ایسوسیئشن کے ماہرین کی جانب سے کئے گئے ایک مطالعے کے مطابق انسدادِ تمباکو نوشی کی ادویات کے صحت پربہت زیادہ مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان سے دل کی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں اور ان سے دل کے پٹھوں میں مسائل بھی ہوسکتے ہیں کیوں کہ   ان میں اکثر ہلکے قسم کی منشیات یا نکوٹین ہوتی ہے؛ لہٰذا اس طرح کی ادویات کو زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے صحت کو بہت زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے یا پھر اس سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

مندرجہ بالا مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد جو اس طرح کی ادویات کا استعمال ترک کردیتے ہیں ان میں سے ۳۴ فیصد کو پٹھوں میں شدید درد ہوتا ہے اور ان کو ہنگامی  شعبہ میں داخل کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں پھر عموماً دل کا دورہ بھی پڑتا ہے۔

بہت سے لوگ تمباکونوشی ترک کرنے کے لیے ادویات استعمال کرتے ہیں ۔بہت سے لوگوں نے تمباکو نوشی ترک کرنے کی نیت سے برقی سگرٹوں کا استعمال شروع کردیا ہے ، تاہم حال ہی میں ایک امریکی مطالعے میں دکھایا گیا ہے کہ اگرکوئی شخص چاہے کبھی کبھار ہی کیوں نہ برقی سگرٹ استعمال کرتا ہو وہ دوبرس کے اندر ہی تمباکو نوشی کرنے لگتا ہے۔ 

مزید پڑھیں >

26 دسمبر 2017

اوپیڈ زکے بحران کا مقابلہ کرنے میں رکن ریاستوں کی مدد کے لیے یواین اوڈی سی نے ایک کتاب کا اجراء کیا ہے

حال ہی میں ہم نے دنیا بھر میں اوپیڈز کے زیادہ استعمال سے ہونے والی اموات میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا ہے۔ اس سے پہلے اس طرح کی اموات زیادہ تر مقامی سطح پر شمالی امریکہ میں ہوا کرتی تھیں، تاہم اب اس طرح کی ہلاکتیں یورپی ممالک میں بھی ہونے لگی ہیں۔ اس طرح کی اموات  کا ذمہ دار خفیہ طریقے سے بنائی جانے والی فینٹالن اور اس طرح کی دیگر چیزوں کی ہیروئن میں ملاوٹ کو سمجھا جاتا ہے۔

اس چیلنج کا مقابلہ کرنے میں رکن ریاستوں کی معاونت کے لیے یو این او ڈی سی کے لیبارٹری اینڈ فارینزک سروسز پروگرام نے حال ہی میں فارینزک لیبارٹریوں کے لیے ایک مینوئل شایع کیا ہے جس کا عنوان ہے ''حیاتیاتی نمونوں میں فینٹالن اور اس سے ملتی جلتی چیزوں کی نشاندہی اور تجزیے کے لیے مجوزہ طریقے''۔

اس کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے یو این او ڈی سی کی رسرچ اینڈ ٹرینڈ اینالسز برانچ کی سربراہ اینجیلا می کا کہنا تھا کہ : ''اس طرح کے موادوں کی نشاندہی اور ان کے بارے میں مطلع کرنے سلسلے میں ایجنسیوں اور قومی لیبارٹریوں کے قانون کے نفاذ کی صلاحیت کو بڑھانا  اس وقت اوپیڈز کے بحران کی نوعیت اور  اس کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔  موّثر بین الاقوامی ردِعمل کے سلسلے میں شواہد کی بنیاد پر معلومات کے حصول کے لیے اس قدم کی کلیدی اہمیت ہے۔''

۲۰۱۵ میں اوپیڈز کے زیادہ استعمال  سےامریکہ میں ۳۳۰۰۰ افراد ہلاک ہوگئےتھے ، یہ تعداد دیگر تمام طرح کی منشیات  یا پھر ٹریفک حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں سے بھی بڑھی ہوئی تھیں۔ جنوری اور جون ۲۰۱۷ کے درمیان کینیڈا میں ہیروئن کے جتنے نمونوں کا جائز ہ لیا گیا ان میں سے ۶۵ فیصد میں فینٹالن یا اس سے ملتے جلتے موادوں کی ملاوٹ پائی گئی۔ اسی طرح یورپین مانٹرنگ سینٹر فار ڈرگز اینڈ ڈرگز ایڈکشن نے رپورٹ دی کہ یورپ میں کارفینٹانل (جانوروں کی ایک دوا جس میں مارفین سے بھی ۱۰۰۰۰ گنا زیادہ طاقت پائی جاتی )  کے استعمال سے ۶۰ افراد کی موت واقع ہوئی۔

فینٹالن ایک مُسکن نشہ آور ہے جس کو جراحت میں بے ہوش کرنے اور سرطان میں مبتلا مریضوں کے شدید درد کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا شمار بھی عالمی ادارہ صحت کی ان ادویات کی فہرست میں ہوتا ہے جنہیں انتہائی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ فینٹالن اس  سے ملتی جلتی چار ادویات کو دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور ان میں سے مجموعی طور پر ۱۵ بین الاقوامی کنٹرول میں ہیں۔

ذہر خورانی اور ہلاکتوں کے  علاوہ زیادہ مقدار میں منشیات کے استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں کے معاملات وغیرہ میں فینٹالن کی نشاندہی  آج بھی ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا  ہے۔ ہوسکتاہے منشیات میں فینٹالن کی ملاوٹ بہت کم مقدار میں کی گئی ہو اور اس طرح اس کا پتہ لگانا اور اس کی نشاندہی کرنا بہت مشکل ہوسکتا ہے۔ اس طرح کے حالات میں عالمی سطح پر اس مسئلہ کے وسعت اور پھیلاؤ کے بارے میں درست ترین معلومات کا حصول ایک مسئلہ ہے۔

۲۰۱۲ سے یو این او ڈی سی کے نئے تحلیلِ نفسی موادوں کے بارے میں ابتدائی طور پر خبردار کرنے والے نظام کو غیر ضابطہ شدہ ۲۰ اقسام کی فینٹالن کے بارے میں معلومات وصول ہوئی۔ اگر  موازن کیا جائے تو اس طرح کی ملنے والے فینٹالن کی طاقت  مارفین کے مقابلے میں ۱۰ گنا سے لے کر کئی ہزار گنا زیادہ طاقتور ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >

25 دسمبر 2017

منشیات کے ایک بین الاقوامی ماہر اینابالک اسٹرائڈز کے خلاف خبردار کرتے ہیں

دوسرے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے یا اپنی تعریف کروانے کے غرض سے پٹھوں کو بڑھانے کے لیے اسٹرائڈز کے استعمال کے خلاف کئی ماہرین خبردار کرتے ہیں۔ سب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ عموماً اسٹرائڈز کا صحت پر براہِ راست نقصاندہ اثر پڑتا ہے ۔چاہے ان کو منہ کے ذریعے استعمال کیا جائے یا پھر انجکشن کے ذریعے ان سے خطرناک بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں، جن میں سرطان اور بانجھ پن وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اس سے خون میں شکر کی مقدار میں کمی واقع ہوسکتی ہے یا پھر تھائیراڈ کے کام کرنے میں بھی کمی آسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف کویت میں کئے گئے ایک مطالعے میں پایا گیا کہ مصنوعی اسٹرائڈ ہارمون کا استعمال سرطان ، بانجھ پن اور صلابت جگر کا باعث بن سکتا ہے۔

اس مطالعے میں دکھایا گیا ہے کہ ہیلتھ کلب جانے والے ۳۰ فیصد نوجوان اپنےجسم پر پڑنے والے منفی اثرات کے باوجود ہارمونز اور اسٹرائڈز کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے استعمال سے جگر کے خلیوں کو نقصان پہنچتا ہےاور تولیدی مادے میں کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ یہ مثانے کے غدود کو بڑا کرتا ہے اور چھاتی میں سوجن کا باعث بنتا ہے۔ کلبوں میں نوجوانوں میں ہارمونز کے استعمال کے پھیلاؤ کا تعین کرنے کے لیے یونیورسٹی آف کویت کے کالج آف لائف سائنسز کے غذا اور غذائیت کے پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد رفی نے ایک مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے میں دکھایا گیا ہے کہ ہارمونز استعمال کرنے والے ۷۷ فیصد نوجوانوں کی عمریں ۲۹ برس سے کم ہوتی ہیں اور ان میں سے اکثر نے صرف ثانوی درجے تک تعلیم حاصل کی ہوتی ہے یا پھر اس سے بھی کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔

اس مطالعے میں یہ بھی پایا گیا  ہے کہ ہارمون استعمال کرنے والے اس طرح کی مصنوعات پر ماہانہ  ۲۰۰ کویتی دیناروں کے برابر خرچ کرتے ہیں اور یہ کہ ۴۲ فیصد نوجوان کسی دوافروش یا خاص دوکانوں کے بجائے اسٹرائڈز براہِ راست اسپورٹس کلبز پر کام کرنے والے کوچ سے ہی خریدتے ہیں۔

دوسری جانب قدرتی ہارمونز میں بھی پے چیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں جن سے دماغ میں موجود پیچوئریٹی گلینڈز کے کام کرنے میں خرابی کے باعث بانجھ پن پیدا ہوتا ہے ۔ دیگر گلینڈز مثلاً ایڈرنل گلینڈز ، تھائیرائڈ گلینڈز  اور لبلبے میں بھی پے چیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا اینابالک اسٹرائڈ  استعمال کرنے والوں کو لامحالہ ان تینوں گلینڈز میں شدید بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں اور یہ اپنا کام بھی درست انداز میں انجام نہیں دے پاتے۔ یہ اثرات محض بانجھ پن تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ آگے چل کر جسم میں کمزوری پیدا ہوتی ہے اور اس سے سرطان بھی پیدا ہوتاہے۔ مزیدبرآں، ان موادوں کے استعمال سے جو نقصانات ہوتے ہیں ان میں پٹھوں کے وزن میں اضافے کے ساتھ جسمانی وزن میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور اس سے دل کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور دل کے پٹھوں پر پڑنے والے دباؤ کے باعث دیگر پٹھوں میں کمزور ی آجاتی ہے۔ اسٹرائڈز سے جسمانی ہیت میں بھی تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے، قوتِ باہ میں کمی  کے ساتھ ساتھ بے خوابی اور ذہنی اور اعصابی تناؤ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

عزیز نوجوانوزندگی ادویات اور اسٹی میولینٹس کے ذریعے جسمانی تبدیلی پیدا کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ کام، صحت اور ایک صحت جسم کا نام ہے۔

ڈاکٹر آید علی الحمیدان

 منشیات اور تحلیلِ نفسی موادوں کے میدان میں بین الاقوامی ماہر

مزید پڑھیں >

24 دسمبر 2017

منشیات کی علت کا کنسلٹنٹ: ۶۲ لاکھ مصری شہری منشیات استعمال کرتے ہیں

منشیات کے علاج معالجے اور نفسیات کے کنسلٹنٹ ایہاب الخراط کہتے ہیں کہ نشہ آور موادوں کی علت کے معیاروں کے مطابق  مصر کے ۶ عشاریہ ۲ فیصد شہری نشہ آورموادوں کی علت کا شکار ہیں ۔

''صدائے بلد'' سیٹلائیٹ چینل پر منگل کی رات ''صلات التحریر'' نامی پروگرام میں بات کرتے ہوئے الخراط نے وضاحت کی کہ اس میدان میں کی جانے والے تازہ ترین تحقیق حال ہی میں شایع ہوئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس تحقیق میں مصرکی تمام گورنوریٹس سے تعلق رکھنے والے ۱۰۰۰۰۰ مصری شہریوں  کا مطالعہ کیا گیا اورپایا گیا کہ ان میں سے ۶ عشاریہ ۲ فیصد نشہ آورمواد استعمال کرتے ہیں۔

دوسری جانب ، الخراط نے صراحت کی کہ ۲۰۱۱ میں ۳۰ لاکھ مصری شہری منشیات استعمال کر رہے تھے ۔ انہوں نے ساتھ ہی اس کی بھی وضاحت کی کہ الکحل کی علت میں مبتلا ممالک میں امریکہ سب سے آگے ہے ۔ منشیات کے استعمال کی شرح فیصد ۵ سے ۸ فیصد کے درمیان ہے اورمصر اس شرح فیصد کے وسط میں ہے۔

یاد رہے کہ منشیات اور منظم جرائم کے خلاف لڑنے والے ادارے اور سوئز کینال کے تحفظ کے ذمہ دار جنرل ڈائریکٹوریٹ کے تعاون سے  ایک تجارت کشتی کے کنٹینر میں موجود تیس لاکھ اور ۷۵۰۰۰۰ نشہ آور گولیوں کو سمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا  گیا۔

مزید پڑھیں >

منشیات اور نشہ آور

چالیس سے زیادہ تر نشہ آور ادویات اور مواد کے غلط استعمال ، پیداواری ممالک، بڑے بڑے اثرات، علامیتیں اور علاج کے متعلق جانیں۔

ڈاکٹر سے پوچھیں۔

خواہ علت میں آپ مبتلا ہوں یا کوئی آپکا قریبی عزیز، اس قسم کی کسی بھی علت کے متعلق معلومات کے لیے آپ کی پہلی ترجیح۔