منشیات کے حوالے سے عالمی معلومات کا نیٹ ورک

ہماری جامع عالمی ڈائریکٹری کنسلٹ کریں

21 نومبر 2017

UNODC: Afghanistan should make drug control a national priority

The head of the United Nations Office on Drugs and Crime (UNODC), Yuri Fedotov, said Wednesday that Afghanistan should make drug control a national priority, and the international community should actively support the country in this area.

"It is essential that the international community provide more assistance to Afghanistan, and Afghanistan, of course, has to show political will, but that is not enough. The drug problem in Afghanistan must be made a national issue," Fedotov told Sputnik. Many things like corruption and crime are related to drugs.”

Fedotov pointed out that when Afghan authorities interpret the current situation in the field of the drug control, they often refer to the difficult political and security situation in their country, "This may be the cause, as we feel it in our Office on Drugs and Crime, and we were compelled to reduce our activities in Afghanistan; in fact, the work of our experts in the provinces was terminated, where they were previously working in the field of alternative development projects, and the staff only remained in Kabul, but we were also forced to reduce them, as the threats and security attacks on our office became more systematic. "

At the same time, Fedotov said that in order to finally solve the drug problem in Afghanistan, there was a need to work inside the country, as in other countries, like in Thailand for example.

"Without resolving the problems of Afghanistan, it will not be possible to completely stop the supply of drugs from this country, taking into consideration the nature of the border in the region," the head of the UNODC said.

Earlier today, the United Nations Office on Drugs and Crime (UNODC) presented a report on the opium production in Afghanistan at the UN headquarters in Vienna. The report’s results indicate an unprecedented growth in opium poppy cultivation - 63 per cent to 1,000 hectares ; therefore, opium production in Afghanistan in 2017 could reach 9,000 tons of opium equivalent.

It was also reported that the report had been coordinated with the Ministry of Drug Control in Afghanistan.

مزید پڑھیں >

20 نومبر 2017

پول: نصف سے زیادہ جرمن شہری گانجے کو قانونی بنائے جانے کے مخالف ہیں

ایک سروے میں ۶۳ فیصد جرمن شہریوں نے گانجے کے استعمال کی قانونی اجازت دیئے جانے کی مخالفت کردی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ۳۴ فیصد جرمن شہریوں نے  گانجے کی خریداری کی قانونی اجازت کی حمایت کی ہے۔ جرمنی کی سیاسی جماعتیں بھی اس مسئلے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔

ایک حالیہ پول میں پایا گیا کہ ۶۳ فیصد جرمن شہری گانجے کے قانونی استعمال کے مخالف ہیں ۔ جبکہ محض ۳۴ فیصدجوابدہ ہندوں کا خیال تھا کہ بالغ افراد کو یہ اجازت ہونی چاہیئے کہ وہ مخصوص دوکانوں سے ذاتی استعمال کے لیے گانجا خرید پائیں۔

جرمنی میں گانجے کو اپنے پاس رکھنا یا خرید کرنا ممنوع ہے،  تاہم رواں برس کے شروع سے ڈاکٹروں یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ بعض مریضوں کو درد کُش کے طور پر گانجا تجویز کرسکتے ہیں۔

اسی حوالے سے  فری ڈیموکریٹک پارٹی اور گرین پارٹی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ  جرمنی کی چانسلر ایجیلا مریکل کی جماعت کرسچین الائنس کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ حکومت بنائیں۔  تاہم یہ دونوں جماعتیں اپنی بات چیت کے دوران گانجے کے استعمال کو قانونی قرار دلوانے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ ایجنیلا مریکل کی جماعت گانجے کے استعمال کو قانون قرار دیئے جانے کی مخالف ہے۔

مزید برآں ، عمومی طور پر ۷۰ فیصد خواتین ، ۷۲ فیصد ۶۰ برس سے بڑی عمر کی خواتین اور  ۷۲ فیصد کرسچین ڈیموکریٹک الائنس (سی ڈی یو) اور سوشل ڈیموکریٹ (ایس پی ڈی)   کی حمایت کرنے والے گانجے  کو اپنے پاس رکھنے اور اس کی خریداری کے مخالف تھے۔ سروے کئے گئے ۵۶ فیصد مردوں کا کہنا تھا کہ وہ منشیات کو قانونی بنائے جانے کے مخالف ہیں۔

دوسری جانے ۳۰ برس سے کم عمر ۴۳ فیصد افراد  کے علاوہ لیفٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ۵۵ افراد ، گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے ۴۶ فیصد افراد اور ایلٹرنیٹو فار جرمن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ۴۱ افراد نے گانجے کو قانونی بنائے جانے کی  حمایت کی۔

۷ اور ۸ نومبر کو فورسا  ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے  ۱۰۰۰ جرمن شہریوں سے یہ  سروے  اور اس کے نتائج حاصل کئے گئے۔

مزید پڑھیں >

19 نومبر 2017

نبراس پروگرام کے ذریعے ۶۵ سعودی خواتین منشیات کے خلاف پیشہ ورانہ انداز میں لڑ رہی ہیں

نبراس پروگرام کے ذریعے پینسٹھ سعودی خواتین پیش ورانہ انداز میں لڑ رہی ہیں۔ منشیات کے خلاف جنگ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کے تعاون سے نیشنل پروجیکٹ فار دی پریویشن آف دی ڈرگز کی نمائندگی کرنے والے نیشنل کمیشن فار دی کنٹرول آف ڈرگز یا نبراس کی جانب سے  ''منشیات اور تحلیلِ نفسی موادوں سے بچاؤ کے خلاف تربیتی کاروں کی تیاری'' کے عنوان سے ایک تربیتی پروگرام کا احتمام کیا گیا۔ جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ۶۵ خواتین تربیت کاروں نے شرکت کی۔  یہ تقریب سیکریٹریٹ کے ہیڈکواٹر میں منعقد کی گئی۔

ڈائریکٹر آف ومنز پروگرام ایڈمنسٹریشن  محترمہ حنا عبداللہ الفریح نے وضاحت کی کہ س پروگرام کا مقصد تربیت ، تعلیم اور منشیات سے بچاؤ کے میدانوں میں ماہرین کو تریبت فراہم کرنا ہے۔ یہ سیشن ۵ یوم تک جاری رہے گا (جس میں مجموعی طورپر ۲۵ گھنٹے کی تربیت فراہم کی جائے گی)  جس میں تمام شعبوں سمیت بچوں کے شعبہ میں خصوصی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔

تر بیتی پروگرام: تربیت کاروں کی نشہ آورموادوں اور تحلیلِ نفسی موادوں کے بچاؤ کے میدان میں تیاری کروائی جائے گی۔

اس پروگرام  میں تربیت پانے والوں کے لیے دو پریزینٹیشن کو شامل کیا گیا ہے: اس میں پہلی منشیات کے میدان میں ریاست کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں وژوئل پریزینٹیشن اور دوسری نیشنل پروجیکٹ فار دی پریوینشن آف دی ڈگرز (نبراس) کے تعارف کے بارے میں تعارف  ہے۔بعد ازاں ریاض میں شعبہ تعلیم میں تعلیمی سپروائیزر محترمہ سحر عبدالرحمان عطیہ نے ابلاغ کی موّثر مہارتوں اورتربیت کے بارے میں خلاصہ پیش کیا کیوں کہ لوگوں تک دلچسپ معلومات پہنچانے کے لیے علاوہ ان کی بھی تربیت میں بنیادی اہمیت ہے۔

دوسری جانب اس پروگرام میں نشہ آورموادوں اور تحلیل نفسی موادوں کے استعمال پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور اس میں جنرل ڈائریکٹوریٹ فار کم بیٹنگ ڈرگ میں   خواتین کے سیکشن کے بہتری اور تربیت کے یونٹ کی ڈائریکٹر نوال منصور الزمل کے ساتھ مداخلت کی جائے گی۔ یہ پروگرام بچوں اور اقدار کے بارے میں لیکچر بھی پیش کرے گا۔ یہ لیکچر کنگ سعود یونیورسٹی مین فیکلٹی آف ایجوکیشن کی پروفیسر غدا احمد امر کی جانب سے پیش کئے جائیں گے۔

مزید پڑھیں >

18 نومبر 2017

فلاکا کے بارے میں آپ کو جو کچھ جاننا چاہیئے

فلاکا کو چین میں بنایاجاتا ہے اور حال ہی میں اس کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اس کو کوکین یا ہیروئن سے کہیں زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے اور حالیہ کچھ عرصے کے دوران اس کا پھیلاؤ بڑے ڈرامائی انداز میں ہوا ہے۔  یہ ایک انتہائی طاقتور نفسیاتی تحرک پیدا کرنے والی ہوتی ہے جواپنے استعمال کنندہ کو زومبی اورمردم خور بنادیتی ہے۔

فلاکا گولیاں کیا ہیں؟

فلاکا ایک طرح کی ایسی گولیاں ہیں جو ایک فرد کو مکمل طور پر حقیقت سے دور کردیتی ہیں۔ ان گولیوں کا سائنسی نام ''الفا-پی وی پی '' (ایلفا- پائرولڈانوویلروفینونن) ہے اور بعض مرتبہ ان کو گریوِ  بھی کہا جاتا ہے۔ شروع شروع میں فلاکا کو آن لائن سروس کے ذریعے انٹرنیٹ پر فروخت کیا جاتا تھا اور اس کو چین اور بھارت میں تیار کیا جاتا تھا۔ یہ منشیات نمک کے سفید دانوں کی طرح نظر آتی ہے اور یہ مختلف طرح کے کئی نقصاندہ کیمیاوی موادوں کا مکسچر ہوتا ہے۔ فلاکا گولیوں کو بھی دیگر منشیات کی طرح استعمال کیا جاتا ہے؛ برقی سگرٹ کے ذریعے تمباکو نوشی کر کے یا پھر روایتی طریقے سے جیساکہ سانس اندر کھینچ کر، سونگھ کر ، انجکشن کے ذریعے یا پھر ان گولیوں کو زبان کے نیچے رکھا جاتا ہے۔

انسانوں پر فلاکا کے اثرات

فلاکاا ستعمال کرنے والوں میں جو ایک بہت عام علامت پائی جاتی ہے وہ  شدید گرمی کا احساس ہوتا ہے، جس میں  جسم کی گرمی ۴۱ سلسیس تک بڑھ جاتی ہے۔  جسم میں پیدا ہونے والی  اس گرمی سے استعمال کنندہ میں عجیب طرح کے رویے پیدا ہوجاتے ہیں ، مثلاً کپڑے پھاڑنا یا پھر گلیوں میں اس خوف سے بھاگنا کہ گویا کوئی خطرناک جانور پیچھے لگا ہوا ہے۔ ایڈرینالین میں ہونے والے اضافے سے ان گولیوں کے استعمال کرنے والوں کو بہت زیادہ طاقت کا احساس ہوتا ہے۔ فلاکا گولیوں میں انتہائی زہریلے مواد بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے گردوں کو نقصان پہنچنےیا دل کی دھڑکن یا فشارِ خون میں اضافے کے باعث موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ اس سے شدیدقسم کی سماعت اور بصارت کی فریب نظر پیدا ہوتی ہیں جن سے بیش فعالی کے باعث تشدد یا پھر خود کشی کا امکان ہوتا ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں فلاکا گولیوں کے پھیلاؤ کے بعد، ریاستہائے متحدہ امریکہ کی رپورٹوں میں دکھایاگیاہے کہ ۲۰۱۳ میں اس کو ۳۸ لوگوں نے استعمال کیا۔  اس کے بعد یہ تعداد ۲۰۱۴ میں ۲۲۸ اور ۲۰۱۵ میں یہ تعداد ۲۷۵ تک پہنچ گئی۔ فلاکا کے استعمال کے اعدادوشمار امریکہ کی صرف چار ریاستوں تک محدود تھے: ٹیکساس، اوہایو، فلوریڈا اور ٹینیسی شامل تھیں۔ ان خوفناک اعدادوشمار کے بعد ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈرگ ایڈکشن نے وضاحت کی کہ اس نشہ آور مواد کے تین مرتبہ کے استعمال کے بعد ایک انسان اپنا پورا ہوش کھو دیتا ہے۔

یاد رہے کے فلوریڈا پولیس کا کہنا تھا کہ ۲۰۱۴ میں انہوں نے ایک شخص کوہلاک کرنے کا حکم دیا  گیا جو کم عمر نوجوانوں پر حملے کرکے ان کے چہروں پر کاٹ رہا تھا۔بعد ازاں پولیس نے پایا کہ اس شخص کی حرکات اور فلاکا گولیوں کے استعمال میں قوی تعلق پایا جاتا ہے۔

فلاکا گولوں پر کس طرح پابندی لگائی گئی؟

دی یو ایس فوڈ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کا کہنا ہے کہ یہ بہت مشکل ہے کہ ملک میں موجود نشہ آور فلاکا گولیوں کی نگرانی کی جائے کیوں کہ منشیات کی تجارت کرنے والے ان کو آن لائن منگواتے ہیں اور ڈاک کے ذریعے وصول کرتے ہیں۔ اس طرح کے سودے اس حقیقت کے باوجود کئے جا  رہے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں فلاکا گولیوں پر پابندی عائد ہے۔

دوسری جابن سعودی حکومت نے بھی رہنما اصول جاری کئے ہیں جو ''اوکاز'' اخبار میں شایع ہوئے ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ  اگر کوئی شخص فلاکا گولیوں کو درآمد یا برآمد کرے گا تو اس کو سزا دی جائے گی اور ان گولیوں کے درآمدکرنے والوں، بنانے والوں ، پیداکرنے والوں، استعمال کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

مزید پڑھیں >

16 نومبر 2017

علت : علت میں مبتلا ۵۰ فیصد افراد بغیر کسی مدد کے صحت یاب ہوجاتے ہیں

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ایک مطالعےمیں علت پر نظر ڈالی گئی اور اس پر بھی کہ علت میں مبتلا افرد کس طرح اس سے صحتیابی حاصل کرتے ہیں۔ اس میں پایا گیا کہ لگ بھگ نصف کے قریب جواب دہندوں نے تنہا ہی اپنی علت پر قابو پالیا تھا۔

تمباکو سے لیکر منشیات اور الکحل تک مختلف طرح کی علتیں ہوتی ہیں اور ان سے صحت یابی حاصل کرنا اکثر بہت مشکل ہوتا ہے۔ میساچیوسٹس سینٹرل ہاسپٹل ریکوری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایم جی ایچ) کے محققین نے ایک مطالعے کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ آیا علت میں مبتلا افرد کس طرح اپنی علت پر قابو پاتے ہیں۔ اس سروے میں شامل لگ بھگ نصف کے قریب  افراد نے خود ہی اپنی  علت پر قابو پایا تھا۔

علت کے شکار دو میں سے ایک  فردنے خود ہی قابو پایا

ان میں سے ۵۴ فیصد نے بتایا کہ انہوں نے اپنی منشیات اور الکحل کی علت پر  قابو پانے کے لیے اپنی مدد آپ کے گروہ جیسا کہ الکحالک انانیمس یا پھر نارکوٹکس انانیمس وغیرہ کے ذریعے مدد حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کے دوبارہ استعمال سے بچنے کے علاج معالجے بھی اکثر استعمال کئے جاتے ہیں اور ان میں سے ۲۰ فیصد نے صحت یابی کے لیے  سم ربائی کے مراکز یا پھر  کمیونٹی گروپس کو استعمال کیا ہے۔یہ نصف کے قریب علت میں مبتلا افراد کی نمائندگی کرتا ہے ، باقی ماندہ نے تنہا ہی اپنی علت پر قابو پایا ہے۔

تنہا کوشش کرنا ایک خراب حل نہیں ہے

تنہا ہی منشیات کی علت کا مقابلہ کرنا ایک ایسا خیال ہے جس کو عام لوگوں کی نظر قابلِ بھروسہ نہیں سمجھا جاتا۔

اس مطالعے کی سربراہی ریکوری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جان کیلی نے کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ،''عام لوگوں کی طرح کئی ڈاکٹر اور محققین بھی یہی سمجھتے ہیں کہ منشیات یا الکحل کے مسئلے کے حل کے لیے یہ  ضروری ہے کہ آپ منشیات سے بحالی کے مرکز جائیں، علاج معالجے کروائیں یا پھر الکحالک انانیمس جیسی تنظیموں کے پاس جائیں۔ ہماری تحقیق یہ دکھاتی ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جنہوں نے یہ راستہ اختیار کیا اور ساتھ ہی ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جنہوں یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اس موضوع کے لحاظ سے اپنے تناظر کو وسیع کرنا ہوگا۔''

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں لگ بھگ ۸۰ ملین افراد شراب نوشی یا پھر منشیات کی علت کا شکار ہیں۔ ان میں سے ۲۲ ملین افراد ایسے ہیں جو مکمل طور پر الکحل یا پھر اوپیڈز کی علت کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں >

15 نومبر 2017

نبراس: بندرگاہوں کے سرحدی گارڈز کے لیے تربیتی سیشن

نیشنل کمیشن فار دی کنٹرول آف نارکوٹک ڈرگز کے سیکریٹری جنرل ، اینتی ڈرگ پریوینٹ افیئرز کے ڈپٹی جنرل ڈائریکٹر اور ''نبراس'' منصوبے کے صدر محترم عبداللہ بن محمد الشریف نے  کہا ہے کہ سرحدوں پر موجود آمد ورفت کے تمام راستوں  پر موجود  سرحدی گارڈوں کے ملازمین کے لیے نبراس کئی تربیتی سیشنوں کا اطلاق کر رہی ہے جن میں تعلیم  اور تربیت فراہم کرنے کے علاوہ حساسیت بھی پیدا کی جائے گی۔

الشریف نے صراحت کی کہ سلطنت کو ایک شدید جنگ کا سامنا ہے جس میں منشیات کے ذریعے اس کے نوجوانوں کے ذہنوں اور صلاحیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لہٰذا یہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اس صورتحال کی سنجیدگی کو سمجھیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی لیڈرشپ کی حمایت کریں اور مادرِ وطن کے دشمنوں کے خلاف اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں ۔ اور ان تمام لوگوں کے خلاف اقدامات اٹھائیں جو ہمارے نوجوانوں کو منشیات اور منشیات کی علت کے شیطانی چکر میں پھنسا کر  ہمارے ملک کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ تقریر ''ایجوکیشنل فورم فار پریوینشن ان ملٹری انوائرنومینٹ'' کی سرگرمیوں کی افتتاحی تقریب کے دوران کی۔ یہ تقریب نشہ آوروں پر ضابطے کے قومی کمیشن کی نمائندگی کرنے والے منشیات سے بچاؤ کے قومی منصوبے ''نبراس'' کے تعاون سے ریاض میں قائم  بارڈر گارڈ جنرل ڈائریکٹوریٹ کے ہیڈ کواٹر میں  منعقد کی گئی۔

بارڈر گارڈز کی سیکورٹی اینڈ انٹیلی جنس سروس کے ڈائریکٹر میجر جنرل محمد چہری نے  ڈائریکٹر جنرل آف دی بورڈر گارڈ اور نشہ آوروں پر ضابطے کے قومی کمیشن کے ارکان کی جانب سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی گارڈ اپنی پوری قوت لگا کر فضائی، خشکی اور سمندری راستوں سے   ملک  اور اس کے  شہریوں کو  منشیات کے ان تاجروں سے  تحفظ  فراہم کرنے کی  بھرپور کوشش کرتے ہیں جو منشیات کی لعنت کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کو اپنا ہدف بناتے ہیں۔ فورم کی سرگرمیوں کا آغاز انسدادِ منشیات کی کوششوں کی وژوئل پریزینٹیشن اور نیشنل پروجیکٹ فار ڈرگ پریوینشن (نبراس) کی ایک ڈاکیومنٹری سے کیا گیا۔

مزید برآں، سائنسی سیشن کا آغاز ''منشیات کے نقصانات اور اس کے خطرات سے تحفظ کے طریقوں '' کے عنوان سے ایک کانفرنس سے کیا گیا ، جس کے بعد دو ورکنگ پیپر پیش کئے گئے ، جن میں سے پہلا  منشیات کی اقسام اور ان کی کیمیاوی ساخت کے بارے میں تھا جبکہ دوسرا   علاج معالجے اور بحالی  کے بارے میں تھا۔

مزید پڑھیں >

منشیات اور نشہ آور

چالیس سے زیادہ تر نشہ آور ادویات اور مواد کے غلط استعمال ، پیداواری ممالک، بڑے بڑے اثرات، علامیتیں اور علاج کے متعلق جانیں۔

ڈاکٹر سے پوچھیں۔

خواہ علت میں آپ مبتلا ہوں یا کوئی آپکا قریبی عزیز، اس قسم کی کسی بھی علت کے متعلق معلومات کے لیے آپ کی پہلی ترجیح۔

GINAD

Poll: More than half of Germans are opposed to #cannabis legalization https://t.co/TexhOWrry2 https://t.co/dV0V9ThlQR

21 نومبر 2017

پول: نصف سے زیادہ جرمن شہری #گانجے کو قانونی بنائے جانے کے مخالف ہیں https://t.co/HRTRoB4VFN https://t.co/JL2E0yPmfM

21 نومبر 2017

Sondage: Plus de la moitié des Allemands s'opposent à la légalisation du #cannabis https://t.co/Ljy8vD27iN https://t.co/ICiKfPwo5a

21 نومبر 2017

استطلاع: أكثر من نصف الألمان يعارضون تقنين تعاطي #القنب https://t.co/WcImqR8Ic3 https://t.co/nm2Fd9HhQd

21 نومبر 2017

65 Saudi women fight #drugs professionally through the #Nebras program https://t.co/qiBuMpS7Oo https://t.co/sFJ3LH1d7L

20 نومبر 2017