31 دسمبر 2017

اوپیڈز کے باعث ریاستہائے متحدہ امریکہ میں متوقع عمر میں نئی کمی

منشیات سے متعلق ہونے والی اموات، بلخصوص اوپیڈز کے زیادہ مقدار میں استعمال سے  ہونے والی اموات کی وجہ سے امریکیوں کی متوقع عمر میں ۲۰۱۶ میں مسلسل دوسرے برس بھی کمی ہوئی۔۱۹۶۰ سے اس طرح کی کمی کی نظیر اس سے پہلے نہیں ملتی۔

 سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کی جانب سے شایع کردہ اعدادوشمار کے مطابق۲۰۱۵  میں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پیدائش کے وقت متوقع عمر ۷۸ عشاریہ ۷ برس تھی جبکہ اس کے مقابلے میں ۲۰۱۶ میں اس میں ایک ماہ کمی ہوئی اور یہ ۷۸ عشاریہ ۶ برس ہوگئی  اور ۲۰۱۴ میں یہ ۷۸ عشاریہ ۹ برس تھی۔

سی ڈی سی سینٹر میں اعدادوشمار کے ڈائریکٹر رابرٹ اینڈرسن کا کہنا تھا کہ ''۱۹۶۰ کے ابتداکے بعد سے یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں مجموعی طور پر متوقع عمر میں مسلسل دوبرسوں میں کمی ہوئی ہے۔'' انہوں نے وضاحت کی کہ ''اس میں سب سے اہم عوامل منشیات کے زیادہ مقدار میں ہونے والی اموات ہیں''۔  ایک لمبے عرصے سے زیادہ مقدار میں ہونے والی اموات سے دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات کو برابر کر رہی تھیں تاہم یہ کمی اب آہستہ ہوگئی ہے۔''

اکتوبر کے اخیر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوپیڈ کی علت کو صراحت ''صحت کی ہنگامی صورتحال'' کے طور پر کی اور انہوں نے اس ''لعنت '' کے خاتمے کا بھی وعدہ کیا ، ساتھ ہی انہوں نے زور بھی دیاکہ ''اس میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔''

تخمیناً ۲۰ لاکھ امریکی اوپیڈز کی علت میں مبتلا ہیں ۔ اس مانع افسردگی کی ادوایات مثلاً فینٹالن اور آکسی کوٹین شامل ہیں اس کے علاوہ اس میں ہیروئن جیسی منشیات بھی شامل ہے جس میں دیگر طرح کے مواد بھی شامل ہوتے ہیں۔

۲۰۱۵ میں متوقع عمر میں کمی کو اوپیدز کے بحران سے منسوب سمجھا گیا اور اس کو پہلی مرتبہ ۲۰۱۳ میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ۲۰۱۶ میں منشیات کے زیادہ مقدار میں استعمال سے ۶۳۶۰۰ اموات ریکارڈ کی گئی یعنی روزانہ ۱۷۴ ہلاکتیں۔یہ ۱۰۰۰۰۰ میں سے ۱۹ عشاریہ ۸ افراد بنتے ہیں ۲۰۱۵ کے مقابلے میں یہ ۲۰ فیصد کا اضافہ ہے (۱۰۰۰۰۰ افراد میں سے ۱۶ عشاریہ ۳ )۔ یہ ۱۹۹۹ کے بعد سے تین گنا کی شرح سے اضافہ ہے (۱۰۰۰۰۰ میں سے ۶ عشاریہ۱)۔

 ۲۵ اور ۵۴ برس کی عمر کے درمیان بالغ افراد میں یہ ۱۰۰۰۰۰ فی ۳۵ کی شرح سے ہے۔ علت کی پالیسی کے گروپ کا کہنا تھا کہ ''سی ڈی سی سینٹرز کی جانب سے شایع کئے گئے یہ افسوسناک اعداوشمار اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ علت کی وجہ سے ہم امریکی شہریوں کی ایک نسل کھو رہے ہیں ، حالانکہ اس بیماری سے بچنا ممکن ہے''

مزید نتائج لوڈ کررہا ہے۔