28 دسمبر 2017

عالمی ادارہ صحت: تمباکو نوشی سے ہر برس ۷۰ لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں

عالمی ادارہ صحت نے آج ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ تمباکو بنانے والی کمپنیاں نئی سےنئی مصنوعات منڈی میں لا رہی ہیں اور ان میں دعوے کئے جا  رہے ہیں کہ یہ کم نقصاندہ ہیں۔ مثلاً ایسی مصنوعات جن میں ''تمباکو کو آگ دکھا کر جلانے کے بجائے گرم کیا جاتا ہے''، تاکہ تمباکو نوشی کو بھاپ بنا کر نکوٹین کی بنیاد پر ایروسال پید ا کئے جائیں اور ان تنظیموں کی مالی مدد کی جائے جو تمباکو سے پاک دنیا بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

اس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ دنیا کو اسی طرح کے تجربات کچھ دیگر ممالک میں بھی ہوئے ہیں جن  میں یوراگوئے سے لیکر آسٹریلیا  تک شامل ہیں ، جن میں تمباکو بنانے والی کمپنیاں اپنی مہلک مصنوعات کو قانونی بنانے کے لیے مہنگے قانونی چیلنج پیش کرتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نقصانات کے باوجود یہ کمپنیاں تمباکو پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے نئے طریقے تلاش کرتی رہیں گی۔

مزیدبرآں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے میڈیا میں وفاقی عدالت کے نمائندوں کی جانب سے جاری کئے جانے والے ''اصلاحی بیانات'' یقیناً سچائی کی فتح ہیں ۔ یہ پیغام منظم جرائم پیشہ گروہوں سے لڑنے کے وفاقی قانون کے تحت ۱۹۹۹ میں امریکہ کے محکمہ انصاف کی جانب سے ایک مقدمہ  کے نتیجے میں  نکلا ہے۔۲۰۰۶ کے بعد سے دہائی تک جاری رہنے والی مقدمہ بازی اور اپیل کے دوران  اس مقدمے کا فیصلہ اکتوبر ۲۰۱۷ دیاگیا تھا ۔

اس رپورٹ میں موجود ڈیٹا میں تمباکو نوشی کے صحت پر پڑنے والے بل واسطہ اور بلا واسطہ نقصاندہ اثرات کی وضاحت کی گئی ہے، جن میں مندرجہ ذیل حقائق شامل ہیں: کم ٹار والے ''ہلکے'' سگرٹ عام سگرٹوں سے کم نقصاندہ نہیں ہیں؛ تمباکونوشی اور نکوٹین علت میں مبتلا کردیتی ہے، سگرٹوں کو ''جان بوجھ'' کر نقلی بنایا گیا تاکہ ''زیادہ سے زیادہ نکوٹین سانس کھینچ کر لی جائے۔''

رپورٹ  میں کہا گیا ہے کہ سگرٹ بنانے والے تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی مصنوعات سے صرف  ریاستہائے متحدہ امریکہ میں  روازنہ ۱۲۰۰ افرادموت کےمنہ میں چلے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں سالانہ ۷۰ لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمیں اپنے عزم کو مضبوط رکھنا ہے: ہمارے دوممالک کی طرح دنیا کی ایسی دیگر حکومتیں اور تنظیمیں  بھی ہیں جنہوں نے تمباکو نوشی کے خلاف جنگ کااعلان کر رکھا ہے اور تمباکو بنانے والی بڑ ی کمپنیوں کو شکست دینے تک وہ اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔

اگر ملک کے رہنماء اور صحت اور مالیات کے وزراء اس بارے میں تذبذب کا شکار ہیں کہ تمباکو کی مصنوعات کو ضابطے میں رکھنے کے لیے کون سے اقدامات کرنے ہیں، تمباکو نوشی بنانے والی بڑی کمپنیوں کے اعتراف اور مندرجہ ذیل سوال کا جواب دینے میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں شکوک کو شبہات: زیادہ سے زیادہ عمل کی ضرورت۔ اپنے شہریوں کو تمباکو نوشی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ممکنہ طور پر مضبوط ترین ضروری اقدامات اٹھانے کے سلسلے میں حکومتوں کو قانونی اوراخلاقی طور پر مسائل کا سامناہے۔

اس کے علاوہ عالمی ادارہ محنت کا کنوینشن  منشیات پر ضابطے کے موضوعات کے بارے میں ہدایات دیتا ہے، جن میں ٹیکس، عوامی آگاہی، تعلیم اور اجتماعی تنبیہ وغیرہ کے بارے میں موضوعات شامل ہیں۔  گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس طرح کے اقدامات سے لاکھوں زندگیاں بچانے میں مدد ملی ہے اور اس کے علاوہ صحت پرآنے والی لاگت میں بھی اروبوں ڈالر بچائے گئے ہیں۔

تاہم اس سلسلے میں بہت کچھ کئے جانے کی گنجائش موجود ہے اور ہم دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمباکو پر ضابطے کے طریقہ کار کی رفتار تیز کرنے ، تمباکو سے لڑنے کے اقدامات کے اطلاق اور ملکی سطح پر کنویشن کے اطلاق کے لیے عالمی ادارہ صحت کے تمباکو نوشی پر ضابطے کے کنویشن کو اپنے ہاں لاگو کریں۔ یہ کنویشن اور اقدامات مشترکہ طور پر تمباکو نوشی کی   صحت کے خلاف ایک مضبوط دفاع فراہم کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ پروٹوکول ٹو کمبیٹ ال سِٹ ٹریفکنگ ان ٹوبیکو پروڈکٹس کی حکومتوں کی جانب سے معاونت کی جائے اس کا مقصد غیر قانونی تجارت مثلاً سمگلنگ وغیرہ کی روک تھام ہے۔ حالانکہ یورپی یونین اور ۳۳ دیگر ممالک نے اس پروٹوکول پر دستخط کر کھے ہیں ، تاہم اس کے لاگو کئے جانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دیگر ۷ ممالک بھی اس کی حمایت کریں۔

آخر میں یہ کے غیر متعدی بیماریوں کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ۲۰۱۸ کے روشنی میں دنیا کے رہنماؤں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ لوگوں کو دل، پھیپھڑوں، سرطان اور زیابیطس وغیرہ جیسے امراض سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمباکو کے لیے اعلیٰ ترین معیاروں کی حمایت کریں۔

حالیہ اعترافات کے بعد تمباکو بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے بارے میں درست ترین معلومات فراہم کریں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کمپنیوں نے ہم سب سے کہا ہے کہ ان کے مصنوعات کے استعمال کو ترک کردیا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس مجوزہ مشورے کو تسلیم کرلیں کیوں کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ہے: اس سے ہر سال لاکھوں لوگ موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس سے صحت کے لیے بھی خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تمباکو بنانے والی کمپنیاں ایک لمبے عرصے سے ہم سے ان نقصانات کو چھپاتی رہی ہیں جن سے صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔

لیکن اب تمباکو  بنانے والی بڑی کمپنیوں کو بھی مجبور کردیا گیا ہے کہ وہ حقائق کو عام لوگوں کے سامنے لائیں۔ ۲۰۰۶ میں ریاستہائے متحدہ امریکہ وفاقی عدلیہ میں فیصلے کو ہارنے کےبعد چار کمپنیوں کو امریکی ٹیلی وژن اور اخبارات میں ''اصلاحی بیانات'' میں ان سالوں سے انہوں نے جو اپنے اشتہارات کے پیچھے سچ کو چھپا کر کھا ہے اس کو پیش کرنا ہوگا۔ ان بیانات میں   تمباکو بنانے والی امریکی کمپنیوں ''فلپ مورس''، ''رینالڈ ٹوبیکو''، لاری لارڈ'' اور ''الٹریا'' کو لازمی طور پر یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ انہوں نے ان کی مصنوعات سے پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں آگاہی کے باجود بھی ان کی فروخت کو جاری رکھا۔

مزید نتائج لوڈ کررہا ہے۔