25 دسمبر 2017

منشیات کے ایک بین الاقوامی ماہر اینابالک اسٹرائڈز کے خلاف خبردار کرتے ہیں

دوسرے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے یا اپنی تعریف کروانے کے غرض سے پٹھوں کو بڑھانے کے لیے اسٹرائڈز کے استعمال کے خلاف کئی ماہرین خبردار کرتے ہیں۔ سب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ عموماً اسٹرائڈز کا صحت پر براہِ راست نقصاندہ اثر پڑتا ہے ۔چاہے ان کو منہ کے ذریعے استعمال کیا جائے یا پھر انجکشن کے ذریعے ان سے خطرناک بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں، جن میں سرطان اور بانجھ پن وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اس سے خون میں شکر کی مقدار میں کمی واقع ہوسکتی ہے یا پھر تھائیراڈ کے کام کرنے میں بھی کمی آسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف کویت میں کئے گئے ایک مطالعے میں پایا گیا کہ مصنوعی اسٹرائڈ ہارمون کا استعمال سرطان ، بانجھ پن اور صلابت جگر کا باعث بن سکتا ہے۔

اس مطالعے میں دکھایا گیا ہے کہ ہیلتھ کلب جانے والے ۳۰ فیصد نوجوان اپنےجسم پر پڑنے والے منفی اثرات کے باوجود ہارمونز اور اسٹرائڈز کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے استعمال سے جگر کے خلیوں کو نقصان پہنچتا ہےاور تولیدی مادے میں کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ یہ مثانے کے غدود کو بڑا کرتا ہے اور چھاتی میں سوجن کا باعث بنتا ہے۔ کلبوں میں نوجوانوں میں ہارمونز کے استعمال کے پھیلاؤ کا تعین کرنے کے لیے یونیورسٹی آف کویت کے کالج آف لائف سائنسز کے غذا اور غذائیت کے پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد رفی نے ایک مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے میں دکھایا گیا ہے کہ ہارمونز استعمال کرنے والے ۷۷ فیصد نوجوانوں کی عمریں ۲۹ برس سے کم ہوتی ہیں اور ان میں سے اکثر نے صرف ثانوی درجے تک تعلیم حاصل کی ہوتی ہے یا پھر اس سے بھی کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔

اس مطالعے میں یہ بھی پایا گیا  ہے کہ ہارمون استعمال کرنے والے اس طرح کی مصنوعات پر ماہانہ  ۲۰۰ کویتی دیناروں کے برابر خرچ کرتے ہیں اور یہ کہ ۴۲ فیصد نوجوان کسی دوافروش یا خاص دوکانوں کے بجائے اسٹرائڈز براہِ راست اسپورٹس کلبز پر کام کرنے والے کوچ سے ہی خریدتے ہیں۔

دوسری جانب قدرتی ہارمونز میں بھی پے چیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں جن سے دماغ میں موجود پیچوئریٹی گلینڈز کے کام کرنے میں خرابی کے باعث بانجھ پن پیدا ہوتا ہے ۔ دیگر گلینڈز مثلاً ایڈرنل گلینڈز ، تھائیرائڈ گلینڈز  اور لبلبے میں بھی پے چیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا اینابالک اسٹرائڈ  استعمال کرنے والوں کو لامحالہ ان تینوں گلینڈز میں شدید بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں اور یہ اپنا کام بھی درست انداز میں انجام نہیں دے پاتے۔ یہ اثرات محض بانجھ پن تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ آگے چل کر جسم میں کمزوری پیدا ہوتی ہے اور اس سے سرطان بھی پیدا ہوتاہے۔ مزیدبرآں، ان موادوں کے استعمال سے جو نقصانات ہوتے ہیں ان میں پٹھوں کے وزن میں اضافے کے ساتھ جسمانی وزن میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور اس سے دل کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور دل کے پٹھوں پر پڑنے والے دباؤ کے باعث دیگر پٹھوں میں کمزور ی آجاتی ہے۔ اسٹرائڈز سے جسمانی ہیت میں بھی تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے، قوتِ باہ میں کمی  کے ساتھ ساتھ بے خوابی اور ذہنی اور اعصابی تناؤ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

عزیز نوجوانوزندگی ادویات اور اسٹی میولینٹس کے ذریعے جسمانی تبدیلی پیدا کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ کام، صحت اور ایک صحت جسم کا نام ہے۔

ڈاکٹر آید علی الحمیدان

 منشیات اور تحلیلِ نفسی موادوں کے میدان میں بین الاقوامی ماہر

مزید نتائج لوڈ کررہا ہے۔